السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
221. -- باب: كيف التيمم
-- باب: تیمم کی کیفیت (طریقے) کا بیان
حدیث نمبر: 997
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرَ، وَيُونُسَ، ⦗٣١٩⦘ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" التَّيَمُّمُ ضَرْبَتَانِ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَضَرْبَةٌ لِلْكَفَّيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ". رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ ظَبْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَرَفَعَهُ وَهُوَ خَطَأٌ وَالصَّوَابُ بِهَذَا اللَّفْظِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفٌ. وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، وَنَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ التَّيْمِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَسُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ ضَعِيفَانِ لَا يُحْتَجُّ بِرِوَايَتِهِمَا وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ مَعْمَرٍ وَغَيْرِهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ فِعْلِهِ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تیمم کے لیے دو ضربیں ہیں: ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک ضرب ہتھیلیوں اور کہنیوں تک کے لیے۔ یہ روایت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے۔
سلیمان بن ابی داود حرانی اور سلیمان بن ارقم، جنہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے، دونوں ضعیف ہیں، ان کی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 997]
سلیمان بن ابی داود حرانی اور سلیمان بن ارقم، جنہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے، دونوں ضعیف ہیں، ان کی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 997]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 998
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذَ الْعَدْلُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ بَالُوَيْهِ، قَالَا: أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَإِنِّي تَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَقَالَ:" اضْرِبْ" فَضَرَبَ بِيَدَيْهِ الْأَرْضَ فَمَسَحَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ فَمَسَحَ بِهِمَا يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ. كَذَا قَالَهُ وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُبَيِّنِ الْأَمْرَ لَهُ بِذَلِكَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے آکر عرض کیا: میں جنبی ہو گیا تو میں (تیمم کے لیے) مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، انہوں نے فرمایا: ”تو اپنے ہاتھ مٹی پر مار،“ اس نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے اور اپنے چہرے کا مسح کیا، پھر اپنے ہاتھوں کو (زمین پر) مارا، پھر اپنے ہاتھوں کا کہنیوں تک مسح کیا۔
اسی طرح بیان کیا گیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے، البتہ اس میں یہ وضاحت نہیں کہ اسے اس کا حکم دیا گیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 998]
اسی طرح بیان کیا گیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے، البتہ اس میں یہ وضاحت نہیں کہ اسے اس کا حکم دیا گیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 998]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الدارقطني 1/182»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 999
وَقَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ بَالُوَيْهِ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ عَزْرَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" التَّيَمُّمُ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ، وَضَرْبَةٌ لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیمم کی ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک ضرب دونوں ہاتھوں کے لیے کہنیوں تک ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 999]
تخریج الحدیث: «شاذ۔ أخرجه الحاكم 1/287»
الحكم على الحديث: شاذ
حدیث نمبر: 1000
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ الْأَسْلَعُ قَالَ:" كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ بِآيَةِ التَّيَمُّمِ فَأَرَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ الْمَسْحُ لِلتَّيَمُّمِ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي الْأَرْضَ ضَرْبَةً وَاحِدَةً فَمَسَحْتُ بِهِمَا وَجْهِي، ثُمَّ ضَرَبْتُ بِهِمَا الْأَرْضَ فَمَسَحْتُ بِهِمَا يَدِيَّ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ" الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ضَعِيفٌ إِلَّا أَنَّهُ غَيْرُ مُنْفَرِدٍ بِهِ وَقَدْ رُوِّينَا هَذَا الْقَوْلَ عَنِ التَّابِعِينَ: عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَالْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، وَالشَّعْبِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ.
ربیع بن بدر کے دادا ایک شخص سے، جن کو اسلع رضی اللہ عنہ کہا جاتا ہے، نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، جبرائیل علیہ السلام آیتِ تیمم لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دکھایا کہ تیمم کے لیے مسح کیسے کیا جاتا ہے: ”میں نے ایک مرتبہ ہاتھ زمین پر مارا، اپنے چہرے پر مسح کیا پھر ان کو زمین پر مارا اور اپنے ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کیا۔“
(ب) ربیع بن بدر ضعیف ہے۔ (ج) ہم نے یہ قول تابعین یعنی سالم بن عبداللہ، حسن بصری، شعبی اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ سے نقل کیا ہے۔
اس روایت میں ربیع بن بدر ضعیف ہے، البتہ وہ اس میں منفرد نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1000]
(ب) ربیع بن بدر ضعیف ہے۔ (ج) ہم نے یہ قول تابعین یعنی سالم بن عبداللہ، حسن بصری، شعبی اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ سے نقل کیا ہے۔
اس روایت میں ربیع بن بدر ضعیف ہے، البتہ وہ اس میں منفرد نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1000]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ جدًا أخرجه الدار قطني 1/179»
الحكم على الحديث: ضعيف
222. -- باب: ذكر الروايات في كيفية التيمم عن عمار بن ياسر رضي الله عنه
-- باب: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے تیمم کی کیفیت کے بارے میں مروی روایات کا ذکر
حدیث نمبر: 1001
أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ:" هَلَكَ عِقْدٌ لِعَائِشَةَ مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ فِي سَفَرٍ مِنْ أَسْفَارِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَائِشَةُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ السَّفَرِ فَالْتَمَسَتْ عَائِشَةُ عِقْدَهَا حَتَّى انْتَهَى اللَّيْلُ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهَا، وَقَالَ: حَبَسْتِ النَّاسَ بِمَكَانٍ لَيْسَ فِيهِ مَاءٌ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى آيَةَ الصَّعِيدِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: أَنْتِ وَاللهِ يَا بُنَيَّةُ مَا عَلِمْتُ مُبَارَكَةٌ قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: وَكَانَ عَمَّارٌ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّاسَ طَفِقُوا يَوْمَئِذٍ يَمْسَحُونَ بِأَكُفِّهِمُ الْأَرْضَ، فَيَمْسَحُونَ وُجُوهَهُمْ، ثُمَّ يَعُودُونَ فَيَضْرِبُونَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَيَمْسَحُونَ بِهَا أَيْدِيهِمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالْآبَاطِ، ثُمَّ يُصَلُّونَ" وَكَذَلِكَ. رَوَاهُ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، وَجَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَمَّارٍ، وَحَفِظَ فِيهِ مَعْمَرٌ وَيُونُسُ ضَرْبَتَيْنِ كَمَا حَفِظَهُمَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ.
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی سفر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ظفار کے گھونگوں کا بنا ہوا ہار گم ہو گیا اور اس سفر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا ہار تلاش کیا حتیٰ کہ رات ختم ہو گئی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور ان سے ناراض ہوئے اور کہا: تو نے لوگوں کو ایسی جگہ پر روک دیا ہے جہاں پانی بھی نہیں ہے۔ راوی کہتا ہے کہ آیۃ الصعید (تیمم) نازل ہوئی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: اللہ کی قسم! اے بیٹی! جہاں تک میں جانتا ہوں تو بڑی بابرکت ہے۔ عبید اللہ کہتے ہیں کہ عمار بیان کرتے ہیں: لوگ اس دن اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر مارتے اور اپنے چہروں کا مسح کرتے تھے، پھر دوبارہ مارتے اور اپنے ہاتھوں کا کندھوں اور بغلوں تک مسح کرتے، پھر نماز پڑھتے تھے۔
(ب) ایک دوسری روایت میں معمر اور یونس بھی دو ضربوں کا ذکر کرتے ہیں کہ ابن ابی ذئب نے دو ضربوں کا ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1001]
(ب) ایک دوسری روایت میں معمر اور یونس بھی دو ضربوں کا ذکر کرتے ہیں کہ ابن ابی ذئب نے دو ضربوں کا ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1001]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 320»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1002
وَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْكَعْبِيُّ بِهَمَذَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ بُرْدَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ حَمَّادٍ، ثنا زَيْدٌ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ثنا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ:" تَمَسَّحْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتُّرَابِ فَمَسَحْنَا وُجُوهَنَا وَأَيْدِيَنَا إِلَى الْمَنَاكِبِ" لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ عَبْدَانَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو أُوَيْسٍ الْمَدَنِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَأَمَّا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ فَإِنَّهُ شَكَّ فِي ذِكْرِ أَبِيهِ فِي إِسْنَادِهِ، رَوَاهُ مَرَّةً عَنِ ابْنِ دِينَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَمَرَّةً عَنِ الزُّهْرِيِّ نَفْسِهِ، وَرَوَاهُ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَمَّارٍ.
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں مٹی کے ساتھ مسح (تیمم) کیا، ہم نے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا کندھوں تک مسح کیا۔
(ب) سفیان بن عیینہ اپنی سند میں ان کے والد کے ذکر کرنے کے متعلق شک کرتے ہیں، کبھی وہ «عَنِ ابْنِ دِينَارٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ» ”ابن دینار سے، وہ زہری سے“ بیان کرتے ہیں اور کبھی صرف «الزُّهْرِيِّ» ”زہری“ سے بیان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1002]
(ب) سفیان بن عیینہ اپنی سند میں ان کے والد کے ذکر کرنے کے متعلق شک کرتے ہیں، کبھی وہ «عَنِ ابْنِ دِينَارٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ» ”ابن دینار سے، وہ زہری سے“ بیان کرتے ہیں اور کبھی صرف «الزُّهْرِيِّ» ”زہری“ سے بیان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1002]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1003
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَرَّسَ بِأَوْلَاتِ الْجَيْشِ، وَمَعَهُ عَائِشَةُ زَوْجَتُهُ فَانْقَطَعَ عِقْدُهَا مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ، فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَاءَ ⦗٣٢١⦘ عِقْدِهَا ذَلِكَ، حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ، وَلَيْسَ مَعَ النَّاسِ مَاءٌ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةَ رُخْصَةِ التَّطَهُّرِ بِالصَّعِيدِ الطِّيبِ، فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الْأَرْضَ، ثُمَّ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَلَمْ يَقْبِضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا، فَمَسَحُوا بِهَا وُجُوهَهُمْ، وَأَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ، وَمِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ إِلَى الْآبَاطِ" قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَلَا يَغْتَرُّ بِهَذَا النَّاسِ. وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، قَالَ لِعَائِشَةَ: وَاللهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: فِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَذَكَرَ ضَرْبَتَيْنِ كَمَا ذَكَرَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَيُونُسُ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: فِي حَدِيثِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ هَذَا أَنَّ تَيَمُّمَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ بِأَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ مَنْسُوخٌ لِأَنَّ عَمَّارًا أَخْبَرَهُ بِأَنَّ هَذَا أَوْلُ تَيَمُّمٍ كَانَ حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ فَكُلُّ تَيَمُّمٍ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ فَخَالَفَهُ فَهُوَ لَهُ نَاسِخٌ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَرُوِيَ عَنْ عَمَّارٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ.
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولات الجیش جگہ پر پڑاؤ ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، ان کا ظفار کے گھونگوں کا بنا ہوا ہار گم ہو گیا۔
اس کی تلاش کے لیے لوگوں کو روک دیا گیا یہاں تک کہ فجر ہو گئی اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پاک مٹی سے طہارت کی رخصت نازل کر دی۔ صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے، انہوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور مٹی سے کوئی چیز نہیں لی، اپنے چہروں اور ہاتھوں کا کندھوں تک مسح کیا اور ہاتھوں کے اندرونی حصے کا بغلوں تک۔ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: لوگوں نے اس کا اعتبار نہیں کیا اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے پتہ نہیں تھا کہ تو برکت (کا باعث) ہے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کندھوں تک مسح کا جو حکم دیا تھا وہ منسوخ ہے۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ سب سے پہلا تیمم تھا جب آیت تیمم نازل ہوئی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام تیمم اس کے مخالف ہیں اور وہ ناسخ ہیں۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ ہی فرماتے ہیں کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چہرے اور ہتھیلیوں پر تیمم کرنے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1003]
اس کی تلاش کے لیے لوگوں کو روک دیا گیا یہاں تک کہ فجر ہو گئی اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پاک مٹی سے طہارت کی رخصت نازل کر دی۔ صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے، انہوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور مٹی سے کوئی چیز نہیں لی، اپنے چہروں اور ہاتھوں کا کندھوں تک مسح کیا اور ہاتھوں کے اندرونی حصے کا بغلوں تک۔ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: لوگوں نے اس کا اعتبار نہیں کیا اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے پتہ نہیں تھا کہ تو برکت (کا باعث) ہے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کندھوں تک مسح کا جو حکم دیا تھا وہ منسوخ ہے۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ سب سے پہلا تیمم تھا جب آیت تیمم نازل ہوئی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام تیمم اس کے مخالف ہیں اور وہ ناسخ ہیں۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ ہی فرماتے ہیں کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چہرے اور ہتھیلیوں پر تیمم کرنے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1003]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 320»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1004
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَسَدِيُّ بِهَمَدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمَا تَذْكُرُ، أَنَّا كُنَّا فِي سَفَرٍ فَأَجْنَبْتُ، أَنَا وَأَنْتَ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فَصَلَّيْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا" فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ فَنَفَخَ فِيهِمَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ، وَالنَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، عَنْ شُعْبَةَ وَذَكَرَ سَمَاعَ الْحَكَمِ لِلْحَدِيثِ مِنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ نَفْسِهِ.
