🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الأنبياء
وَ زَکَرِیَّاۤ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗ رَبِّ لَا تَذَرۡنِیۡ فَرۡدًا وَّ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡوٰرِثِیۡنَ ﴿ۚۖ۸۹﴾
اور زکریا کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا اے میرے رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو ہی سب وارثوں سے بہتر ہے۔[89]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
89۔ اور زکریا کو بھی، جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا: اے میرے پروردگار! مجھے تنہا نہ چھوڑنا اور بہترین وارث [79] تو تو ہی ہے
[79] حضرت زکریاؑ اور ان کا اولاد کے لئے اپنے پروردگار کو پکارنے کا ذکر پہلے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 37 اور سورۃ مریم کی ابتداء میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ وہاں سے حواشی دیکھ لئے جائیں۔