🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
215. -- باب: ذكر الخبر الذي ورد في الجنب ينام ولا يمس ماء
-- باب: اس حدیث کا ذکر جو جنبی کے پانی چھوئے بغیر سو جانے کے بارے میں وارد ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 977
وَأَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عُمَرَ، وَقَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، كَيْفَ كَانَ وُضُوءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ؟ فَقَالَتْ:" كَانَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يَنَامُ". قَالَ الشَّيْخُ: وَحَدِيثُ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ صَحِيحٌ مِنْ جِهَةِ الرِّوَايَةِ وَذَلِكَ أَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ بَيَّنَ سَمَاعَهُ مِنَ الْأَسْوَدِ فِي رِوَايَةِ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْهُ وَالْمُدَلِّسُ إِذَا بَيَّنَ سَمَاعَهُ مِمَّنْ رَوَى عَنْهُ وَكَانَ ثِقَةً فَلَا وَجْهَ لِرَدِّهِ وَوَجْهُ الْجَمْعِ بَيْنَ الرِّوَايَتَيْنِ عَلَى وَجْهٍ يُحْتَمَلُ وَقَدْ جَمَعَ بَيْنَهُمَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ شُرَيْحٍ فَأَحْسَنَ الْجَمْعَ وَذَلِكَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ فَقُلْتُ: أَيُّهَا الْأُسْتَاذُ قَدْ صَحَّ عِنْدَنَا حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ وَلَا يَمَسُّ مَاءً، وَكَذَلِكَ صَحَّ حَدِيثُ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِذَا تَوَضَّأَ" فَقَالَ لِي أَبُو الْوَلِيدِ: سَأَلْتُ أَبَا ⦗٣١٢⦘ الْعَبَّاسِ بْنَ شُرَيْحٍ عَنِ الْحَدِيثَيْنِ، فَقَالَ: الْحُكْمُ بِهِمَا جَمِيعًا، أَمَّا حَدِيثُ عَائِشَةَ فَإِنَّمَا أَرَادَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَمَسُّ مَاءً لِلْغُسْلِ، وَأَمَّا حَدِيثُ عُمَرَ فَمُفَسَّرٌ ذُكِرَ فِيهِ الْوُضُوءُ وَبِهِ نَأْخُذُ.
عبدالرحمن بن اسود کے والد کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسے تھا جب آپ حالتِ جنابت میں سونے کا ارادہ کرتے؟ انہوں نے فرمایا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جیسا وضو کرتے تھے، پھر سو جاتے تھے۔“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ جنابت میں سو جاتے تھے اور پانی کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے کوئی حالتِ جنابت میں سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وضو کر کے سو سکتا ہے۔“
شیخ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو ولید نے بیان کیا۔ میں نے ابوالعباس بن سریج سے ان دونوں حدیثوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: دونوں روایات کا ایک ہی حکم ہے۔ حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا میں ان کی مراد یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے لیے پانی کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔ حدیثِ عمر رضی اللہ عنہ مفسر ہے جس میں وضو کا ذکر ہے، ہم اس پر عمل کرتے ہیں۔
ابو اسحاق سبیعی کی حدیث روایت کے اعتبار سے صحیح ہے، کیونکہ ابو اسحاق نے زہیر بن معاویہ کی روایت میں اسود سے اپنے سماع کی صراحت کی ہے، اور مدلس جب اس شخص سے اپنے سماع کی صراحت کر دے جس سے وہ روایت کر رہا ہے اور وہ ثقہ ہو تو اس کی روایت کو رد کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 977]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
216. -- باب: الجنب يريد الأكل
-- باب: اس جنبی کا بیان جو کھانے کا ارادہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 978
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ: ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، وَوَكِيعٌ، وَغُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا كَانَ جُنُبًا فَأَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ تَوَضَّأَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حالتِ جنابت میں ہوتے اور آپ کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے تو وضو کر لیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 978]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 979
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ الْأَهْوَازِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ وَهُوَ جُنُبٌ غَسَلَ يَدَيْهِ"،.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حالت جنابت میں کھانے کا ارادہ کرتے تو اپنے ہاتھ دھوتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 979]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 223»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 980
وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَقَالَ:" غَسَلَ يَدَيْهِ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ، فَجَعَلَ قِصَّةَ الْأَكْلِ قَوْلَ عَائِشَةَ مَقْصُورًا. قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
(الف) محمد بن صباح بزاز اسی سند سے بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں کو دھوتے۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن وہب رحمہ اللہ نے یہ روایت یونس رحمہ اللہ سے نقل کی ہے جس میں ہے کہ کھانے کا ذکر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے۔
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ یہ روایت لیث بن سعد رحمہ اللہ نے زہری رحمہ اللہ سے بیان کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 980]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 981
