السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
208. -- باب: الستر في الغسل عند الناس
-- باب: لوگوں کی موجودگی میں غسل کرتے وقت پردہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 957
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: الْأَوَّلُ أَتَمُّ.
صفوان بن یعلیٰ اپنے والد سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو نقل فرماتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 957]
تخریج الحدیث: «شاذ۔ أخرجه أبو داؤد 4013»
الحكم على الحديث: شاذ
209. -- باب: التعري إذا كان وحده
-- باب: جب آدمی تنہا ہو تو برہنہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 958
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو يَعْلَى حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُهَلَّبِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْتَثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ وَلَكِنْ لَا غِنًى بِي، عَنْ بَرَكَتِكَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دفعہ ایوب علیہ السلام ننگے غسل کر رہے تھے تو ان پر سونے کی ٹڈیاں گرنے لگیں، ایوب علیہ السلام انہیں اپنے کپڑوں میں ڈالنا شروع ہو گئے۔ رب تعالیٰ نے آواز دی: اے ایوب! کیا میں نے آپ کو غنی نہیں کیا اس سے جو تم دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے میرے رب! لیکن میں تیری برکت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 958]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 275»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 959
وَبِإِسْنَادِهِمَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً، يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى سَوْأَةِ بَعْضٍ، وَكَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ، فَقَالُوا: وَاللهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ، قَالَ: فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى الْحَجَرِ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ، قَالَ: فَجَمَحَ مُوسَى فِي أَثَرِهِ: ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى سَوْأَةِ مُوسَى، فَقَالُوا: وَاللهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ، قَالَ: فَقَامَ الْحَجَرُ بَعْدَمَا نَظَرُوا إِلَيْهِ فَأَخَذَ ثَوْبَهُ، وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا"، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللهِ إِنَّهُ نَدَبٌ بِالْحَجَرِ سِتَّةً أَوْ سَبْعَةً، ضَرْبُ مُوسَى بِالْحَجَرِ. رَوَاهُمَا الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ. وَأَخْرَجَ مُسْلِمٌ الْحَدِيثَ الثَّانِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل والے ننگے غسل کرتے تھے، وہ ایک دوسرے کی شرم گاہ کو دیکھتے تھے جبکہ موسیٰ علیہ السلام اکیلے غسل کرتے تھے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام ہمارے ساتھ صرف اس لیے غسل نہیں کرتے کہ ان کو کوئی بیماری ہے۔ آپ علیہ السلام ایک مرتبہ غسل کرنے کے لیے گئے اور اپنے کپڑے پتھر پر رکھے تو پتھر کپڑے لے کر بھاگ نکلا۔ موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے بھاگے اور کہہ رہے تھے: «ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ» ”اے پتھر! میرے کپڑے، اے پتھر! میرے کپڑے“، یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کی شرم گاہ کی طرف دیکھا تو کہنے لگے: اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام کو کوئی بیماری نہیں ہے۔ ان کے دیکھنے کے بعد پتھر کھڑا ہو گیا تو انہوں نے اپنے کپڑے پکڑے اور پتھر کو مارنا شروع کیا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! پتھر پر موسیٰ علیہ السلام کی مار کے چھ یا سات نشان موجود تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 959]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 274»
الحكم على الحديث: صحيح
210. -- باب: كون الستر أفضل وإن كان خاليا
-- باب: تنہائی میں بھی پردہ کرنے کے افضل ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 960
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ⦗٣٠٧⦘ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ عَوْرَاتُنَا مَا نَأتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ قَالَ:" احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ" فَقُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِذَا كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ، قَالَ:" إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَاهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَاهَا" قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا، قَالَ:" اللهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَى مِنَ النَّاسِ". ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ فِي التَّرْجَمَةِ مُخْتَصَرًا قَالَ: وَقَالَ بَهْزٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحَى مِنْهُ مِنَ النَّاسِ".
