مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ .
اس چیز (یعنی کلمہ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے) حرام کر دیتی ہے
حدیث نمبر: 54
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا"، قِيلَ: وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ:" زِنًى بَعْدَ إِحْصَانٍ، أَوْ كُفْرٌ بَعْدَ إِسْلَامٍ، أَوْ قَتْلُ نَفْسٍ فَيُقْتَلُ بِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَوْثِيقِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَوْثِيقِهِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں، جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہیں پڑھ لیتے، جب وہ یہ پڑھ لیں گے، تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ اُن کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب، اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا، عرض کی گئی: اُن کے حق سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محصن ہونے کے باوجود زنا کا ارتکاب کرنا، یا اسلام قبول کر لینے کے بعد کفر اختیار کرنا، یا کسی کو قتل کرنا، تو اس کے عوض میں اس شخص کو قتل کر دیا جائے گا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ہاشم بیروتی ہے، اکثر محدثین نے اس کی توثیق کی ہے [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 54]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ہاشم بیروتی ہے، اکثر محدثین نے اس کی توثیق کی ہے [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 54]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 3221»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 55
وَعَنْ عِيَاضٍ الْأَنْصَارِيِّ رَفَعَهُ قَالَ:" إِنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كَلِمَةٌ عَلَى اللَّهِ كَرِيمَةٌ، لَهَا عِنْدَ اللَّهِ مَكَانٌ، وَهِيَ كَلِمَةٌ مَنْ قَالَهَا صَادِقًا أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ، وَمَنْ قَالَهَا كَاذِبًا حَقَنَتْ دَمَهُ وَأَحْرَزَتْ مَالَهُ، وَلَقِيَ اللَّهَ غَدًا فَحَاسَبَهُ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ إِنْ كَانَ تَابِعِيَّهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ إِنْ كَانَ تَابِعِيَّهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ.
سیدنا عیاض انصاری رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”لا الہٰ الا اللہ اللہ تعلی کی بارگاہ میں معزز کلمہ ہے، جسے اللہ تعالی کی بارگاہ میں بلند حیثیت حاصل ہے، یہ ایک ایسا کلمہ ہے کہ جو شخص سچے دل کے ساتھ اسے پڑھ لے گا، اللہ تعالی اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کر دے گا۔ اور جو شخص جھوٹ کے طور پر اسے پڑھے گا، یہ کلمہ اس کی جان بچا لے گا اور اس کے مال کو محفوظ کر دے گا، کل جب وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس سے حساب لے گا“۔
یہ روایت امام بزار نے روایت کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ اس کا تابعی عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 55]
یہ روایت امام بزار نے روایت کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ اس کا تابعی عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 55]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 56
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: غَزَا عُمَارَةُ بْنُ قَرْضٍ اللَّيْثِيُّ غَزَاةً لَهُ، فَمَكَثَ فِيهَا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ رَجَعَ، حَتَّى إِذَا كَانَ قَرِيبًا مِنَ الْأَهْوَازِ سَمِعَ صَوْتَ الْأَذَانِ فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لِي عَهْدٌ بِصَلَاةٍ بِجَمَاعَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مُنْذُ ثَلَاثٍ، وَقَصَدَ نَحْوَ الْأَذَانِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ فَإِذَا هُوَ بِالْأَزَارِقَةِ، فَقَالُوا لَهُ: مَا جَاءَ بِكَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ؟ فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ إِخْوَانِي. قَالُوا: أَنْتَ أَخُو الشَّيْطَانِ، لَنَقْتُلَنَّكَ. قَالَ: أَمَا تَرْضَوْنَ مِنِّي بِمَا رَضِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالُوا: أَيُّ شَيْءٍ رَضِيَ بِهِ مِنْكَ؟ قَالَ: أَتَيْتُهُ وَأَنَا كَافِرٌ، فَشَهِدْتُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ فَخَلَّى عَنِّي. فَأَخَذُوهُ فَقَتَلُوهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں: سیدنا عمارہ بن قرض لیثی رضی اللہ عنہ ایک جنگ میں شریک ہوئے، جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا، وہ وہاں رہے، پھر وہ واپس روانہ ہو گئے، جب وہ اہواز کے قریب پہنچے اور انہوں نے اذان کی آواز سنی، تو بولے: اللہ کی قسم! میں نے گزشتہ تین دن سے مسلمانوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا نہیں کی، وہ اذان کی طرف چل پڑے، اُن کا ارادہ (با جماعت) نماز ادا کرنے کا تھا، لیکن وہ مسجد ”ازارقہ“ (یعنی خوارج) کی تھی، اُن لوگوں نے سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے اللہ کے دشمن! تم کیوں آئے ہو؟ سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم لوگ میرے بھائی یعنی مسلمان نہیں ہو؟ اُن لوگوں نے کہا: تم شیطان کے بھائی ہو، ہم تمہیں ضرور قتل کر دیں گے، تو سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم میری طرف سے اُس چیز سے راضی نہیں ہو گے، جس سے اللہ کے رسول راضی ہوئے تھے؟ اُن لوگوں نے دریافت کیا: وہ کیا چیز تھی؟ جس کی وجہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے راضی ہوئے تھے؟ سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ”جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں کافر تھا، پھر میں نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور بے شک آپ، اللہ کے رسول ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھوڑ دیا تھا“۔