سعید بن عبد الرحمن بن ابزی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں جنبی ہو جاؤں اور پانی نہ ملے تو کیا کروں؟ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ ہم ایک سفر میں تھے، میں اور آپ جنبی ہو گئے، آپ نے نماز ادا نہیں کی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا، پھر میں نے نماز پڑھی، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو یہ بات میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے اس طرح کرنا کافی تھا“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر مارا، اس میں پھونک ماری پھر اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1004]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 331»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1005
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، أنا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ الْحَكَمُ: ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنَ ابْنِ ⦗٣٢٢⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى بِخُرَاسَانَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: إِنَّهُ أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ، فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ: أَمَا تَذْكُرُ أَنَّا كُنَّا فِي سَرِيَّةٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْنَبْتُ أَنَا وَأَنْتَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ، ثُمَّ صَلَّيْتُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا"، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ لَمْ يُجَاوِزِ الْكُوعَ. وَرَوَاهُ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُرْهِبِيُّ إِلَّا أَنَّهُ شَكَّ فِي مَتْنِهِ وَاضْطَرَبَ فِيهِ.
حکم کہتے ہیں: میں نے خراسان میں ابن عبد الرحمن بن ابزیٰ رحمہ اللہ سے سنا کہ ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: ”میں جنبی ہوجاؤں اور پانی نہ ملے تو کیا کروں؟“ ان سے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک سریہ میں تھے۔ میں اور آپ جنبی ہوگئے، آپ نے نماز نہیں پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، پھر میں نے نماز پڑھی۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو یہ بات میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے اس طرح کافی تھا“، پھر اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کیا لیکن گٹوں سے آگے نہیں گزرے۔“
(ب) سلمہ بن کہیل نے اسے ذر بن عبداللہ مرہبی سے روایت کیا ہے، لیکن انہیں اس کے متن میں شک ہوا اور وہ اس میں مضطرب ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1005]
(ب) سلمہ بن کہیل نے اسے ذر بن عبداللہ مرہبی سے روایت کیا ہے، لیکن انہیں اس کے متن میں شک ہوا اور وہ اس میں مضطرب ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1005]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1006
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ فِي سَفَرٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لَا تُصَلِّ فَقَالَ: عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا تَذْكُرُ إِذْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْتُ أَنَا وَأَنْتَ فَلَمْ نُصِبِ الْمَاءَ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ وَأَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" يَا عَمَّارُ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا" وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، فَقَالَ سَلَمَةُ: لَا أَدْرِي بَلَغَ الذِّرَاعَيْنِ أَمْ لَا، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: اتَّقِ اللهَ، فَقَالَ عَمَّارُ: إِنْ شِئْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لِمَا جَعَلَ اللهُ لَكَ عَلَيَّ مِنَ الْحَقِّ أَنْ لَا أُحَدِّثَ بِهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: بَلْ نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ..
ابن عبدالرحمن بن ابزیٰ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں ایک سفر میں جنبی ہوگیا، مجھے پانی نہیں ملا، اس سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نماز نہ پڑھ۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ ایک سریہ میں تھے، ہم جنبی ہوگئے، ہمیں پانی نہیں ملا، آپ نے نماز نہیں پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمار! تجھے یہی کافی تھا کہ تو اس طرح کرتا“ اور اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر اس میں پھونک ماری، اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا۔ سلمہ نے کہا: میں نہیں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکمل بازوؤں تک پہنچے ہیں یا نہیں۔ راوی کہتا ہے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ سے ڈر! عمار رضی اللہ عنہما نے کہا: اے امیر المؤمنین! اللہ نے آپ کو مجھ پر حق سے مقرر کیا ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس حدیث کو بیان نہ کروں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ ہم تیرے اس معاملے کو تیرے ہی سپرد کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1006]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح