السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
147. -- باب: الوضوء من مس الذكر
-- باب: شرمگاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹنے کا بیان
حدیث نمبر: 628
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أُمْسِكُ الْمُصْحَفَ عَلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَاحْتَكَكْتُ قَالَ سَعْدٌ:" لَعَلَّكَ مَسَسْتَ ذَكَرَكَ" فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ:" قُمْ فَتَوَضَّأْ" فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ"، ⦗٢٠٨⦘.
مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو قرآن پکڑاتا تھا، میں نے خارش کی تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: شاید تو نے اپنی شرمگاہ کو چھوا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! انہوں نے کہا: کھڑا ہو، وضو کر، میں کھڑا ہوا، میں نے وضو کیا، پھر واپس لوٹا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 628]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 90»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 629
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" إِذَا مَسَّ الرَّجُلُ ذَكَرَهُ فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”جب کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو اس پر وضو کرنا واجب ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 629]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 91»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 630
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنِ عُمَرَ يَغْتَسِلُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَتِ مَا يُجْزِيكَ الْغُسْلُ مِنَ الْوُضُوءِ؟ قَالَ:" بَلَى وَلَكِنِّي أَحْيَانًا أَمَسُّ ذَكَرِي فَأَتَوَضَّأُ".
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ پہلے غسل کرتے تھے پھر وضو کرتے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا: اے ابا جان! کیا غسل وضو سے کفایت کر جاتا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میں کبھی کبھی اپنی شرمگاہ کو چھوتا ہوں تو میں وضو کرتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 630]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 93»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 631
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فِي سَفَرِهِ فَرَأَيْتُهُ بَعْدَ أَنْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ تَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ هَذِهِ صَلَاةٌ مَا كُنْتَ تُصَلِّيهَا، فَقَالَ أَبِي:" بَعْدَ أَنْ تَوَضَّأْتُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ مَسَسْتُ ذَكَرِي ثُمَّ نَسِيتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ فَتَوَضَّأْتُ ثُمَّ عُدْتُ لِصَلَاتِي".
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک سفر میں تھا، میں نے آپ کو سورج طلوع ہونے کے بعد دیکھا، آپ نے وضو کیا، پھر نماز پڑھی۔ میں نے پوچھا: یہ آپ نے کون سی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے صبح کی نماز کے لیے وضو کیا، پھر میں نے اپنی شرم گاہ کو چھوا اور میں بھول گیا، اب پھر میں نے وضو کیا اور اپنی نماز دوبارہ لوٹائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 631]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 94»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 632
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ" وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. وَرَوَى الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْقَدِيمِ عَنْ مُسْلِمٍ، وَسَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَيْنَا هُوَ يَؤُمُّ النَّاسَ إِذْ زَلَّتْ يَدُهُ عَلَى ذَكَرِهِ فَأَشَارَ إِلَى النَّاسِ أَنِ امْكُثُوا ثُمَّ خَرَجَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَجَعَ فَأَتَمَّ بِهِمْ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ.
(الف) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے اپنی شرمگاہ کو چھوا اس پر وضو واجب ہو گیا۔
(ب) ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک دن لوگوں کو نماز کی امامت کروا رہے تھے، اس دوران انہوں نے ہاتھ سے شرمگاہ کو چھوا تو لوگوں کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں، پھر وہ گئے، وضو کیا، پھر واپس لوٹے اور باقی نماز مکمل کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 632]
(ب) ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک دن لوگوں کو نماز کی امامت کروا رہے تھے، اس دوران انہوں نے ہاتھ سے شرمگاہ کو چھوا تو لوگوں کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں، پھر وہ گئے، وضو کیا، پھر واپس لوٹے اور باقی نماز مکمل کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 632]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 92»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 633
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُقْرِئُ، نا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ سَلَامَةَ هُوَ الطَّحَاوِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ" يَقُولَانِ فِي الرَّجُلِ يَمَسُّ ذَكَرُهُ يَتَوَضَّأُ" قَالَ: شُعْبَةُ، فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ، عَمَّنْ هَذَا فَقَالَ: عَنْ عَطَاءٍ.
سیدنا ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنی شرمگاہ کو چھوا وہ وضو کرے۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے قتادہ سے پوچھا: یہ روایت کس کی ہے؟ انہوں نے کہا: عطاء کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 633]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطحاوي في شرح المعاني 1/76»
الحكم على الحديث: ضعيف
148. -- باب: الوضوء من مس المرأة فرجها
-- باب: عورت کا اپنی شرمگاہ کو چھونے پر وضو ٹوٹنے کا بیان
حدیث نمبر: 634
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ اللَّيْثٍ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ الْيَحْصِبِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ الْأَسَدِيَّةَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْمُرُ بِالْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذِّكْرِ، وَالْمَرْأَةُ مِثْلُ ذَلِكَ". قَالَ: أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ: وَهَذَا الْحَدِيثُ بِهَذِهِ الزِّيَادَةِ فِي مَتْنِهِ، وَالْمَرْأَةُ مِثْلُ ذَلِكَ لَا يَرْوِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، غَيْرَ ابْنِ نَمِرٍ هَذَا. قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هَارُونُ بْنُ زِيَادٍ الْحِنَّائِيُّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، وَرَوَاهُ أَبُو مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَلَى الصِّحَّةِ فِي الْإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ جَمِيعًا.
بسرہ بنت صفوان اسدیہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”شرمگاہ کو چھونے سے وضو کا حکم دیا کرتے تھے اور عورت بھی اسی طرح کرے گی۔“
(ب) احمد بن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ متن حدیث میں یہ زیادتی «وَالْمَرْأَةُ مِثْلُ ذَلِكَ» ”اور عورت بھی اسی طرح کرے گی“ امام زہری سے ابن نمیر کے علاوہ کوئی بیان نہیں کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 634]
(ب) احمد بن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ متن حدیث میں یہ زیادتی «وَالْمَرْأَةُ مِثْلُ ذَلِكَ» ”اور عورت بھی اسی طرح کرے گی“ امام زہری سے ابن نمیر کے علاوہ کوئی بیان نہیں کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 634]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 635
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: ذَكَرَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، فِي إِمَارَتِهِ عَلَى الْمَدِينَةِ، أَنَّهُ يَتَوَضَّأُ مَنْ مَسِّ الذِّكْرِ إِذَا أَفْضَى إِلَيْهِ بِيَدِهِ فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ، وَقُلْتُ: لَا وُضُوءَ عَلَى مَنْ مَسَّهُ فَقَالَ: مَرْوَانُ: بَلَى، أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ مَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيُتَوَضَّأُ مَنْ مَسَّ الذِّكْرِ" فَقَالَ: عُرْوَةُ فَلَمْ أَزَلْ أُمَارِي مَرْوَانَ حَتَّى دَعَا رَجُلًا مِنْ حَرَسِهِ، فَأَرْسَلَهُ إِلَى بُسْرَةَ يَسْأَلُهَا عَمَّا حَدَّثَتْهُ مِنْ ذَلِكَ، فَأَرْسَلَتِ إِلَيْهِ بُسْرَةُ بِمِثْلِ مَا حَدَّثَنِي عَنْهَا مَرْوَانُ. هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مروان بن حکم نے مدینہ طیبہ میں اپنی امارت کے دوران لکھا کہ شرمگاہ کو چھونے سے وضو کیا جائے جب کسی کا ہاتھ لگ جائے تو میں نے اس کا انکار کیا اور کہا: اس پر وضو نہیں ہے جس نے شرمگاہ کو چھوا۔ مروان کہتے ہیں: مجھے سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا گیا کہ کس چیز سے وضو کیا جائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شرمگاہ کو چھونے سے وضو کیا جائے گا۔“ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ہمیشہ مروان سے بحث و مباحثہ کرتا رہا یہاں تک کہ ایک پہرے دار سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا تاکہ ان سے سوال کرے کہ وہ اس کے بارے میں کیا بیان کرتی ہیں تو سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا نے ان کی طرف وہی لکھ بھیجا جو مجھ سے مروان بیان کرتے تھے۔
زہری کی حدیث میں یہی روایت صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 635]
زہری کی حدیث میں یہی روایت صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 635]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه النسائي 164»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 636
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، نا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَمِرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ مَسِّ الْمَرْأَةِ فَرْجَهَا أَتَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ: أَخْبَرَنِي ⦗٢١٠⦘ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إِلَى فَرْجِهِ فَلْيَتَوَضَّأْ" قَالَ:" وَالْمَرْأَةُ كَذَلِكَ" ظَاهَرُ هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ: قَالَ:" وَالْمَرْأَةُ مِثْلُ ذَلِكَ" مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ، وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَيْهِ أَنَّ سَائِرَ الرُّوَاةِ رَوَوْهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، دُونَ هَذِهِ الزِّيَادَةِ، وَرُوِيَ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
عبد الرحمن بن نمیر کہتے ہیں کہ میں نے امام زہری سے عورت کے شرم گاہ کو چھونے کے متعلق سوال کیا کہ کیا وہ وضو کرے گی؟ انہوں نے کہا: مجھ کو عبد اللہ بن ابوبکر، عروہ اور مروان بن حکم سے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی کا ہاتھ اپنی شرم گاہ کو لگ جائے تو وہ وضو کرلے“ اور عورت بھی اسی طرح کرے گی۔
(ب) اس حدیث کے ظاہر سے پتا چلتا ہے کہ «وَالْمَرْأَةُ مِثْلُ ذٰلِكَ» ”اور عورت بھی اسی طرح کرے“ زہری کا قول ہے۔
اور اس پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ باقی تمام راویوں نے اسے زہری سے اس زیادتی کے بغیر روایت کیا ہے۔ اور یہ اسماعیل بن عیاش کی ہشام بن عروہ عن ابیہ والی روایت میں بھی مروی ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 636]
(ب) اس حدیث کے ظاہر سے پتا چلتا ہے کہ «وَالْمَرْأَةُ مِثْلُ ذٰلِكَ» ”اور عورت بھی اسی طرح کرے“ زہری کا قول ہے۔
اور اس پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ باقی تمام راویوں نے اسے زہری سے اس زیادتی کے بغیر روایت کیا ہے۔ اور یہ اسماعیل بن عیاش کی ہشام بن عروہ عن ابیہ والی روایت میں بھی مروی ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 636]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ اخرجه النسائي 445»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 637
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ رَجَاءٍ الْأَدِيبُ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ النَّوقَائِيُّ، بِهَا قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْحِجَازِيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مَسَّتْ فَرْجَهَا فَلْتَتَوَضَّأْ" وَرَوَاهُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ بَقِيَّةَ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ثِقَةٌ، وَهَكَذَا رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، عَنْ عَمْرٍو، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عَمْرٍو.
شعیب اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھولے تو وہ وضو کرے اور جو عورت اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگالے وہ بھی وضو کرے۔“
محمد بن ولید زبیدی ثقہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 637]
محمد بن ولید زبیدی ثقہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 637]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الدار قطني 1/147»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