(راوی کہتے ہیں:) لیکن اُن خوارج نے انہیں پکڑ کر شہید کر دیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 56]
(راوی کہتے ہیں:) لیکن اُن خوارج نے انہیں پکڑ کر شہید کر دیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 56]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 8559»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 57
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہیں پڑھ لیتے، جب وہ لوگ یہ پڑھ لیں گے، تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 57]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 57]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى كشف الاستار 15»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 58
وَعَنْ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيِّ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَرِيَّةٍ، فَلَمَّا هَجَمْنَا عَلَى الْقَوْمِ تَقَدَّمْتُ أَصْحَابِي عَلَى فَرَسٍ، فَاسْتَقْبَلَنَا النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ يَضِجُّونَ، فَقُلْتُ لَهُمْ: تُرِيدُونَ أَنْ تُحْرِزُوا أَنْفُسَكُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَقُلْتُ: قُولُوا: نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَقَالُوهَا، فَجَاءَ أَصْحَابِي فَلَامُونِي وَقَالُوا: أَشْرَفْنَا عَلَى الْغَنِيمَةِ فَمَنَعْتَنَا، ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" أَتَدْرُونَ مَا صَنَعَ؟ لَقَدْ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ إِنْسَانٍ كَذَا وَكَذَا"، ثُمَّ أَدْنَانِي مِنْهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْحَارِثُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْحَارِثُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.
سیدنا مسلم تمیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کے رسول نے ہمیں ایک جنگی مہم پر روانہ کیا، جب ہم نے دشمن پر حملہ کیا، تو میں گھوڑے پر سوار ہو کر، اپنے ساتھیوں سے آگے نکل آیا، خواتین اور بچے ہمارے سامنے آئے، جو چیخ و پکار کر رہے تھے، میں نے اُن سے کہا: کیا تم یہ چاہتے ہو کے اپنی جانیں بچا لو؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے کہا: پھر تم لوگ یہ کہو: ”ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، صرف وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ ان لوگوں نے یہ کلمہ پڑھ لیا، جب میرے ساتھی آئے، تو انہوں نے مجھے ملامت کی اور یہ کہا: ہمیں تو غنیمت حاصل ہونے کی توقع تھی، لیکن تم نے وہ ہمیں نہیں ملنے دیا، (راوی بیان کرتے ہیں:) جب ہم لوگ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، (تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے) میرے ساتھیوں سے فرمایا: کیا تم لوگ یہ جانتے ہو؟ کہ اس نے کیا کیا ہے (یعنی اس شخص کے) اس عمل کا اجر و ثواب کتنا ہو گا؟ اللہ تعالیٰ نے (اسلام قبول کرنے والے) ہر ایک انسان کے بدلے میں اتنی، اتنی (نیکیاں یا اجر و ثواب) اسے عطا کر دیا ہے، راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے قریب کیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی حارث بن مسلم ہے، اور وہ مجہول ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 58]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی حارث بن مسلم ہے، اور وہ مجہول ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 58]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 59
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيَّةً، فَأَغَارُوا عَلَى قَوْمٍ، فَشَدَّ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَ السَّرِيَّةِ وَمَعَهُ السَّيْفُ شَاهِرُهُ، فَقَالَ الشَّادُّ مِنَ الْقَوْمِ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَلَمْ يَنْظُرْ فِيمَا قَالَ، فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ، فَنَمَى الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا بَلَغَ الْقَاتِلَ، فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ إِذْ قَالَ الْقَاتِلُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ، وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ، ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ: وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ، فَلَمْ يَصْبِرْ أَنْ قَالَ الثَّالِثَةَ: وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُعْرَفُ الْمَسَاءَةُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ أَبَى عَلَيَّ فِيمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا [ قَالَهَا ] ثَلَاثًا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ بَدَلَ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ بَدَلَ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ.
