🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الذاريات
قَالَ فَمَا خَطۡبُکُمۡ اَیُّہَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿۳۱﴾
کہا تو اے بھیجے ہوئے (قاصدو!) تمھارا معاملہ کیا ہے؟[31]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
31۔ ابراہیم نے ان (فرشتوں) سے پوچھا: اے فرستادگان الٰہی! تمہارا کیا مقصد [25] ہے؟
[25] ﴿خَطْب﴾ کا لغوی مفہوم:۔

﴿خَطْب﴾ بمعنی حال، معاملہ، مقصد خواہ چھوٹا ہو یا بڑا اور یہ لفظ عام طور پر کسی ناپسندیدہ معاملہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یعنی جب سیدنا ابراہیمؑ کو یہ معلوم ہو چکا تھا کہ یہ فرشتے ہیں اور فرشتے انسانی شکل میں غیر معمولی حالات میں ہی آیا کرتے ہیں۔ بیٹے کی بشارت سے ان کا اپنا ڈر تو دور ہو گیا تاہم ابھی اصل حیرت کا معاملہ باقی تھا۔ لہٰذا آپ نے فرشتوں سے پوچھا کہ آپ کس مہم پر تشریف لائے ہیں اور کیا مقصد ہے؟