🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الأنبياء
الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَیۡبِ وَ ہُمۡ مِّنَ السَّاعَۃِ مُشۡفِقُوۡنَ ﴿۴۹﴾
جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور وہ قیامت سے ڈرنے والے ہیں۔[49]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
49۔ جو اپنے پروردگار سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور وہ روز قیامت [44] سے ڈرتے رہتے ہیں۔
[44] اگرچہ یہ کتاب سب لوگوں کے لئے نازل کی گئی تھی۔ مگر اس سے فائدہ اور نصیحت تو صرف ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو اللہ پر بن دیکھے ایمان لاتے ہیں اور اس کی ہدایت کے طالب ہوتے ہیں اور آخرت کے دن اللہ کے حضور پیش ہونے اور اپنے اعمال کی باز پرس سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اور انھیں بروقت یہی فکر دامن گیر رہتی ہے اور باز پرس کی فکر نہیں۔ اس دنیا میں انتہائی محتاط زندگی گزارنے پر آمادہ کرتی رہتی ہے۔