🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الذاريات
قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰی قَوۡمٍ مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿ۙ۳۲﴾
انھوں نے کہا بے شک ہم کچھ گناہ گار لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں۔[32]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
32۔ وہ کہنے لگے ہم ایک مجرم قوم [26] کی طرف بھیجے گئے ہیں۔
[26] ذکر قوم لوط:۔

یہ مجرم قوم، قوم لوط تھی جس کے تعارف کے لیے مجرم قوم ہی کہہ دینا کافی ہے۔ کیونکہ وہ مجسم مجرم تھی۔ اللہ کے ساتھ شرک کرتی تھی۔ لواطت کی بانی اور موجد تھی۔ مسافروں سے لواطت کر کے ان کا مال اسباب چھین کر اپنی بستی سے چلتا کر دیتی تھی۔ آخرت کی اور رسولوں کی منکر تھی اور اپنے نبی کو اپنی بستی سے نکال دینے کی دھمکیاں دیتی تھی۔ غرضیکہ وہ ہر طرح کے کفر و شرک اور فسق و فجور میں مبتلا قوم تھی۔