مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. بَابٌ فِي صِيَامِ عَاشُورَاءَ .
عاشوراء کے روزے کا بیان
حدیث نمبر: 5125
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ وَمَنْ لَمْ يُصْبِحْ صَائِمًا فَلَا يَأْكُلْ شَيْئًا فَإِنَّ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ أَبُو زُرْعَةَ: مَحَلُّهُ الصِّدْقُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ نُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ أَبُو زُرْعَةَ: مَحَلُّهُ الصِّدْقُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ نُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن فجر کی نماز ادا کی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جس شخص نے روزہ رکھا ہوا ہے وہ اپنا روزہ مکمل کرے اور جس شخص نے روزہ نہیں رکھا ہوا تو اب وہ کچھ نہ کھائے کیونکہ آج عاشوراء کا دن ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے ابوزرعہ کہتے ہیں: اگر اللہ نے چاہا تو اس کا محل صدق ہو گا اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے، اور اس کی نسبت کی جھوٹ کی طرف کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5125]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے ابوزرعہ کہتے ہیں: اگر اللہ نے چاہا تو اس کا محل صدق ہو گا اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے، اور اس کی نسبت کی جھوٹ کی طرف کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5125]
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 5126
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَاءَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ:" ائْتِ قَوْمَكَ ; فَمَنْ أَدْرَكْتَ مِنْهُمْ لَمْ يَأْكُلْ فَلْيَصُمْ، وَمَنْ طَعِمَ فَلْيَصُمْ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْحَاقُ لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْحَاقُ لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسماء بن عبداللہ کو عاشوراء کے دن بھیجا اور ارشاد فرمایا: تم اپنی قوم کے پاس جاؤ اور ان میں سے جس شخص کو تم پاؤ کہ اس نے کچھ نہ کھایا ہو تو وہ روزہ رکھ لے اور جس شخص نے کچھ کھا لیا ہو اسے بھی روزہ رکھ لینا چاہے (یعنی وہ بقیہ دن میں کچھ نہ کھائے)۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اسحاق نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5126]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اسحاق نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5126]
الحكم على الحديث: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 5127
وَعَنْ مَعْبَدٍ الْقُرَشِيِّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُدَيْدٍ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطَعِمْتَ الْيَوْمَ شَيْئًا؟" لِيَوْمِ عَاشُورَاءَ. قَالَ: لَا إِلَّا أَنِّي شَرِبْتُ مَاءً. قَالَ:" فَلَا تَطْعَمْ شَيْئًا حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَأْمُرْ مَنْ وَرَاءَكَ أَنْ يَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
معبد قرشی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قدید کے مقام پر موجود تھے ایک شخص آپ کے پاس آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: کیا تم نے آج کچھ کھایا ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) یہ عاشوراء کے دن کی بات ہے اس شخص نے جواب دیا: جی نہیں میں نے صرف پانی پیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم سورج غروب ہونے تک کچھ نہ کھانا اپنے پیچھے موجود افراد کو بھی یہ ہدایت کر دو کہ وہ آج کے دن روزہ رکھیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5127]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5127]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (342/20)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 5128
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَعْدٍ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَقَالَ: احْلِبْ لَهُمْ يَا غُلَامُ. فَقَامَ الْغُلَامُ إِلَى نَعْجَةٍ فَحَلَبَهَا، فَجَاءَهُمْ فَقَالَ لِلَّذِي عَنْ يَمِينِهِ: اشْرَبْ. فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ: قَبِلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكَ. ثُمَّ قَالَ لِلثَّانِي، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ. فَقَالَ لِلثَّالِثِ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ. فَقَالَ: أَكُلُّكُمْ صَائِمُونَ؟ يُوشِكُ أَنْ تَتَّخِذُوا هَذَا الْيَوْمَ بِمَنْزِلَةِ رَمَضَانَ إِنَّمَا كُنَّا نَصُومُ هَذَا الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيْنَا رَمَضَانُ، فَلَمَّا افْتُرِضَ عَلَيْنَا رَمَضَانُ نَسَخَ صَوْمُ رَمَضَانَ صَوْمَ هَذَا الْيَوْمِ، وَهَذَا الْيَوْمُ تَطَوُّعٌ لَيْسَ بِفَرِيضَةٍ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ. فَلَمَّا سَمِعَ الْقَوْمُ ذَلِكَ أَفْطَرُوا جَمِيعًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حَشْرَجُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حَشْرَجُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.
