مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. بَابٌ فِي صِيَامِ عَاشُورَاءَ .
عاشوراء کے روزے کا بیان
حدیث نمبر: 5105
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُنَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ وَقَدْ صَامُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ:" مَا هَذَا مِنَ الصَّوْمِ؟". فَقَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي نَجَّى اللَّهُ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ مِنَ الْغَرَقِ، وَغَرِقَ فِيهِ فِرْعَوْنُ، وَهَذَا يَوْمٌ اسْتَوَتْ فِيهِ السَّفِينَةُ عَلَى الْجُودِيِّ، فَصَامَ نُوحٌ وَمُوسَى شُكْرًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى وَأَحَقُّ بِصَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ". فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالصَّوْمِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيُّ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيُّ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کچھ یہودیوں کے پاس سے ہوا جنہوں نے عاشوراء کے دن روزہ رکھا ہوا تھا آپ نے دریافت کیا: یہ روزہ کسی وجہ سے ہے؟ انہوں نے بتایا یہ وہ دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو ڈوبنے سے نجات دی تھی اور فرعون کو اس دن میں ڈبو دیا تھا یہ وہ دن ہے، جس میں (سیدنا نوح علیہ السلام کی) کشتی جودی پہاڑ کے ساتھ لگ گئی تھی تو سیدنا نوح علیہ السلام نے اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لئے (اس دن) روزہ رکھا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریبی ہیں اور روزہ رکھنے کے زیادہ حق دار ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو (اس دن) روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن عبداللہ ازدی ہے اس کے حوالے سے اس کے بیٹے کے علاوہ کسی اور نے روایت نقل نہیں کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5105]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن عبداللہ ازدی ہے اس کے حوالے سے اس کے بیٹے کے علاوہ کسی اور نے روایت نقل نہیں کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5105]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (359/2 و360)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5106
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ:" مَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، وَمَنْ أَكَلَ مِنْ غَدَاءِ أَهْلِهِ فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَيْضًا حَبِيبٌ وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَيْضًا حَبِيبٌ وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء کے دن روزہ رکھا کرتے تھے، اور اپنے اصحاب سے فرمایا کرتے تھے: جس نے روزہ دار ہونے کے عالم میں صبح کی ہے وہ اپنا روزہ مکمل کرے اور جس نے اپنے گھر میں ناشتہ کر لیا تھا، تو وہ بقیہ دن میں اس (روزے) کو مکمل کرے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کی سند میں بھی حبیب نامی راوی ہے، جس کے حوالے سے اس کے بیٹے کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5106]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کی سند میں بھی حبیب نامی راوی ہے، جس کے حوالے سے اس کے بیٹے کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5106]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (359/2)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5107
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ عَاشُورَاءَ وَيَأْمُرُ بِهِ.
رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ.
رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء رضی اللہ عنہ کے دن روزہ رکھا کرتے تھے، اور اس کا حکم بھی دیتے تھے۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے، جسے شعبہ اور ثوری نے ”ثقہ“ قرار دیا ہے، اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5107]
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے، جسے شعبہ اور ثوری نے ”ثقہ“ قرار دیا ہے، اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5107]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5108
وَعَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَصُومُوهُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصَوْمِهِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَثُوَيْرٌ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَثُوَيْرٌ ضَعِيفٌ.
ثویر بن ابوفاختہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو منبر پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ”یہ عاشوراء کا دن ہے تم اس دن روزہ رکھو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے روزے کا حکم دیا ہے“۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ ثویر نامی راوی ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5108]
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ ثویر نامی راوی ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5108]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 5109
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ قَرْيَةٍ عَلَى أَرْبَعَةِ فَرَاسِخَ - أَوْ قَالَ: فَرْسَخَيْنِ - يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَأَمَرَ مَنْ أَكَلَ أَنْ لَا يَأْكُلَ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ أَنْ يُتِمَّ صَوْمَهُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ; وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ; وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار فرسخ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) دو فرسخ کے فاصلے پر موجود بستی والوں کو پیغام بھیجا یہ عاشوراء کے دن کی بات ہے آپ نے یہ حکم دیا کہ جس نے کچھ کھا لیا ہے وہ باقی دن میں کچھ نہ کھائے اور جس نے کچھ نہیں کھایا ہے وہ باقی دن میں روزے کو مکمل کرے۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے، جسے شعبہ اور ثوری نے ”ثقہ“ قرار دیا ہے، اور اس کے بارے بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5109]
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے، جسے شعبہ اور ثوری نے ”ثقہ“ قرار دیا ہے، اور اس کے بارے بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5109]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (2058)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5110
وَعَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ يَوْمًا:" هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَصُومُوهُ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي تَرَكْتُ قَوْمِي مِنْهُمْ صَائِمٌ وَمِنْهُمْ مُفْطِرٌ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ إِلَيْهِمْ فَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
بعجہ بن عبدالله بن بدر بیان کرتے ہیں: ان کے والد نے انہیں یہ بات بتائی ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ارشاد فرمایا: یہ عاشوراء کا دن ہے، تو تم اس میں روزہ رکھو بنو عمرو بن عوف سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے اپنی قوم کو ایسی حالت میں چھوڑا ہے کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ان لوگوں کی طرف جاؤ اور ان میں سے جس نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا وہ اپنے روزے کو مکمل کرے (یعنی باقی دن میں کچھ نہ کھائے پیئے)۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5110]
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5110]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (467/6)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 5111
وَعَنْ هِنْدِ بْنِ أَسْمَاءَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِي مِنْ أَسْلَمَ فَقَالَ:" مُرْ قَوْمَكَ فَلْيَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَمَنْ وَجَدْتَهُ مِنْهُمْ قَدْ أَكَلَ فِي أَوَّلِ يَوْمِهِ فَلْيُتِمَّ آخِرَهُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
سیدنا ہند بن اسماء اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میری قوم اسلم قبیلے کی طرف بھیجا آپ نے ارشاد فرمایا: تم اپنی قوم کو یہ ہدایت کرو کہ اس دن یعنی عاشوراء کے دن روزہ رکھیں اور ان میں سے جس شخص کو تم پاؤ کہ اس نے دن کے ابتدائی حصے میں کچھ کھا لیا ہو تو وہ دن کے آخری حصے تک (روزے کو) مکمل کرے۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5111]
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5111]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (207/22) اخرجه احمد فى المسند (484/3)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 5112
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ هِنْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَكَانَ هِنْدُ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَخُوهُ الَّذِي بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ قَوْمَهُ بِصِيَامِ عَاشُورَاءَ، وَهُوَ أَسْمَاءُ بْنُ حَارِثَةَ، فَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ هِنْدٍ عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ حَارِثَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ فَقَالَ:" مُرْ قَوْمَكَ بِصِيَامِ هَذَا الْيَوْمِ". قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتَهُمْ قَدْ طَعِمُوا؟ قَالَ:" فَلْيُتِمُّوا آخِرَ يَوْمِهِمْ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا شَبَّهَ الْمُرْسَلِ، وَرَوَاهُ ابْنُهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ هِنْدِ بْنِ حَارِثَةَ عَنْ أَبِيهِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا شَبَّهَ الْمُرْسَلِ، وَرَوَاهُ ابْنُهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ هِنْدِ بْنِ حَارِثَةَ عَنْ أَبِيهِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
یحیی بن ہند بن حارثہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ہند رضی اللہ عنہ کو غزوہ حدیبیہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے، اور ان کے بھائی وہ شخص ہیں جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا کہ وہ اپنی قوم کو عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کا حکم دیں ان کا نام سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ ہے، تو یحیی بن ہند نے سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات مجھے بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا اور ارشاد فرمایا: تم اپنی قوم کو اس دن روزہ رکھنے کا حکم دو! انہوں نے عرض کی: آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ اگر میں ان لوگوں کو پاتا ہوں کہ وہ کھانا کھا چکے ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ دن کے آخری حصے تک (روزے کو) مکمل کریں (یعنی پھر کچھ نہ کھائیں پیئیں)۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور انہوں نے اسے اسی طرح ”مرسل“ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ان سے ان کے صاحبزادے نے یحیی بن ہند بن حارثہ کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5112]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور انہوں نے اسے اسی طرح ”مرسل“ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ان سے ان کے صاحبزادے نے یحیی بن ہند بن حارثہ کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5112]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (484/3)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 5113
وَعَنْ أَسْمَاءَ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ:" ائْتِ قَوْمَكَ فَمُرْهُمْ أَنْ يَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أُرَانِي آتِيهِمْ حَتَّى يَطْعَمُوا؟ قَالَ:" فَمُرْ مَنْ طَعِمَ مِنْهُمْ فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عاشوراء کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا اور ارشاد فرمایا: تم اپنی قوم کے پاس جاؤ اور انہیں یہ ہدایت کرو کہ وہ آج کے دن روزہ رکھیں انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اپنے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ جب میں ان کے پاس پہنچوں گا، تو وہ لوگ کچھ کھا چکے ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان میں سے جس نے کچھ کھا لیا ہو اس کو تم یہ ہدایت کرنا کہ وہ باقی دن میں روزہ رکھے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5113]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5113]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 5114
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَوْمِ عَاشُورَاءَ أَنْ نَصُومَهُ وَقَالَ:" هُوَ يَوْمٌ كَانَتِ الْيَهُودُ تَصُومُهُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَفِيهِ كَلَامٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَفِيهِ كَلَامٌ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عاشوراء کے دن کے بارے میں یہ حکم دیا تھا کہ ہم اس دن روزہ رکھیں۔ (راوی کہتے ہیں:) یہ وہ دن تھا جس میں یہودی روزہ رکھا کرتے تھے۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور وہ حسن الحدیث ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5114]
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور وہ حسن الحدیث ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5114]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (340/3)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف