🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

11. بَابٌ فِي الصَّلَاةِ الْوُسْطَى .
درمیانی نماز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1717
عَنِ الزِّبْرِقَانِ قَالَ: إِنَّ رَهْطًا مِنْ قُرَيْشٍ مَرَّ بِهِمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُمْ مُجْتَمِعُونَ، فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ غُلَامَيْنِ لَهُمْ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، فَقَالَ: هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ مِنْهُمْ فَسَأَلَاهُ، فَقَالَ: هِيَ الظُّهْرُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَسَأَلَاهُ فَقَالَ: هِيَ الظُّهْرُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَجِيرِ، وَلَا يَكُونُ وَرَاءَهُ إِلَّا الصَّفُّ وَالصَّفَّانِ، وَالنَّاسُ فِي قَائِلَتِهِمْ وَفِي تِجَارَتِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - (حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ) فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَقَالَ الشَّيْخُ فِي الْأَطْرَافِ: لَيْسَ فِي السَّمَاعِ، وَلَمْ يَذْكُرْهُ أَبُو الْقَاسِمِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا أَنَّ الزِّبْرِقَانَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَلَا مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
زبرقان بیان کرتے ہیں: قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد موجود تھے، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اُن کے پاس سے گزرے، وہ لوگ اکٹھے تھے، انہوں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کی طرف اپنے دو غلام بھیجے اور اُن سے یہ سوال کیا: کہ درمیانی نماز سے مراد کیا ہے؟ تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ عصر کی نماز ہے، پھر اُن لوگوں میں سے دو افراد اُٹھ کر ان کے پاس گئے اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: یہ ظہر کی نماز ہے، پھر وہ دونوں صاحبان حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے بھی فرمایا: اس سے مراد ظہر کی نماز ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز دوپہر میں ادا کر لیتے تھے، جب کہ آپ کے پیچھے ایک صف یا دو صفیں موجود ہوتی تھیں، باقی لوگ اس وقت یا قیلولہ کر رہے ہوتے تھے، یا تجارت میں مصروف ہوتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ” تم لوگ نمازوں کی حفاظت کرو، اور درمیانی نماز کی بھی، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ کھڑے رہو،، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔
یہ روایت امام نسائی نے نقل کی ہے، شیخ نے ” اطراف،، میں یہ بات بیان کی ہے: یہ سماع میں نہیں ہے، اور نہ ہی ابوالقاسم نے اس کا ذکر کیا ہے، یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، البتہ زبرقان نامی راوی نے، نہ تو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے، اور نہ ہی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1717]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1718
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْضَلُ الصَّلَاةِ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ، وَمَنْ صَلَّى بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سب سے زیادہ فضیلت والی نماز مغرب کی نماز ہے، جو شخص اس نماز کے بعد دو رکعات ادا کرے گا، اللہ تعالی اس کے لئے جنت میں گھر بنا دے گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1718]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1719
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَاتَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَدُوًّا فَلَمْ يَفْرَغْ مِنْهُمْ حَتَّى أَخَّرَ الْعَصْرَ عَنْ وَقْتِهَا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ:" اللَّهُمَّ مَنْ حَبَسَنَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى فَامْلَأْ بُيُوتَهُمْ نَارًا، وَامْلَأْ قُبُورَهُمْ نَارًا" - أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وُالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے ساتھ جنگ کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جنگ میں مصروف رہے، یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت گزر گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ملاحظہ فرمائی تو یہ دعا کی: اے اللہ! جس نے ہمیں درمیانی نماز ادا کرنے سے روکے رکھا تھا، تو ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے، اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے، (راوی بیان کرتے ہیں:) یا اس کی مانند کوئی اور کلمات ارشاد فرمائے۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1719]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1720
وَلَهُ عِنْدُ الْبَزَّارِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ".
وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ أَيْضًا.
اُن کے حوالے سے، امام بزار نے یہ روایت نقل کی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”درمیانی نماز سے مراد، عصر کی نماز ہے“۔
اس کے رجال کی بھی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1720]

الحكم على الحديث: إسناده اس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1721
وَلَهُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَسِيَ صَلَاةَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ، فَذُكِّرَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
ان کے حوالے سے، امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ روایت نقل کی ہے: غزوہ احزاب کے موقع پر، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نمازیں ادا نہیں کر سکے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مغرب کے بعد ادا کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے،
اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1721]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1722
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْأَحْزَابِ:" شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب کے موقع پر ارشاد فرمایا: ان لوگوں نے ہمیں درمیانی نماز ادا نہیں کرنے دی، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1722]
تخریج الحدیث: «البحر الزخار مسند البزار زر بن حبيش، 2518»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1723
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ:" مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ خندق کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے، کیونکہ انہوں نے سورج غروب ہونے تک ہمیں نماز ادا نہیں کرنے دی“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1723]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1724
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ أَقْبَلَ حَتَّى نَزَلَ دِمَشْقَ، فَنَزَلَ عَلَى أَبِي كُلْثُومٍ الدَّوْسِيِّ، فَتَذَاكَرُوا الصَّلَاةَ الْوُسْطَى فَقَالَ: اخْتَلَفْنَا كَمَا اخْتَلَفْتُمْ وَنَحْنُ بِفِنَاءِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِينَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَبُو هَاشِمِ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، فَقَالَ: أَنَا أَعْلَمُ لَكُمْ ذَلِكَ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ جَرِيئًا عَلَيْهِ، فَاسْتَأْذَنَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا، فَأَخْبَرَنَا أَنَّهَا صَلَاةُ الْعَصْرِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ وَقَالَ: لَا نَعْلَمُ رَوَى أَبُو هَاشِمِ بْنُ عُتْبَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ وَحَدِيثًا آخَرَ. قُلْتُ: وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ آئے اور انہوں نے دمشق میں پڑاؤ کیا، وہ ابوکلثوم دوسی کے ہاں ٹھہرے، اُن حضرات نے درمیانی نماز کے بارے میں گفتگو شروع کی، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے بھی اسی طرح اختلاف کا اظہار کیا تھا، جس طرح تمہاری آراء مختلف ہیں، ہم اُس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے صحن میں موجود تھے، ہمارے درمیان ایک نیک شخص سیدنا ابوہاشم بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس موجود تھے، انہوں نے فرمایا: میں تمہارے لئے اس کا علم حاصل کر کے آتا ہوں، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بے تکلف بات کر لیتے تھے، انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، پھر باہر تشریف لائے اور انہوں نے ہمیں یہ بتایا: اس سے مراد، عصر کی نماز ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور امام بزار نے نقل کی ہے، وہ یہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث روایت کی ہو، اس بارے میں ہمیں صرف اس حدیث کا علم ہے، یا ایک اور حدیث کا علم ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1724]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1725
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَفْلَحَ أَنَّ نَفَرًا مِنَ الصَّحَابَةِ أَرْسَلُونِي إِلَى ابْنِ عُمَرَ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، فَقَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهَا الصَّلَاةُ الَّتِي وُجِّهَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْقِبْلَةِ: الظُّهْرُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
عبدالرحمن بن افلح بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا، تاکہ اُن سے درمیانی نماز کے بارے میں دریافت کریں، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم لوگ یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ اس سے مراد وہ نماز ہے، جس کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ قبلہ کی طرف پھیر دیا گیا تھا، اور وہ ظہر کی نماز ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1725]
تخریج الحدیث: «المعجم الاوسط للطبراني باب الالف، من اسمه احمد 240»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1726
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُلُوبَهُمْ نَارًا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ الْمُلَائِيُّ الْأَعْوَرُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ أَبِي مَالِكٍ فِي الصَّلَاةِ الْوُسْطَى فِي (وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ) - إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان لوگوں نے ہمیں درمیانی نماز، یعنی عصر کی نماز، ادا نہیں کرنے دی اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں کو اور ان کے دلوں کو آگ سے بھر دے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن ملائی اعور ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث، درمیانی نماز سے متعلق باب میں آئے گئی، جو سورہ بروج سے متعلق باب میں آئے گی، اگر اللہ نے چاہا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1726]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں