اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تو اس نے کہا بے شک میں تمام جہانوں کے رب کا بھیجا ہوا ہوں۔[46]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
46۔ اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں [45] دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو موسیٰ نے جا کر کہا کہ: میں پروردگار عالم کا رسول ہوں
[45] یہاں موسیٰؑ کا ذکر اس نسبت سے آیا ہے کہ فرعون بھی اپنے مقابلہ میں موسیٰؑ کو حقیر سمجھتا تھا۔ جس طرح کہ قریش مکہ اپنے سرداروں کے مقابلہ میں رسول اللہ کو حقیر سمجھ رہے تھے اور انہیں بتایا یہ جا رہا ہے کہ بالآخر فرعون اللہ کے عذاب سے تباہ ہوا اور موسیٰؑ کو اللہ تعالیٰ نے نجات اور کامیابی عطا فرمائی۔ تم اگر سمجھو تو تمہارا بھی ایسا ہی حشر ہونے والا ہے۔