سیدنا عقبہ بن مالک لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم روانہ کی، ان لوگوں نے دشمن پر حملہ کیا تو دشمن کا ایک فرد ان سے الگ ہو گیا، ایک مسلمان اس کے پیچھے تلوار لہراتا ہوا گیا، تو الگ ہونے والے اس فرد نے یہ کہا: میں مسلمان ہوں، لیکن مسلمان نے اس کی بات پر دھیان نہیں دیا اور اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا، اس بات کی اطلاع قتل کرنے والے مسلمان کو ملی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اسی دوران اُس شخص نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! اس (مقتول) شخص نے یہ بات صرف قتل سے بچنے کے لیے کہی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے اور اس طرف موجود افراد سے منہ پھیر لیا، اور اپنا خطبہ جاری رکھا، اس شخص نے دوسری مرتبہ پھر یہی بات کہی: اللہ کی قسم! اس نے قتل سے بچنے کے لیے یہ بات کہی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے منہ پھیر لیا اور اپنا خطبہ جاری رکھا، اس شخص سے صبر نہیں ہوا، یہاں تک کہ اس نے تیسری مرتبہ یہ کہا: اللہ کی قسم! اس نے قتل سے بچنے کے لیے یہ بات کہی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے، آپ کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار واضح تھے، آپ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی مومن کو قتل کر دیتا ہے، اللہ تعالٰی نے اس کے بارے میں مجھے منع کیا ہے“۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے بھی اسے نقل کیا ہے، تاہم انہوں نے راوی کا نام سیدنا عقبہ بن مالک کی بجائے، سیدنا عقبہ بن خالد رضی اللہ عنہ نقل کیا ہے، اس روایت کے تمام رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 59]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے بھی اسے نقل کیا ہے، تاہم انہوں نے راوی کا نام سیدنا عقبہ بن مالک کی بجائے، سیدنا عقبہ بن خالد رضی اللہ عنہ نقل کیا ہے، اس روایت کے تمام رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 59]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام احمد فى مسنده 110/4 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 356/17، اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 6794 أورده المؤلف فى زوائد المسند 4403»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 60
وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ - رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ - قَالَ: إِنِّي لَعِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ جَاءَهُ بَشِيرٌ مِنْ سَرِيَّتِهِ فَأَخْبَرَهُ بِالنَّصْرِ الَّذِي نَصَرَ اللَّهُ سَرِيَّتَهُ، وَبِالْفَتْحِ الَّذِي فَتَحَ اللَّهُ لَهُمْ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيْنَا نَحْنُ نَطْلُبُ الْقَوْمَ وَقَدْ هَزَمَهُمُ اللَّهُ - تَعَالَى - إِذْ لَحِقْتُ رَجُلًا بِالسَّيْفِ، فَوَاقَعْتُهُ وَهُوَ يَسْعَى وَهُوَ يَقُولُ: إِنِّي مُسْلِمٌ، إِنِّي مُسْلِمٌ. قَالَ:" فَقَتَلْتَهُ؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا تَعَوَّذَ. قَالَ:" فَهَلَّا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ فَنَظَرْتَ أَصَادِقٌ هُوَ أَمْ كَاذِبٌ" قَالَ: لَوْ شَقَقْتُ عَنْ قَلْبِهِ مَا كَانَ عِلْمِي؟ هَلْ قَلْبُهُ إِلَّا بَضْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ؟ قَالَ:" لَا مَا فِي قَلْبِهِ تَعْلَمُ، وَلَا لِسَانَهُ صَدَّقْتَ!" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي. قَالَ:" لَا أَسْتَغْفِرُ لَكَ" فَمَاتَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَدَفَنُوهُ، فَأَصْبَحَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، ثُمَّ دَفَنُوهُ فَأَصْبَحَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ اسْتَحْيَوْا وَخَزُوا لِمَا لَقِيَ، فَاحْتَمَلُوهُ فَأَلْقَوْهُ فِي شِعْبٍ مِنْ تِلْكَ الشِّعَابِ.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ وَشَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِمَا.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ وَشَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِمَا.
سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ، جن کا تعلق ”بجیلہ“ قبیلے سے ہے، وہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب ایک جنگی مہم کی طرف سے خوش خبری سنانے والا ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو یہ اطلاع دی: کہ اللہ تعالی نے اس جنگی مہم کی مدد کرتے ہوئے انہیں کامیابی عطا کی ہے اور انہیں فتح نصیب کر دی ہے، اس شخص نے یہ بھی بتایا: یا رسول اللہ! جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کو پسپا کر دیا اور ہم ان کا تعاقب کر رہے تھے، اس دوران میں تلوار لے کر ایک شخص کے پاس پہنچا، میں اس پر حملہ کرنے لگا، تو وہ دوڑ پڑا اور بولا: میں مسلمان ہوں، میں مسلمان ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تو کیا تم نے اسے قتل کر دیا؟ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ بچنا چاہ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کا دل کیوں نہیں چیر دیا؟ تاکہ تم یہ دیکھ لیتے کہ کیا وہ سچا ہے، یا جھوٹا ہے؟ اس شخص نے عرض کی: اگر میں اس کا دل چیر بھی لیتا، تو بھی مجھے یہ پتہ نہیں چل سکتا تھا، کیونکہ اس کا دل تو صرف گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُس کے دل میں جو تھا، نہ تو تم اس کے بارے میں جان سکتے تھے، اور نہ ہی تم نے اُس کی زبان کی تصدیق کی، اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ میرے لیے دعائے مغفرت کیجیے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لئے دعائے مغفرت نہیں کروں گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب وہ شخص مر گیا اور لوگوں نے اسے دفن کر دیا، تو اگلے دن اس کی لاش (قبر سے باہر) زمین پر پڑی ہوئی تھی، لوگوں نے اسے دوبارہ دفن کیا، (تو اگلے دن) اس کی لاش پھر زمین پر پڑی ہوئی تھی، ایسا تین مرتبہ ہوا، جب لوگوں نے یہ صورت حال دیکھی، تو اس شخص کے معاملے کے حوالے سے انہیں حیا محسوس ہوئی اور شرمندگی محسوس ہوئی، تو لوگوں نے اس کی لاش اُٹھا کر ایک گڑھے میں ڈال دی۔
(علامہ ہیثمی کہتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت ”صحیح“ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے، اس کی سند میں دو راوی، عبدالحمید بن بہرام اور شہر بن حوشب ہیں، ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 60]
(علامہ ہیثمی کہتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت ”صحیح“ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے، اس کی سند میں دو راوی، عبدالحمید بن بہرام اور شہر بن حوشب ہیں، ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 60]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام أبو يعلى فى مسنده 1519 اورده المؤلف فى المقصد العلى 1843»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 61
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" عَلَى مَا أُقَاتِلُ النَّاسَ إِلَّا عَلَى الْإِسْلَامِ، وَاللَّهِ لَا أَسْتَغْفِرُ لَكَ" أَوْ كَمَا قَالَ.
قُلْتُ: ذُكِرَ هَذَا فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ فِي الْفِتَنِ، وَهَذَا لَفْظُهُ. وَفِي إِسْنَادِهِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.
قُلْتُ: ذُكِرَ هَذَا فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ فِي الْفِتَنِ، وَهَذَا لَفْظُهُ. وَفِي إِسْنَادِهِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (یعنی مذکورہ بالا روایت میں یہ الفاظ ہیں:) ”میں لوگوں کے ساتھ صرف اسلام کی بنیاد پر جنگ کرتا ہوں، اللہ کی قسم! میں تمہارے لیے دعائے مغفرت نہیں کروں گا“ (راوی بیان کرتے ہیں:) یا جس طرح بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
(علامہ ہیثمی کہتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ بات ایک طویل حدیث میں ذکر کی گئی ہے، جسے امام ابن ماجہ نے فتنوں سے متعلق باب میں نقل کیا ہے، اور یہ الفاظ اُن کے نقل کردہ ہیں، اس کی سند میں ایک مجہول شخص ہے، یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 61]
(علامہ ہیثمی کہتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ بات ایک طویل حدیث میں ذکر کی گئی ہے، جسے امام ابن ماجہ نے فتنوں سے متعلق باب میں نقل کیا ہے، اور یہ الفاظ اُن کے نقل کردہ ہیں، اس کی سند میں ایک مجہول شخص ہے، یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 61]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 243/18»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 62
وَعَنْ قُطْبَةَ بْنِ قَتَادَةَ السَّدُوسِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْسُطْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى نَفْسِي وَعَلَى ابْنَتِي الْحُوَيْصَلَةِ، وَلَوْ كَذَبْتُ عَلَى اللَّهِ لَخَدَعْتُكَ، قَالَ: وَحَمَلَ عَلَيْنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، [ فِي خَيْلِهِ ] فَقُلْنَا: إِنَّا مُسْلِمُونَ، فَتَرَكَنَا، وَغَزَوْنَا مَعَهُ الْأُبُلَّةَ، فَفَتَحَهَا، فَمَلَأْنَا أَيْدِيَنَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ وَهُوَ قَتَادَةُ الَّذِي رَوَاهُ عَنْ قُطْبَةَ لَمْ أَرَ أَحَدًا ذَكَرَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ وَهُوَ قَتَادَةُ الَّذِي رَوَاهُ عَنْ قُطْبَةَ لَمْ أَرَ أَحَدًا ذَكَرَهُ.
سیدنا قطبہ بن قتادہ سدوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ اپنا دست مبارک آگے کیجیئے، تاکہ میں اپنی ذات اور اپنی بیٹی ”حویصلہ“ کے حوالے سے، آپ کی بیعت کر لوں، اور اگر میں اللہ کی طرف جھوٹی بات منسوب کروں گا، تو میں آپ کو دھوکا دوں گا۔
سیدنا قطبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنے شہسواروں کے ساتھ ہم پر حملہ کیا تھا، تو ہم نے کہا: ہم مسلمان ہیں، تو انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا ہم نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جنگ ”ابلہ“ میں حصہ لیا تھا، انہیں فتح نصیب ہوئی، تو انہوں نے ہمارے ہاتھ (مال غنیمت کے ذریعے) بھر دیے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک مجہول راوی ہے، اور وہ قتادہ نامی شخص ہے، جس نے سیدنا قطبہ رضٰ اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔
(علامہ ہیثمی کہتے ہیں:) میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا، جس نے اس راوی (قتادہ) کا ذکر کیا ہو۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 62]
سیدنا قطبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنے شہسواروں کے ساتھ ہم پر حملہ کیا تھا، تو ہم نے کہا: ہم مسلمان ہیں، تو انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا ہم نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جنگ ”ابلہ“ میں حصہ لیا تھا، انہیں فتح نصیب ہوئی، تو انہوں نے ہمارے ہاتھ (مال غنیمت کے ذریعے) بھر دیے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک مجہول راوی ہے، اور وہ قتادہ نامی شخص ہے، جس نے سیدنا قطبہ رضٰ اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔
(علامہ ہیثمی کہتے ہیں:) میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا، جس نے اس راوی (قتادہ) کا ذکر کیا ہو۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 62]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 191/4 اورده المؤلف فى زوائد المسند 78/4»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 63
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذِيَابٍ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمْتُ، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لِقَوْمِي مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتَعْمَلَنِي عَلَيْهِمْ، ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي أَبُو بَكْرٍ مِنْ بَعْدِهِ، ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ مِنْ بَعْدِهِ.
رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَسَمَّاهُ فِي مَكَانٍ آخَرَ سَعِيدًا، وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَفِي إِسْنَادِهِ مُنِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ مَجْهُولٌ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ أَيْضًا.
رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَسَمَّاهُ فِي مَكَانٍ آخَرَ سَعِيدًا، وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَفِي إِسْنَادِهِ مُنِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ مَجْهُولٌ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ أَيْضًا.
سیدنا سعد بن ابوزیاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے اسلام قبول کر لیا تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میری قوم کے افراد جن اموال (یعنی زمینوں) سمیت اسلام قبول کریں گے، آپ وہ (زمینیں) ان لوگوں کی ملکیت رہنے دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان لوگوں پر عامل مقرر کر دیا، نبي اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے عامل مقرر کیا، اور اُن کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی مجھے ہی عامل مقرر کیا۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور دوسرے مقام پر، انہوں نے راوی کا نام ”سعید“ (بن ابوذیاب) نقل کیا ہے اور اپنی سند کے ساتھ، اس راوی کے حوالے سے یہی حدیث نقل کی ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
اس کی سند میں ایک راوی منیر بن عبداللہ ہے اور وہ مجہول ہے، ازدی نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 63]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور دوسرے مقام پر، انہوں نے راوی کا نام ”سعید“ (بن ابوذیاب) نقل کیا ہے اور اپنی سند کے ساتھ، اس راوی کے حوالے سے یہی حدیث نقل کی ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
اس کی سند میں ایک راوی منیر بن عبداللہ ہے اور وہ مجہول ہے، ازدی نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 63]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام احمد فى مسنده 79/4 اورده المؤلف فى زوائد المسند 52»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف