🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الواقعة
وَ کَانُوۡا یُصِرُّوۡنَ عَلَی الۡحِنۡثِ الۡعَظِیۡمِ ﴿ۚ۴۶﴾
اور وہ بہت بڑے گناہ (شرک) پر اڑے رہتے تھے۔[46]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
46۔ اور گناہ عظیم پر اڑے [24] ہوئے تھے
[24] حنث عظیم کا مفہوم:۔

حنث سے مراد ایسا گناہ ہے جس کا تعلق عہد و پیمان یا قسم توڑنے سے ہو۔ اور ایسے گناہ سب کے سب کبیرہ یا عظیم ہی ہوتے ہیں۔ ان میں سر فہرست کفر و شرک ہے اور یہ عہد ﴿اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ﴾ کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری عہد شکنی انبیاء کی تکذیب ہے کیونکہ سب انبیاء اپنی اولاد اور اپنی امت کو یہ وصیت کرتے رہے کہ اگر میرے بعد کوئی رسول آئے جو سابقہ کتب سماویہ اور انبیاء کی اور ان کی تعلیم کی تصدیق کرتا ہو تو تمہیں اس پر ایمان لانا ہو گا۔ تیسرا گناہ عظیم آخرت سے انکار ہے جس کے متعلق کفار مکہ پختہ قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ جو مر گیا اللہ اسے کبھی زندہ کر کے اٹھائے گا نہیں۔ [16: 38]