🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة فاطر
اَفَمَنۡ زُیِّنَ لَہٗ سُوۡٓءُ عَمَلِہٖ فَرَاٰہُ حَسَنًا ؕ فَاِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ۫ۖ فَلَا تَذۡہَبۡ نَفۡسُکَ عَلَیۡہِمۡ حَسَرٰتٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا یَصۡنَعُوۡنَ ﴿۸﴾
تو کیا وہ شخص جس کے لیے اس کا برا عمل مزین کر دیاگیا تو اس نے اسے اچھا سمجھا (اس شخص کی طرح ہے جو ایسا نہیں؟) پس بے شک اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اورہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے، سو تیری جان ان پر حسرتوں کی وجہ سے نہ جاتی رہے۔ بے شک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔[8]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
8۔ بھلا جس شخص کا برا عمل خوشنما بنا دیا جائے اور وہ اسے اچھا سمجھنے لگے [12] (اس کی گمراہی کا کوئی ٹھکانہ ہے)؟ اللہ تعالیٰ (اسی طرح) جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ لہذا آپ ان پر افسوس کے مارے اپنے آپ کو ہلکان نہ کریں، جو کچھ وہ کر رہے اللہ یقیناً انہیں خوب جاننے والا ہے
[12] کافروں کے ایمان نہ لانے پر آپ کا پریشان رہنا:۔

اس آیت میں ایک جملہ محذوف ہے جسے قاری کے فہم و بصیرت پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اور یہ فصاحت و بلاغت کی دلیل ہوتی ہے۔ اور قرآن میں ایسے محذوفات بکثرت پائے جاتے ہیں۔ یہاں سوال یہ کیا گیا ہے کہ بھلا ایسا شخص جس کے ذہن میں اتنا بگاڑ پیدا ہو چکا ہو کہ اس کے نزدیک نیکی اور بدی کی تمیز ہی ختم ہو جائے اور اسے اپنی بد اعمالیاں ہی اچھے اعمال نظر آنے لگیں، اس سوالیہ جملے کا اگلا حصہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ جو ایک تو یہ ہو سکتا ہے کہ اس کی گمراہی کا کوئی ٹھکانا ہے؟ جیسا کہ ترجمہ میں (بریکٹوں میں لکھ دیا گیا ہے) اور دوسرا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کیا ایسے بگڑے ہوئے ذہن والا آدمی اس آدمی کی طرح ہو سکتا ہے جس کا ذہن بالکل درست ہو جو برے کام کو برا ہی سمجھتا ہو اور اچھا صرف اسے سمجھتا ہو جو فی الواقع اچھا ہو؟ اور اس کا واضح جواب یہ ہے کہ یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ مقصود یہ ہے کہ جس شخص کا ذہن اس قدر بگڑ چکا ہو کہ اس میں بدی کو بدی سمجھنے کی اہلیت ہی باقی نہ رہ گئی ہو ایسے شخص کو اللہ کبھی ہدایت کی راہ نہیں دکھاتا۔ اللہ تو صرف اسے ہدایت کی راہ دکھاتا ہے جو کم از کم بدی کو بدی سمجھتا تو ہو۔ اور ان مشرکین مکہ کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ وہ مسلمانوں پر جس قدر بھی ظلم ڈھائیں۔ وہ اپنے اس ظلم و تشدد کو خوبی اور اچھا کام ہی سمجھتے ہیں۔ پھر انہیں ہدایت کیسے مل سکتی ہے لہٰذا ایسے ذہنی بگاڑ میں مبتلا مریضوں کی ہدایت کی فکر میں اپنے آپ کو ہلکان نہ کریں۔ ایسے لوگوں پر افسوس کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے وہ خود ان سے نمٹ لے گا اور مسلمانوں کے لئے ان ظالموں کے ظلم سے نجات کی راہ خود پیدا کر دے گا۔