🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة نوح
قَالَ نُوۡحٌ رَّبِّ اِنَّہُمۡ عَصَوۡنِیۡ وَ اتَّبَعُوۡا مَنۡ لَّمۡ یَزِدۡہُ مَالُہٗ وَ وَلَدُہٗۤ اِلَّا خَسَارًا ﴿ۚ۲۱﴾
نوح نے کہا اے میرے رب! بے شک انھوں نے میری بات نہیں مانی اور اس کے پیچھے چل پڑے جس کے مال اور اولاد نے خسارے کے سوا اس کو کسی چیز میں زیادہ نہیں کیا۔[21]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
21۔ نوح نے کہا: اے میرے [12] پروردگار! ان لوگوں نے میری نافرمانی کی اور ان لوگوں کے پیچھے لگ گئے جن کے مال اور اولاد نے ان کے لیے خسارہ ہی بڑھایا
[12] یہ تھے سیدنا نوحؑ کی تبلیغ کے چند موٹے موٹے نکات یا توحید پر مبنی دلائل جو وہ مدت مدید تک اپنی قوم کو سمجھاتے رہے۔ لیکن جب قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے تو اللہ کی بارگاہ میں عرض کی کہ یا اللہ! یہ لوگ تو بس دنیا کے ہی پجاری ہیں۔ یہ صرف ان سرداروں کی ہی بات مانتے ہیں جنہیں تو نے کثرت سے مال اور اولاد دے رکھی ہے۔ میری بات سننے کو کوئی بھی تیار نہیں ہوتا۔