اور اسی طرح ہم نے تجھ سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر اس کے خوش حال لوگوں نے کہا کہ بے شک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا اور بے شک ہم انھی کے قدموں کے نشانوں کے پیچھے چلنے والے ہیں۔[23]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
23۔ اسی طرح ہم نے کسی بستی میں جو بھی ڈرانے والا بھیجا تو اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقے [22] پر پایا اور ہم ان کے نقش قدم کی اقتدا کر رہے ہیں۔
[22] تقلید آباء کے مؤید مترفین کا طبقہ ہوتا ہے:۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تقلید آباء کے سب سے زیادہ مؤید اور اس پر اصرار کرنے والے کھاتے پیتے لوگ ہوتے ہیں یعنی جو آسودہ حال اور چودھری قسم کے لوگ ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ رسول کی بات مان لیں تو انہیں اپنی اس چودھراہٹ کے منصب سے نیچے اتر کر عام لوگوں کی صف میں شامل ہونا اور رسول کا مطیع بن کر رہنا پڑتا ہے۔ اور اس کی دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ رسول ان کے کسب معاش کے طریقوں پر بھی کئی طرح کی پابندیاں لگاتا ہے۔ مال و دولت کے کمانے پر بھی اور اس کے خرچ کرنے پر بھی۔ اگر یہ پابندیاں گوارا کر لیں تو ان کی آسودہ حالی ہی خطرہ میں پڑ جاتی ہے۔ لہٰذا وہ اپنی عاقبت اسی میں سمجھتے ہیں کہ تقلید آباء پر ڈٹ جائیں اور عوام کو اپنے ساتھ ملائے رکھیں۔