(الف) بہز بن حکیم اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم اپنے بدن کے کون سے حصے کو چھپائیں اور کس کو چھوڑیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی شرمگاہ کی حفاظت کر مگر اپنی بیوی سے یا اپنی لونڈی سے۔“ میں نے کہا: مجھے بتائیں اگر سب ایک جنس سے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو طاقت رکھے کہ کوئی بھی نہ دیکھے تو یہ بہتر رہے۔“ میں نے کہا: مجھے بتلائیں جب کوئی اکیلا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔“
(ب) ایک روایت میں ہے کہ ”اللہ تعالیٰ زیادہ حق رکھتا ہے کہ لوگوں سے زیادہ اس سے حیا کی جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 960]
(ب) ایک روایت میں ہے کہ ”اللہ تعالیٰ زیادہ حق رکھتا ہے کہ لوگوں سے زیادہ اس سے حیا کی جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 960]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو داؤد 4017»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 961
وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَغْتَسِلُوا فِي الصَّحْرَاءِ إِلَّا أَنْ لَا تَجِدُوا مُتَوَارًى، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مُتَوَارًى فَلْيَخُطَّ أَحَدُكُمْ خَطًّا كَالدَّارَةِ، ثُمَّ يُسَمِّي اللهَ تَعَالَى، وَيَغْتَسِلُ فِيهَا" أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُئِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ.
امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کھلی جگہ میں غسل نہ کرو۔ وہاں اگر تم چھپنے کی جگہ نہ پاؤ تو گھر کی مانند خط کھینچ لو پھر اللہ کا نام لو اور اس میں غسل کر لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 961]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه المؤلف في شعب الايمان 7785»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 962
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَغْتَسِلَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَقُرْبُهُ إِنْسَانٌ لَا يَنْظُرْ إِلَيْهِ، وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْهُ يُكَلِّمُهُ".
امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ہرگز غسل نہ کرے مگر اس حال میں کہ اس کے قریب کوئی ایسا انسان ہو جو اسے دیکھ نہ رہا ہو، اور وہ اس کے قریب رہ کر اس سے بات کرتا رہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 962]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
211. -- باب: الجنب يؤخر الغسل إلى آخر الليل
-- باب: جنبی کا غسل کو رات کے آخری حصے تک مؤخر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 963
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ بُرْدٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: قُلْتُ: لِعَائِشَةَ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ، أَمْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَتْ:" رُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي آخِرِهِ".، قُلْتُ: اللهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً.
غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: مجھے بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت رات کے شروع میں کرتے تھے یا اخیر رات میں؟ انہوں نے فرمایا: بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے شروع حصے میں فرماتے تھے بعض اوقات رات کے آخری حصے میں۔ میں نے کہا: «اَللّٰہُ اَکْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“، تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے معاملے میں وسعت رکھی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 963]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 226»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
212. -- باب: الجنب يريد النوم فيغسل فرجه ويتوضأ وضوءه للصلاة، ثم ينام
-- باب: اس جنبی کا بیان جو سونے کا ارادہ کرے تو اپنی شرمگاہ دھو لے اور نماز جیسا وضو کرے، پھر سو جائے
حدیث نمبر: 964
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ جَنَابَةٌ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، ثُمَّ نَمْ". ⦗٣٠٨⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَقَالَ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: اغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ رات کو میں جنبی ہو جاؤں تو (کیا کروں)؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کر اور اپنی شرمگاہ کو دھو کر سو جا۔“
(ب) عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ذکر (شرم گاہ) کو دھو اور وضو کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 964]
(ب) عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ذکر (شرم گاہ) کو دھو اور وضو کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 964]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 286»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 965
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ". مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مَعَ تَسْمِيَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي السُّؤَالِ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا جنابت کی حالت میں کوئی سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وضو کر کے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 965]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 283»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 966
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ".
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حالتِ جنابت میں سونے کا ارادہ کرتے تو نماز جیسا وضو فرماتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 966]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 284»
الحكم على الحديث: صحيح