🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الطلاق
لِیُنۡفِقۡ ذُوۡ سَعَۃٍ مِّنۡ سَعَتِہٖ ؕ وَ مَنۡ قُدِرَ عَلَیۡہِ رِزۡقُہٗ فَلۡیُنۡفِقۡ مِمَّاۤ اٰتٰىہُ اللّٰہُ ؕ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىہَا ؕ سَیَجۡعَلُ اللّٰہُ بَعۡدَ عُسۡرٍ یُّسۡرًا ٪﴿۷﴾
لازم ہے کہ وسعت والا اپنی وسعت میں سے خرچ کرے اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا ہو تو وہ اس میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ اللہ کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کی جو اس نے اسے دیا ہے، عنقریب اللہ تنگی کے بعد آسانی پیدا کر دے گا۔[7]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
7۔ خوشحال آدمی کو چاہیے کہ اپنی حیثیت کے مطابق نفقہ دے اور جسے رزق کم دیا گیا ہے وہ اسی کے مطابق خرچ دے گا جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ اللہ کسی کو اسی کے مطابق تکلیف دیتا ہے جو اس نے اسے دیا ہے۔ اللہ جلد ہی تنگی کے بعد آسانی [22] کر دے گا۔
[22] اس آیت میں دوبارہ اس سلسلہ میں فیاضی سے کام لینے کی ترغیب دی گئی ہے کہ ہر باپ اپنی مقدور کے مطابق ماں کو دودھ پلانے کی اجرت ادا کرے۔ خواہ وہ مالدار ہے یا تنگدست اور اگر تنگدست ہے تو بھی اپنی حیثیت کے مطابق خرچ دینے میں بخل سے کام نہ لے۔ اگر وہ بخل سے کام نہ لے گا تو اللہ اس کی تنگی کو دور فرما دے گا۔ اور اس کے لیے رزق کی راہیں کھول دے گا۔