🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة النمل
وَجَدۡتُّہَا وَ قَوۡمَہَا یَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ فَصَدَّہُمۡ عَنِ السَّبِیۡلِ فَہُمۡ لَا یَہۡتَدُوۡنَ ﴿ۙ۲۴﴾
میں نے اسے اور اس کی قوم کو پایا کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال مزین کر دیے ہیں، پس انھیں اصل راستے سے روک دیا ہے، پس وہ ہدایت نہیں پاتے۔[24]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
24۔ میں نے (یہ بھی) دیکھا کہ وہ خود اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے لئے ان کے اعمال [25] کو آراستہ کر کے انھیں راہ (حق) سے روک دیا ہے، لہذا وہ راہ (حق) نہیں پا رہے۔
[25] اہل سبا کی سورج پرستی:۔

یعنی یہ لوگ سورج پرست بھی ہیں اور آخرت کے منکر بھی۔ لہٰذا وہ اپنی ساری کوششیں زیادہ سے زیادہ دولت کمانے اور اپنا معیار زندگی بلند کرنے میں صرف کر رہے ہیں۔ اور اسی کام کو اپنی زندگی کا منتہائے مقصد سمجھے بیٹھے ہیں اور شیطان نے انھیں یہی بات سمجھائی ہے کہ ان کی عقلی اور فکری قوتوں کا یہی بہترین مصرف ہے کہ وہ اپنی اس دنیا کی زندگی کو زیادہ سے زیادہ شاندار بنائیں۔