عبداللہ بن ابوسعد بیان کرتے ہیں: ہم لوگ عاشوراء کے دن عائذ بن عمرو کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا: اے غلام تم ان کے لئے دودھ دوہ لو! وہ غلام اٹھ کر ایک بکری کے پاس گیا اس نے اس کا دودھ دوہ لیا پھر وہ ان لوگوں کے پاس آیا تو عائذ نے اپنے دائیں طرف موجود فرد سے کہا: تم پی لو اس نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے عائذ نے کہا: اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے اور تمہاری طرف سے قبول کرے پھر انہوں نے دوسرے شخص سے کہا: تو اس نے بھی کہا: کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، تو عائذ نے اس کی مانند کلمات کہے۔ انہوں نے تیسرے سے کہا: تو اس نے اس کی مانند کلمات کہے۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا تم سب لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے؟ عنقریب ایسا ہو گا کہ تم اس دن کو رمضان کی مانند سمجھنا شروع کر دو گے ہم اس دن کا روزہ رمضان کا فرض لازم ہونے سے پہلے رکھا کرتے تھے، جب رمضان ہم پر فرض ہو گیا تو رمضان کے روزے نے اس دن کے روزے کو منسوخ کر دیا تو آج کا دن نفلی روزے کا ہے فرض نہیں ہے، جو شخص چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو شخص چاہے، تو وہ روزہ ترک کر دے جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ان سب نے روزہ ترک کر دیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حشرج بن عبداللہ ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5128]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حشرج بن عبداللہ ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5128]
تخریج الحدیث: «. اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (20;19/18)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5129
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: لَيْسَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ بِالْيَوْمِ الَّذِي يَقُولُهُ النَّاسُ إِنَّمَا كَانَ يَوْمٌ تُسْتَرُ فِيهِ الْكَعْبَةُ وَتَقْلِسُ فِيهِ الْحَبَشَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يَدُورُ فِي السَّنَةِ وَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَ فُلَانًا الْيَهُودِيَّ فَيَسْأَلُونَهُ فَلَمَّا مَاتَ الْيَهُودِيُّ أَتَوْا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلُوهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَلَا أَدْرِي مَا مَعْنَاهُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَلَا أَدْرِي مَا مَعْنَاهُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عاشوراء کے دن سے مراد وہ دن نہیں ہے، جس کے بارے میں لوگ یہ کہتے ہیں: یہ ایک ایسا دن ہے، جس دن میں خانہ کعبہ کو غلاف پہنایا گیا اور حبشیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اس دن کرتب دکھائے تھے، وہ قحط سالی میں گھوما کرتے تھے، پہلے لوگ فلاں یہودی کے پاس جا کر اس سے سوال کرتے (یعنی مانگتے) تھے، جب وہ یہودی مر گیا، تو وہ لوگ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے ان سے سوال کیا (یا کچھ مانگا)۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ اس کا مفہوم کیا ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے، اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5129]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ اس کا مفہوم کیا ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے، اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5129]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4876)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5130
وَعَنْ عَمَّارٍ قَالَ: أُمِرْنَا بِصَوْمِ عَاشُورَاءَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ لَمْ نُؤْمَرْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رمضان کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہمیں عاشوراء کا حکم دیا گیا تھا، جب رمضان کا حکم نازل ہو گیا تو پھر ہمیں اس کا حکم نہیں دیا گیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5130]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5130]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 5131
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عَبْدٍ قَالَ: اخْتَلَفْتُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ سَنَةً فَمَا رَأَيْتُهُ مُصَلِّيًا الضُّحَى وَمَا رَأَيْتُهُ صَائِمًا يَوْمًا تَطَوُّعًا إِلَّا يَوْمَ عَاشُورَاءَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَيْسُ بْنُ عَبْدٍ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ الشَّعْبِيِّ ابْنِ أَخِيهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَيْسُ بْنُ عَبْدٍ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ الشَّعْبِيِّ ابْنِ أَخِيهِ.
قیس بن عبد بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک سال تک آتا جاتا رہا ہوں میں نے انہیں کبھی بھی چاشت کی نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور کبھی بھی نفلی روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا البتہ عاشوراء کے دن کا معاملہ مختلف ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ قیس بن عبد کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے شعبی جو ان کے بھتیجے ہیں ان کے علاوہ اور کسی نے ان سے روایت نقل نہیں کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5131]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ قیس بن عبد کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے شعبی جو ان کے بھتیجے ہیں ان کے علاوہ اور کسی نے ان سے روایت نقل نہیں کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5131]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم ا الكبير (8877)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5132
وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ - قَالَ عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَجَبٌ شَهْرٌ عَظِيمٌ يُضَاعِفُ اللَّهُ فِيهِ الْحَسَنَاتِ فَمَنْ صَامَ يَوْمًا مِنْ رَجَبٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ سَنَةً وَمَنْ صَامَ مِنْهُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ غُلِّقَتْ عَنْهُ سَبْعَةُ أَبْوَابِ جَهَنَّمَ وَمَنْ صَامَ مِنْهُ ثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ وَمَنْ صَامَ مِنْهُ عَشَرَةَ أَيَّامٍ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَمَنْ صَامَ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا نَادَى مُنَادٍ فِي السَّمَاءِ: قَدْ غُفِرَ لَكَ مَا مَضَى فَاسْتَأْنِفِ الْعَمَلَ. وَمَنْ زَادَ زَادَهُ اللَّهُ، وَفِي رَجَبٍ حَمَلَ اللَّهُ نُوحًا فِي السَّفِينَةِ فَصَامَ رَجَبَ وَأَمَرَ مَنْ مَعَهُ أَنْ يَصُومُوا فَجَرَتْ بِهِمُ السَّفِينَةُ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ أُخَرَ، ذَلِكَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ أُهْبِطَ عَلَى الْجُودِيِّ فَصَامَ نُوحٌ وَمَنْ مَعَهُ وَالْوَحْشُ شُكْرًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَفِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَلَقَ اللَّهُ الْبَحْرَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ، وَفِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ تَابَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى آدَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى مَدِينَةِ يُونُسَ، وَفِيهِ وُلِدَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفُورِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفُورِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
عبدالعزیز بن سعید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عثمان بن مطر رضی اللہ عنہ جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رجب ایک عظیم مہینہ ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نیکیوں کا بدلہ کئی گنا دیتا ہے، جو شخص رجب کے ایک دن روزہ رکھتا ہے، تو گویا اس نے ایک سال روزہ رکھا اور جو شخص اس کے سات روزے رکھتا ہے اس کے لئے جہنم کے ساتوں دروازے بند کر دیے جاتے ہیں جو شخص اس کے آٹھ روزے رکھتا ہے اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جو شخص اس کے دس روزے رکھتا ہے وہ اللہ تعالٰی سے جو بھی چیز مانگے گا اللہ تعالیٰ وہ چیز اسے عطا کرے گا، جو شخص اس کے پندرہ روزے رکھتا ہے، تو آسمان میں ایک منادی اعلان کر کے یہ کہتا ہے تمہارے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو گئی ہے اب تم نئے سرے سے عمل کرو جو شخص جتنا زیادہ کرتا ہے اللہ تعالی اسے مزید اجر و ثواب عطا کرتا ہے رجب کے مہینے میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح علیہ السلام کو کشتی پر سوار کرایا انہوں نے رجب کے روزے رکھے تھے، اور اپنے ساتھیوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا ان کی کشتی سات ماہ تک چلتی رہی تھی اور پھر عاشوراء کے دن وہ جودی پہاڑ کے ساتھ آ کر لگ گئی تھی تو سیدنا نوح علیہ السلام نے اور ان کے ساتھیوں نے اور جانوروں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے روزہ رکھا تھا اور عاشوراء کے دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لئے سمندر (دریائے نیل) کو چیر دیا تھا اور عاشوراء کے دن اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کی اور سیدنا یونس علیہ السلام کے شہر والوں کی، توبہ قبول کی تھی اور اسی دن میں سیدنا ابرہیم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفور ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5132]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفور ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5132]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5538)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 5133
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فُلِقَ الْبَحْرُ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بنی اسرائیل کے لئے عاشوراء کے دن سمندر کو چیر دیا گیا تھا“۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5133]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5133]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4094)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف