🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة النبأ
لِّلطَّاغِیۡنَ مَاٰبًا ﴿ۙ۲۲﴾
سرکشوں کے لیے ٹھکانا ہے۔[22]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
22۔ جو سرکشوں [16] کا ٹھکانا ہے
[16] ﴿مِرْصَاد﴾ بمعنی گھات یا تاک لگا کر بیٹھنے کی جگہ جہاں شکاری غافل شکار کو پھانسنے کے لیے بیٹھتا ہے۔ پھر جب شکار اس کی زد میں آجاتا ہے تو یکدم اسے قابو کر لیتا ہے۔ آخرت کے منکر بھی جہنم کے غافل شکار ہیں جو انجام سے بے خبر اور لاپروا ہو کر زمین میں آزادانہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کے مرنے کی دیر ہے کہ جہنم فوراً انھیں اپنے قبضہ میں لے لے گی۔ وہ تو پہلے ہی اس انتظار میں ہے کہ اسے کب کوئی شکار مہیا ہوتا ہے؟