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٣١٣⦘ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ" قَالَتْ عَائِشَةُ:" وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ إِنْ شَاءَ". وَقَدْ قِيلَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرُ هَذَا وَحَدِيثُ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَصَحُّ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حالت جنابت میں سونے کا ارادہ فرماتے تو سونے سے پہلے نماز جیسا وضو کرتے اور جب آپ کھانے یا پینے کا ارادہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کو دھوتے، پھر کھاتے اور اگر چاہتے تو پیتے تھے۔
اس سند کے بارے میں اس کے علاوہ بھی کہا گیا ہے، اور اسود کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 981]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه احمد 6/118»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 982
أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي مِنْ سَفَرٍ فَضَمَّخُونِي بِالزَّعْفَرَانِ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يُرَحِّبْ بِي، وَلَمْ يَبَشَّ بِي، وَقَالَ:" اذْهَبْ وَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ" فَغَسَلْتُهُ عَنِّي فَجِئْتُهُ وَقَدْ بَقِيَ عَلَيَّ مِنْهُ شَيْءٌ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يُرَحِّبْ بِي وَلَمْ يَبَشَّ بِي وَقَالَ:" اذْهَبْ وَاغْسِلْ عَنْكَ هَذَا" فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، وَرَحَّبَ بِي وَقَالَ:" إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَحْضُرُ جَنَازَةَ الْكَافِرِ بِخَيْرٍ، وَلَا الْمُتَضَمِّخَ بِالزَّعْفَرَانِ، وَلَا الْجُنُبَ، وَرُخِّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ أَنْ يَتَوَضَّأَ".
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سفر سے اپنے گھر والوں کے پاس آیا تو انھوں نے مجھے زعفران لگا دی، جب میں نے صبح کی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مرحبا نہیں کہا اور نہ آپ میرے ساتھ خوش ہوئے اور فرمایا: ”جا اس کو اپنے آپ سے دھو دے۔“ میں نے اپنے سے اس کو دھویا اور اس کا کچھ نشان باقی تھا۔ میں نے آپ کو سلام کیا، لیکن آپ نے مجھے مرحبا نہیں کہا اور نہ آپ میرے ساتھ خوش ہوئے اور فرمایا: ”جا اس کو اپنے سے دھو دے۔“ میں نے پھر اپنے سے اس کو دھویا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ کو سلام کیا آپ نے میرے سلام کا جواب دیا اور مجھے مرحبا کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے بھلائی کے ساتھ کافر کے جنازے میں حاضر نہیں ہوتے اور نہ ہی اس کے پاس جس کو زعفران لگی ہو اور نہ جنبی کے پاس“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی کو یہ رخصت دی ہے کہ جب کھانے یا سونے کا ارادہ کرے تو وضو کرلے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 982]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 4176»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 983
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ أَوْ نَامَ أَنْ يَتَوَضَّأَ" وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِصَّةَ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: بَيْنَ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ رَجُلٌ قَالَ: وَقَالَ عَلِيٌّ، وَابْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، وَالْجُنُبُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ تَوَضَّأَ.
حماد نے اسی سند سے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی کو رخصت دی ہے کہ ”جب وہ کھائے یا پیے یا سوئے تو وضو کرے“ اور قصہ ذکر نہیں کیا۔ (ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یحییٰ بن یعمر اور عمار بن یاسر کے درمیان ایک اور شخص ہے۔
(ج) علی رضی اللہ عنہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے تو وضو کرلے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 983]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 4601»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
217. -- باب: الجنب يريد أن يعود
-- باب: اس جنبی کا بیان جو دوبارہ (صحبت کا) ارادہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 984
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنا مُحَاضِرٌ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ بَيْنَهُمَا وُضُوءًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص رات کو اپنی بیوی کے پاس آئے پھر دوبارہ آنے کا ارادہ کرے تو وہ وضو کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 984]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 8/3»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 985
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمُ الْعَوْدَ فَلْيَتَوَضَّأْ، فَإِنَّهُ أُنْشِطُ لِلْعَوْدِ". وَرُوِّينَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ أَمَرَ بِالْوُضُوءِ.
(الف) سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سے کوئی دوبارہ (اپنی بیوی کے پاس) آنے کا ارادہ کرے تو وہ وضو کرلے، یہ دوبارہ لوٹنے کے لیے زیادہ چستی کا سبب ہے۔“
(ب) عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 985]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن خبان 1211»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
218. -- باب: الرجل يطوف على نسائه إذا حللنه أو على إمائه بغسل واحد
-- باب: آدمی کا ایک ہی غسل کے ساتھ اپنی حلال بیویوں یا لونڈیوں کے پاس باری باری جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 986
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، أَخْبَرَهُ أَبِي، ثنا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک غسل سے اپنی بیویوں کے پاس جاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 986]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه النسائي 263»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں