لازم ہے کہ وسعت والا اپنی وسعت میں سے خرچ کرے اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا ہو تو وہ اس میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ اللہ کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کی جو اس نے اسے دیا ہے، عنقریب اللہ تنگی کے بعد آسانی پیدا کر دے گا۔[7]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
لِیُنۡفِقۡ
ذُوۡسَعَۃٍ
مِّنۡ سَعَتِہٖ
وَمَنۡ
قُدِرَ
عَلَیۡہِ
رِزۡقُہٗ
فَلۡیُنۡفِقۡ
مِمَّاۤ
اٰتٰىہُ
اللّٰہُ
لَایُکَلِّفُ
اللّٰہُ
نَفۡسًا
اِلَّا
مَاۤ
اٰتٰىہَا
سَیَجۡعَلُ
اللّٰہُ
بَعۡدَ
عُسۡرٍ
یُّسۡرًا
تاکہ خرچ کرے
وسعت والا
اپنی وسعت میں سے
اور جو کوئی
تنگ کیا گیا
اس پر
رزق اس کا
پس چاہیے کہ وہ خرچ کرے
اس میں سے جو
دیا ہے اسے
اللہ نے
نہیں تکلیف دیتا
اللہ
کسی نفس کو
مگر
جتنا
اس نے دیا اسے
عنقریب کر دے گا
اللہ
بعد
تنگی کے
آسانی
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
لِیُنۡفِقۡ
ذُوۡسَعَۃٍ
مِّنۡ سَعَتِہٖ
وَمَنۡ
قُدِرَ
عَلَیۡہِ
رِزۡقُہٗ
فَلۡیُنۡفِقۡ
مِمَّاۤ
اٰتٰىہُ
اللّٰہُ
لَا
یُکَلِّفُ
اللّٰہُ
نَفۡسًا
اِلَّا
مَاۤ
اٰتٰىہَا
سَیَجۡعَلُ
اللّٰہُ
بَعۡدَ
عُسۡرٍ
یُّسۡرًا
لازم ہےخرچ کرے
خوش حال
اپنی وسعت کے مطابق
اورجو
تنگ کیا گیا
جس پر
رزق اس کا
تووہ خرچ کرے
اس میں سے جو
دیا ہے اسے
اللہ تعالیٰ نے
نہیں
تکلیف دیتا
اللہ تعالیٰ
کسی شخص کو
مگر
اس کی جو
اس نے دیا ہے اسے
جلد ہی کردےگا
اللہ تعالیٰ
بعد
تنگی کے
آسانی
حافظ نذر احمد حفظه الله
لِيُنْفِقْ
ذُوْ سَعَةٍ
مِّنْ سَعَتِهٖ
وَمَنْ قُدِرَ
عَلَيْهِ
رِزْقُهٗ
فَلْيُنْفِقْ
مِمَّآ اٰتٰىهُ اللّٰهُ
لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ
نَفْسًا
اِلَّا مَآ اٰتٰىهَا
سَيَجْعَلُ اللّٰهُ
بَعْدَ عُسْرٍ
يُّسْرًا
تاکہ خرچ کرے
وسعت والا
اپنی وسعت میں سے
اور جو کوئی تنگ کیا گیا
اس پر
اس کا رزق
پس چاہیے کہ خرچ کرے
اس میں سے جو عطا کیا اس کو اللہ نے
نہیں تکلیف دیتا اللہ
کسی شخص کو
مگر جتنا دیا اس نے اس کو
عنقریب کردے گا اللہ
تنگی کے بعد
آسانی
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