المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
259. مالك بن يخامر السكسكي، عن معاذ بن جبل
مالک بن یخامر سکسکی کی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 17349
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ عَافِيَةَ، ثنا جَدِّي عَافِيَةُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
مالک بن یخامر رحمہ اللہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث بیان کرتے ہیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17349]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 107، حدیث 213»
حدیث نمبر: 17350
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَزِيزٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ يَثْرِبَ، وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ، وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ فَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ، وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ خُرُوجُ الدَّجَّالِ»
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المقدس کی آبادی یثرب کی بربادی (کا پیش خیمہ) ہے، اور یثرب کی بربادی بڑی جنگ کے ظہور (کا پیش خیمہ) ہے، اور بڑی جنگ کا ظہور قسطنطنیہ کی فتح (کا پیش خیمہ) ہے، اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کے ظہور (کا پیش خیمہ) ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17350]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 108، حدیث 214»
حدیث نمبر: 17351
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عُتْبَةُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، وَابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَطَّلِعُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ»
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نصف شعبان کی رات اپنی مخلوق پر نظر ڈالتا ہے، تو مشرک یا کینہ پرور کے سوا اپنی تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17351]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 108، حدیث 215»
حدیث نمبر: 17352
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ، ثنا جَهْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْيَمَامِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ خَلْفٍ الْعَمِّيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ جَدِّهِ مَمْطُورٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: احْتَبَسَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَطْلُعُ، فَلَمَّا صَلَّى بِنَا الْغَدَاةَ قَالَ:" صَلَّيْتُ اللَّيْلَةَ مَا قُضِيَ لِي، وَوَضَعْتُ جَنْبِي فِي الْمَسْجِدِ، فَأَتَانِي رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَتَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ فَقُلْتُ: لَا يَا رَبِّ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قُلْتُ: لَا يَا رَبِّ، فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ، فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُهُ، فَقُلْتُ: فِي الدَّرَجَاتِ، وَالْكَفَّارَاتِ، قَالَ: فَمَا الدَّرَجَاتُ؟ قُلْتُ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ، وَالصَّلَاةُ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَمَا الْكَفَّارَاتُ؟ قُلْتُ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي السَّبَراتِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، وَنَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجُمُعَاتِ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: سَلْ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: قُلْتُ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ وَأَنَا غَيْرُ مَفْتُونٍ، اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ أَحَبَّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ"، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُعَلِّمُوهُنَّ وَادْرُسُوهُنَّ فَإِنَّهُنَّ حَقٌّ»
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کے لیے ہمارے پاس آنے سے اتنی دیر رکے رہے کہ سورج طلوع ہونے کے قریب ہو گیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر پڑھائی تو فرمایا: ”میں نے آج رات وہی نماز پڑھی جو میرے مقدر میں تھی، پھر میں نے مسجد میں اپنا پہلو رکھا (یعنی سو گیا)، تو میرا رب سب سے بہترین صورت میں میرے پاس آیا اور فرمایا: اے محمد! کیا تمہیں معلوم ہے کہ عالم بالا (ملأ اعلیٰ) کس بات میں جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا: نہیں، اے میرے رب! یہ بات آپ نے تین بار پوچھی، (ہر بار) میں نے عرض کیا: نہیں، اے میرے رب! پھر اس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا تو میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی، تو میرے لیے ہر چیز روشن ہو گئی اور میں نے اسے پہچان لیا، تو میں نے عرض کیا: (وہ) درجات اور کفارات (کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں)، اس نے فرمایا: درجات کیا ہیں؟ میں نے عرض کیا: کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، اور رات کو نماز پڑھنا جب لوگ سو رہے ہوں، اس نے فرمایا: تم نے سچ کہا، پھر فرمایا: کفارات کیا ہیں؟ میں نے عرض کیا: سردی میں مکمل وضو کرنا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، اور جمعہ کے لیے قدم اٹھانا، اس نے فرمایا: تم نے سچ کہا، پھر فرمایا: مانگو اے محمد! میں نے عرض کیا: اے اللہ! میں تجھ سے نیک اعمال کرنے، برے کاموں کو چھوڑنے اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں، اور یہ کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما، اور جب تو اپنے بندوں میں کوئی فتنہ برپا کرنا چاہے تو مجھے اپنے پاس بلا لے جبکہ میں فتنے میں مبتلا نہ ہوا ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں، اور اس کی محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت رکھے، اور اس عمل کی محبت مانگتا ہوں جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں سیکھو اور انہیں پڑھو، کیونکہ یہ حق ہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17352]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 109، حدیث 216»
حدیث نمبر: 17353
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَيْثَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُصَيْنِ الْقَصَّاصُ، ثنا عِيسَى بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا زَعِيمُ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ، وَبَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا، وَتَرَكَ الْكَذِبَ وَإِنْ كَانَ مَازِحًا، وَحَسُنَ خُلُقُهُ»
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت کے کنارے میں ایک گھر، جنت کے وسط میں ایک گھر، اور جنت کے اعلیٰ حصے میں ایک گھر کا ضامن ہوں اس شخص کے لیے جو جھگڑا چھوڑ دے خواہ وہ حق پر ہو، اور جھوٹ چھوڑ دے خواہ مذاق میں ہو، اور جس کے اخلاق اچھے ہوں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17353]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 110، حدیث 217»
حدیث نمبر: 17354
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَقَالَ: «إِنِّي لَأُحِبُّكَ يَا مُعَاذُ» ، فَقَالَ: قُلْتُ: وَأَنَا وَاللهِ أُحِبُّكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" أُوصِيكَ بِكَلِمَاتٍ تَقُولُهُنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ: رَبِّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ"
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”اے معاذ! میں تم سے محبت کرتا ہوں۔“ میں نے عرض کیا: اور اللہ کی قسم! میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں، یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں ان کلمات کی وصیت کرتا ہوں جو تم ہر نماز کے بعد کہو: اے میرے رب! مجھے اپنے ذکر، اپنے شکر اور اپنی اچھی عبادت پر مدد فرما۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17354]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 111، حدیث 218»
حدیث نمبر: 17355
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ زِبْرِيقِ بْنِ الْعَلَاءِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، ثنا أَبِي، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ يَرْجِعُ ذَاكُمْ إِلَى قَلْبٍ مُوقِنٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ»
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اور یہ گواہی یقین رکھنے والے دل سے ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17355]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 111، حدیث 219»
حدیث نمبر: 17356
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، ثنا أَبِي، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ آيَةً أَمَرَهُ بِالتَّحَوُّلِ إِلَى الْكَعْبَةِ فَقَالَ: {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ} [البقرة: ١٤٤] الْآيَةَ"
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تشریف لانے کے بعد سولہ مہینے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی، پھر اللہ نے ایک آیت نازل کی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ کی طرف رخ پھیرنے کا حکم دیا، اور فرمایا: ﴿ہم آپ کا چہرہ آسمان کی طرف بار بار اٹھتا دیکھتے ہیں﴾ [البقرہ: 144] پوری آیت۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17356]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 111، حدیث 220»