اور اسے اس چیز نے روکے رکھا جس کی عبادت وہ اللہ کے سوا کرتی تھی، بلاشبہ وہ کافر لوگوں میں سے تھی۔[43]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
43۔ ملکہ کو (ایمان لانے سے) ان چیزوں نے روک رکھا [41] تھا جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتی تھی کیونکہ وہ ایک کافر قوم سے تھی۔
[41] اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد سمجھایا جائے۔ جیسا کہ ترجمہ میں بیان ہوا ہے اس لحاظ سے اس کا معنی یہ ہو گا کہ چونکہ اسے ماحول کافرانہ اور مشرکانہ ملا تھا۔ لہٰذا وہ بھی قوم کی دیکھا دیکھی سورج کی پرستش کرنے لگی تھی۔ ورنہ اگر وہ کچھ بھی عقل سے کام لیتی تو ایسے شرک میں مبتلا نہ ہوتی۔ اور دوسرا مطلب ہے کہ اس جملہ کو حضرت سلیمانؑ کا فعل تسلیم کیا جائے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہو گا کہ سلیمانؑ نے بلقیس کو ان تمام چیزوں کی پرستش سے روک دیا جن کی وہ اپنے زمانہ کفر میں پرستش کیا کرتی تھی۔