🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة المائده
وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا اِلٰی مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ وَ اِلَی الرَّسُوۡلِ قَالُوۡا حَسۡبُنَا مَا وَجَدۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَ لَوۡ کَانَ اٰبَآؤُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ شَیۡئًا وَّ لَا یَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۰۴﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے آؤ اس کی طرف جواللہ نے نازل کیا ہے اور رسول کی طرف تو کہتے ہیں ہمیں وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا اگرچہ ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ جانتے ہوں اور نہ ہدایت پاتے ہوں۔[104]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
104۔ اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ آؤ اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے اور آؤ رسول کی طرف تو کہتے ہیں، ہمیں تو وہی کچھ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد [152] کو پایا ہے۔ خواہ ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ جانتے ہوں اور نہ راہ راست پر ہوں؟ (تو بھی یہ ان کی ہی پیروی کریں گے؟)
[152] تقلید آباد کی مذمت:۔

تقلید آباء بھی دراصل شرک ہی کی ایک قسم ہے کیونکہ ایسی صورت میں اللہ اور رسول کے احکام کے مقابلہ میں دین آباء کو ترجیح دی جاتی ہے اور اس کی ابتدا یوں ہوتی ہے کہ ہر شخص فطرتاً اپنے بزرگوں سے اچھا گمان رکھتا ہے اور ان سے محبت کی بنا پر اس کا یہ گمان عقیدہ کی شکل اختیار کرجاتا ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے بزرگ ہم سے بہت زیادہ نیک، عالم اور دین کو سمجھنے والے تھے۔ حالانکہ یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ انبیاء کے علاوہ کوئی شخص معصوم نہیں ہوتا۔ اور ہر شخص سے دانستہ یا نادانستہ طور پر غلطی کا صدور ممکن ہے اور تقلید آباء کی صورت میں یہ غلطی نسل در نسل منتقل ہوتی چلی جاتی ہے چناچہ ہر عقیدہ اور عمل کی صحت معلوم کرنے کا صرف یہ طریقہ ہے کہ اسے کتاب و سنت پر پیش کیا جائے ورنہ محض تقلید آباء کا منطقی نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ گمراہی کی طرف دھکیل دے گی۔