اور ان پر برابر ہے، خواہ تو انھیں ڈرائے، یا انھیں نہ ڈرائے، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔[10]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
10۔ آپ انہیں ڈرائیں یا [10] نہ ڈرائیں ان کے لئے یکساں ہے۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے
[10] یہ حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی شخص اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ کوئی معقول سے معقول دلیل سننے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور ’میں نہ مانوں‘ کی خصلت اس میں پختہ ہو جاتی ہے لیکن وہ دل میں حقیقت کو تسلیم کر لینے کے باوجود زبان سے انکار کر دیتا ہے۔ یہی کیفیت ہوتی ہے جب اس پر کوئی نصیحت اور ہدایت کی بات کارگر ثابت نہیں ہوتی۔ اور اسی کیفیت کو اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر دلوں پر مہر لگا دینے سے تعبیر فرمایا ہے۔