🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

51. بَابٌ فِي صِيَامِ عَاشُورَاءَ .
عاشوراء کے روزے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5115
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَاشُورَاءُ عِيدُ نَبِيٍّ كَانَ قَبْلَكُمْ فَصُومُوهُ أَنْتُمْ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عاشوراء تم سے پہلے کے ایک نبی کی عید کا دن ہے، تو تم لوگ اس دن روزہ رکھو“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم ہجری ہے، جسے ابن عدی نے ”ثقہ“ قرار دیا ہے، اور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5115]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5116
وَعَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَهُوَ يَقُولُ:" مَنْ كَانَ صَائِمًا الْيَوْمَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ مَا بَقِيَ أَوْ لِيَصُمْ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ.
مجزاة بن زاہر نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کو عاشوراء کے دن یہ کہتے ہوئے سنا: ”آج جس نے روزہ رکھا ہوا ہے وہ اپنے روزے کو مکمل کرے اور جس نے روزہ نہیں رکھا ہوا تو وہ باقی رہ جانے والے (دن کے حصے کو مکمل کرے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) روزہ رکھنے“۔
یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا۔۔۔۔۔۔۔۔“۔ امام بزار کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5116]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5312) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (593) اخرجه البزار فى المسند (1047)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5117
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصَوْمِ عَاشُورَاءَ، وَكَانَ لَا يَصُومُهُ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ أَبُو هَارُونَ الْعَبْدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا اور آپ خود یہ روزہ نہیں رکھتے تھے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ہارون عبدی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5117]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1132)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5118
وَعَنْ عُلَيْلَةَ عَنْ أُمِّهَا قَالَتْ: قُلْتُ لِأَمَةِ اللَّهِ بِنْتِ رُزَيْنَةَ: يَا أَمَةَ اللَّهِ، حَدَّثَتْكِ أُمُّكِ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ صَوْمَ عَاشُورَاءَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، وَكَانَ يُعَظِّمُهُ حَتَّى يَدْعُوَ بِرُضَعَائِهِ وَرُضَعَاءِ ابْنَتِهِ فَاطِمَةَ فَيَتْفُلُ فِي أَفَوَاهِهِنَّ، وَيَقُولُ لِلْأُمَّهَاتِ:" لَا تُرْضِعُوهُنَّ إِلَى اللَّيْلِ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَلَفْظُهُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَظِّمُهُ حَتَّى إِنْ كَانَ لَيَدْعُوَ بِصِبْيَانِهِ وَصِبْيَانِ فَاطِمَةَ الْمَرَاضِعِ ذَلِكَ الْيَوْمَ فَيَتْفُلُ فِي أَفْوَاهِهِمْ وَيَقُولُ لِأُمَّهَاتِهِمْ:" لَا تُرْضِعُوهُمْ إِلَى اللَّيْلِ". وَكَانَ رِيقُهُ يُجْزِئُهُمْ.
وَعُلَيْلَةُ وَمَنْ فَوْقَهَا لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُنَّ، وَسَمَّى الطَّبَرَانِيُّ فَقَالَ: عُلَيْلَةُ بِنْتُ الْكُمَيْتِ، عَنْ أُمِّهَا أَمِينَةَ.
علیلہ نامی خاتون اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں: میں نے امتہ اللہ بنت رزینہ سے کہا: اے امتہ اللہ! کیا آپ کی والدہ نے آپ کو یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عاشوراء کے روزے کے بارے میں کوئی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؟ تو اس خاتون نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کی تعظیم کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ اپنے اور اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے دودھ پیتے بچوں کو بلاتے تھے، اور ان کے منہ میں لعاب دہن ڈال دیتے تھے اور ان کی ماؤں سے یہ فرماتے تھے کہ رات ہونے تک انہیں دودھ نہ پلانا۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کے الفاظ یہ ہیں: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعظیم کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ اپنے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے دودھ پیتے بچوں کو بھی بلواتے تھے، اور ان کے منہ میں لعاب دہن ڈال دیتے تھے، اور ان کی ماؤں سے یہ کہتے تھے: رات ہونے تک تم انہیں دودھ نہ پلانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن ان بچوں کے لئے کفایت کر جاتا تھا“۔ علیلہ نامی خاتون اور اس سے اوپر کی خواتین کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے۔ امام طبرانی نے یہ بات بیان کی ہے علیلہ بنت کمیت نے اپنی والدہ امینہ کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5118]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7162)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5119
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَعَظَّمَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ:" مَنْ كَانَ لَمْ يَطْعَمْ مِنْكُمْ فَلْيَصُمْ يَوْمَهُ هَذَا، وَمَنْ كَانَ قَدْ طَعِمَ مِنْكُمْ فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن کا ذکر کرتے ہوئے اس کی عظمت کا اظہار کیا، اور اپنے آس پاس موجود افراد سے یہ فرمایا: ”تم میں سے جس شخص نے کچھ نہ کھایا ہو تو وہ آج کے دن روزہ رکھ لے اور تم میں سے جس شخص نے کچھ کھا لیا ہو تو وہ باقی دن میں روزہ رکھے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5119]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5120
وَعَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ: صُومُوا هَذَا الْيَوْمَ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِصَوْمِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَزِيدَةُ بْنُ جَابِرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے۔ انہوں نے عاشوراء کے دن ارشاد فرمایا: تم اس دن روزہ رکھو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی مزیدہ بن جابر ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5120]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5121
وَعَنْ خَبَّابٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَكَلَ فَلَا يَأْكُلْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَمَنْ يَرَى مِنْكُمُ الصَّوْمَ فَلْيَصُمْهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ.
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! تم میں سے جس شخص نے کچھ کھا لیا ہو تو وہ باقی دن میں کچھ نہ کھائے اور تم میں سے جس شخص نے روزہ رکھنا ہو وہ روزہ رکھ لے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن جابر ہے، جسے امام أحمد نے اور دیگر حضرات نے ”ثقہ“ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5121]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3692)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5122
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَتَوَخَّى فَضْلَ صَوْمِ يَوْمٍ عَلَى يَوْمٍ بَعْدَ رَمَضَانَ إِلَّا عَاشُورَاءَ.
قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَكْرٍ الْعَلَّافُ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی دن کے روزے کو رمضان کے بعد کسی دوسرے دن پر فضیلت نہیں دیتے تھے البتہ عاشوراء کا معاملہ مختلف ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ”صحیح“ میں ایک حدیث منقول ہے، جو اس کے علاوہ ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن بکر علاف ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5122]

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5123
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ لِيَوْمٍ فَضْلٌ عَلَى يَوْمٍ فِي الصِّيَامِ إِلَّا شَهْرَ رَمَضَانَ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”روزہ رکھنے میں کسی دن کو دوسرے دن پر فضیلت حاصل نہیں ہے، البتہ رمضان کے مہینے اور عاشوراء کے دن کا معاملہ مختلف ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5123]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5124
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ.
قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْحَلَبِيُّ، وَتُكُلِّمَ فِي رِوَايَتِهِ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، وَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ مِنْهَا.
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو عاشوراء کے دن منبر پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیتے ہوئے سنا ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ”صحیح“ میں ایک حدیث منقول ہے، جو اس کے علاوہ ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ہشام حلبی ہے۔ ابن مبارک سے اس کے روایت کرنے کے بارے میں کلام کیا گیا ہے، اور یہ حدیث ان میں سے نہیں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5124]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں