مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
211. بَابُ الِانْصِرَافِ مِنَ الصَّلَاةِ .
نماز ختم کرنا
حدیث نمبر: 2873
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُسَلِّمُ فِي صَلَاتِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى نَرَى بَيَاضَ خَدَّيْهِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.
سیدنا سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرتے تھے یہاں تک کہ ہم آپ کے رخساروں کی سفیدی دیکھ لیتے تھے
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2873]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2873]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2874
وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى نَرَى بَيَاضَ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ وَبَيَاضَ خَدِّهِ الْأَيْسَرِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرتے تھے یہاں تک کہ ہم آپ کے دائیں رخسار کی سفیدی اور بائیں رخسار کی سفیدی دیکھ لیتے تھے
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2874]
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2874]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2875
وَعَنْ أَعْرَابِيٍّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَ تَسْلِيمَتَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ.
ایک دیہاتی نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں طرف اور بائیں طرف (دونوں طرف) سلام پھیرا۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2875]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2875]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2876
وَعَنْ بِسِطَامٍ عَنْ أَعْرَابِيٍّ تَضَيَّفَهُمْ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَ تَسْلِيمَتَيْنِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَبِسِطَامٌ هَذَا هُوَ بِسِطَامُ بْنُ النَّضْرِ، كَذَا ذَكَرَهُ الْأُسْتَاذُ جَمَالُ الدِّينِ الْمِزِّيُّ فِي تَرْجَمَةِ تِلْمِيذِهِ عَمْرِو بْنِ فَرُّوخَ وَكَانَ الشَّرِيفُ الْحُسَيْنِيُّ - رَحِمَهُ اللَّهُ - ظَنَّ أَنَّهُ بِسِطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ فَلَمْ يَذْكُرْهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَبِسِطَامُ بْنُ النَّضْرِ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَذَكَرَ رِوَايَتَهُ عَنِ الْأَعْرَابِيِّ كَمَا هُنَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَبِسِطَامٌ هَذَا هُوَ بِسِطَامُ بْنُ النَّضْرِ، كَذَا ذَكَرَهُ الْأُسْتَاذُ جَمَالُ الدِّينِ الْمِزِّيُّ فِي تَرْجَمَةِ تِلْمِيذِهِ عَمْرِو بْنِ فَرُّوخَ وَكَانَ الشَّرِيفُ الْحُسَيْنِيُّ - رَحِمَهُ اللَّهُ - ظَنَّ أَنَّهُ بِسِطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ فَلَمْ يَذْكُرْهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَبِسِطَامُ بْنُ النَّضْرِ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَذَكَرَ رِوَايَتَهُ عَنِ الْأَعْرَابِيِّ كَمَا هُنَا.
بسطام نے ایک دیہاتی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے، جو ان کے ہاں مہمان کے طور پر ٹھہرے تھے کہ اس دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ (یعنی دونوں طرف) سلام پھیرا تھا۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے بسطام نامی یہ راوی بسطام بن نضر ہے، استاد جمال الدین مزی نے ان کے شاگرد عمرو بن فروغ کے حالات میں ان کا ذکر اسی طرح کیا ہے یہ شریف الحسینی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شاید بسطام بن مسلم ہے انہوں نے ان کا ذکر نہیں کیا باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ اس روایت کے بقیہ رجال ”ثقہ“ ہیں بسطام بن نضر کا ذکر ابن حبان نے کتاب ”الثقات“ میں کیا ہے، اور انہوں نے ان صاحب کی دیہاتی کے حوالے سے نقل کردہ یہ روایت اسی طرح ذکر کی ہے، جس طرح یہاں ذکر ہوئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2876]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے بسطام نامی یہ راوی بسطام بن نضر ہے، استاد جمال الدین مزی نے ان کے شاگرد عمرو بن فروغ کے حالات میں ان کا ذکر اسی طرح کیا ہے یہ شریف الحسینی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شاید بسطام بن مسلم ہے انہوں نے ان کا ذکر نہیں کیا باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ اس روایت کے بقیہ رجال ”ثقہ“ ہیں بسطام بن نضر کا ذکر ابن حبان نے کتاب ”الثقات“ میں کیا ہے، اور انہوں نے ان صاحب کی دیہاتی کے حوالے سے نقل کردہ یہ روایت اسی طرح ذکر کی ہے، جس طرح یہاں ذکر ہوئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2876]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2877
وَعَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ وَابْنُ عُمَرَ مُسْتَقْبِلُهُ مَسْنِدَ ظَهْرِهِ إِلَى قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا انْصَرَفَ وَاسْعٌ انْصَرَفَ عَنْ يَسَارِهِ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَنْصَرِفَ عَنْ يَمِينِكَ؟ قَالَ: لَا إِلَّا أَنِّي رَأَيْتُكَ فَانْصَرَفْتُ إِلَيْكَ قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّكَ قَدْ أَحْسَنْتَ إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ: إِذَا كُنْتَ تُصَلِّي فَانْصَرَفْتَ فَانْصَرِفْ عَنْ يَمِينِكَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِذَا كُنْتَ تُصَلِّي فَانْصَرَفْتَ فَانْصَرِفْ إِنْ شِئْتَ عَنْ يَمِينِكَ وَإِنْ شِئْتَ عَنْ يَسَارِكَ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
واسع بن حبان بیان کرتے ہیں: وہ مسجد میں کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عمران کے سامنے موجود تھے انہوں نے مسجد کی قبلہ کی سمت والی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لی ہوئی تھی جب واسع نے نماز ختم کی تو وہ بائیں طرف سے اٹھ کر سیدنا عبداللہ بن عمر کے پاس گئے اور ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے تو سیدنا عبداللہ بن عمر نے ان سے دریافت کیا: کہ تم دائیں طرف سے کیوں نہیں اُٹھے؟ انہوں نے جواب دیا: اس لئے کیونکہ میں نے آپ کو دیکھ لیا تھا اس لئے میں اٹھ کر آپ کی طرف آ گیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ہے کچھ لوگ یہ کہتے ہیں: جب تم نماز ادا کرو اور پھر اٹھنے لگو تو دائیں طرف سے اٹھو سیدنا عبداللہ بن عمر نے فرمایا: جب تم نماز ادا کرو اور اٹھنے لگو تو تم اگر دائیں طرف سے چاہو تو دائیں طرف سے اٹھ جاؤ اگر بائیں طرف سے چاہو تو اس طرف سے اٹھ جاؤ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2877]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2877]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2878
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِـ"الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" وَيُسَلِّمُونَ تَسْلِيمَةً.
قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِالتَّسْلِيمَةِ الْوَاحِدَةِ فَقَطْ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِالتَّسْلِيمَةِ الْوَاحِدَةِ فَقَطْ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (بلند آواز میں) قرأت کا آغاز الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سے کیا کرتے تھے، اور ایک مرتبہ سلام پھیرتے تھے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ”صحیح“ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، جس میں ایک مرتبہ سلام پھیرنے کا ذکر ہے، اس روایت کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2878]
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، جس میں ایک مرتبہ سلام پھیرنے کا ذکر ہے، اس روایت کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2878]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2879
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ:" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ رَوَاهُ عَنِ الْكُوفِيِّينَ وَهُوَ ضَعِيفٌ فِيمَا رَوَاهُ عَنْ غَيْرِ أَهْلِ بَلَدِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ رَوَاهُ عَنِ الْكُوفِيِّينَ وَهُوَ ضَعِيفٌ فِيمَا رَوَاهُ عَنْ غَيْرِ أَهْلِ بَلَدِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عمار بن یاسر بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے السلام عَلَيْكُمْ و َرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ کہا: کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن عیاش ہے، جس نے یہ روایت اہل کوفہ سے نقل کی ہے، اور وہ راوی ”ضعیف“ ہے ان روایات کے بارے میں جو اس نے اپنے شہر کے علاوہ لوگوں سے نقل کی ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2879]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن عیاش ہے، جس نے یہ روایت اہل کوفہ سے نقل کی ہے، اور وہ راوی ”ضعیف“ ہے ان روایات کے بارے میں جو اس نے اپنے شہر کے علاوہ لوگوں سے نقل کی ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2879]
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجه كتاب إقامة الصلاة باب التسليم 912 البحر الزخار مسند البزار صلة بن زفر، حديث (1241) المعجم الاوسط للطبراني باب الالف، من اسمه احمد حديث 932»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف، اس کی سند میں موجود راوی ابوبکر بن عیاش اپنے شہر
حدیث نمبر: 2880
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَتَيْنِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو مرتبہ (یعنی دونوں طرف) سلام پھیرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے، جو ثقہ اور تدلیس کرنے والا ہے، اس نے
یہ روایت معنعن روایت کے طور پر نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2880]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے، جو ثقہ اور تدلیس کرنے والا ہے، اس نے
یہ روایت معنعن روایت کے طور پر نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2880]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2881
وَعَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى رَأَيْنَا وَضَحَ خَدَّيْهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: صَالِحٌ فِيهِ نَظَرٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: صَالِحٌ فِيهِ نَظَرٌ.
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا جب آپ نے نماز ادا کی تو آپ نے دائیں طرف سلام پھیرا اور بائیں طرف سلام پھیرا یہاں تک کہ ہم نے آپ کے رخسار کی چمک دیکھ لی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی منہال بن خلیفہ ہے، جسے ابن معین امام نسائی رحمہ اللہ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے، جب کہ ابوحاتم نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ صالح ہے، لیکن اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2881]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی منہال بن خلیفہ ہے، جسے ابن معین امام نسائی رحمہ اللہ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے، جب کہ ابوحاتم نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ صالح ہے، لیکن اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2881]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2882
وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَبُوهُ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَأَبُو أُسَيْدٍ وَأَبُو حُمَيْدٍ وَأَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرُوا أَنَّهُ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ.
قُلْتُ: حَدِيثُ أَبِي حُمَيْدٍ فِي الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
قُلْتُ: حَدِيثُ أَبِي حُمَيْدٍ فِي الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
عباس بن سہل بن سعد بیان کرتے ہیں: وہ ایک محفل میں موجود تھے جس میں ان کے والد موجود تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تھے۔ سیدنا ابواسید تھے، اور سیدنا ابوحمید تھے ان حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ بات بھی ذکر کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرا کرتے تھے (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدنا ابوحمید کے حوالے سے منقول حدیث ”صحیح“ میں مذکور ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2882]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2882]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