تو کیا حال ہو گا جب فرشتے ان کی روح قبض کریں گے، ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر مارتے ہوں گے۔[27]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
27۔ پھر اس وقت ان کا کیا حال ہو گا جب فرشتے ان کی روح قبض کریں گے تو ان کے چہروں اور پشتوں [31] پر مار رہے ہوں گے
[31] موت سے فرار ناممکن ہے اور عذاب قبر کا ثبوت:۔
یعنی آج تو جہاد سے گریز کی راہ اختیار کر کے اپنی جانوں کو بچانے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں مگر اس دن اپنے آپ کو کیسے بچا سکیں گے جب فرشتے ان کی جان نکالنے کے لیے آئیں گے اور لوہے کے گرزوں سے انہیں خوب مار رہے ہوں گے۔ یہ آیت بھی منجملہ ان آیات کے ہیں جن سے عذاب قبر یا عذاب برزخ ثابت ہوتا ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ عذاب قیامت کے دن کے عذاب سے پہلے ہو گا۔ قیامت کے عذاب کی نسبت سے ہلکا ہو گا اور مرنے کے ساتھ ہی شروع ہو جائے گا۔