🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة النجم
مَا زَاغَ الۡبَصَرُ وَ مَا طَغٰی ﴿۱۷﴾
نہ نگاہ ادھر ادھر ہوئی اور نہ حد سے آگے بڑھی۔[17]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
17۔ نہ (اس کی) نظر چندھیائی [10] اور نہ آگے نکل گئی
[10] بیری کے اس درخت پر اللہ تعالیٰ کے انوار و تجلیات پڑ کر انتہائی خوشنما منظر پیش کر رہے تھے جس سے آنکھیں چکا چوند ہوتی جاتی تھیں لیکن اتنے انوار و تجلیات کے باوجود جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں چندھیائیں اور نہ ہی نگاہ ایک طرف ہٹ کر، یعنی اس نظارہ کے مقابلہ کی تاب نہ لاتے ہوئے ادھر ادھر چلی گئی۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیک طرح سے جبریل کو دیکھا تھا اور اللہ تعالیٰ کو جو کچھ دکھانا منظور تھا، وہی کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تھا۔ اسی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظریں جمی رہیں ادھر ادھر نہیں گئیں۔