🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
149. -- باب: ترك الوضوء من مس الفرج بظهر الكف
-- باب: ہاتھ کی پشت سے شرمگاہ کو چھونے سے وضو ساقط ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 648
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجَرَّاحِيُّ الْعَدْلُ الْحَافِظُ بِمَرْوَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى الْقَاضِي السَّرَخْسِيُّ، ثنا رَجَاءُ بْنُ مُرَجًّى الْحَافِظُ، قَالَ: اجْتَمَعْنَا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ أَنَا وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، فَتَنَاظَرُوا فِي مَسِّ الذَّكَرِ فَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: يُتَوَضَّأُ مِنْهُ، وَتَقَلَّدَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَوْلَ الْكُوفِيِّينَ وَقَالَ بِهِ، وَاحْتَجَّ ابْنُ مَعِينٍ بِحَدِيثِ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، وَاحْتَجَّ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ بِحَدِيثِ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، وَقَالَ لِيَحْيَى: كَيْفَ تَتَقَلَّدُ إِسْنَادَ بُسْرَةَ وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ أَرْسَلَ شُرْطِيًّا حَتَّى رَدَّ جَوَابَهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ يَحْيَى: ثُمَّ لَمْ يُقْنِعْ ذَلِكَ عُرْوَةَ حَتَّى أَتَى بُسْرَةَ فَسَأَلَهَا، وَشَافَهَتْهُ بِالْحَدِيثِ، ثُمَّ قَالَ يَحْيَى: وَلَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ وَأَنَّهُ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، فَقَالَ: أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ كِلَا الْأَمْرَيْنِ عَلَى مَا قُلْتُمَا فَقَالَ يَحْيَى: عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ يُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ فَقَالَ عَلِيٌّ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ: لَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ وَإِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْ جَسَدِكَ قَالَ: فَقَالَ يَحْيَى: هَذَا عَمَّنْ؟ فَقَالَ: عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ وَإِذَا اجْتَمَعَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَابْنُ عُمَرَ وَاخْتَلَفَا فَابْنُ مَسْعُودٍ أَوْلَى أَنْ يُتَّبَعَ فَقَالَ لَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: نَعَمْ وَلَكِنَّ أَبَا قَيْسٍ الْأَوْدِيَّ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ فَقَالَ: عَلِيٌّ: حَدَّثَنِي أَبُو ⦗٢١٥⦘ نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمَّارٍ قَالَ: لَا أُبَالِي مَسَسْتُهُ أَوْ أَنْفِي فَقَالَ يَحْيَى: بَيْنَ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ مَفَازَةٌ..
محدث رجاء بن مرجی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم احمد بن حنبل، علی بن مدینی اور یحییٰ بن معین رحمہم اللہ مسجدِ خیف میں جمع ہوئے، وہاں مسِ ذکر پر بحث و مباحثہ ہوا (کہ اس پر وضو ہے یا نہیں) تو یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے کہا: اس سے وضو ہے۔ علی بن مدینی رحمہ اللہ نے کوفیوں کے قول کی تقلید کی۔ ابن معین رحمہ اللہ کی دلیل سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے اور علی بن مدینی رحمہ اللہ کی دلیل قیس بن طلق کی روایت ہے اور انھوں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے کہا کہ آپ بسرہ رضی اللہ عنہا کی سند کو کیسے قبول کریں گے جبکہ مروان بن حکم نے تو ایک سپاہی بھیجا تھا جو ان کا جواب مروان کے پاس لایا تھا، تو یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے کہا کہ پھر عروہ نے اس پر بس نہیں کی، یہاں تک کہ وہ سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے روبرو انہیں حدیث سنائی، پھر یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے کہا: لوگوں نے قیس بن طلق پر بہت کلام کیا ہے اور اس کی حدیث قابلِ حجت نہیں۔ احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا: دونوں باتیں ویسے ہی ہیں جیسے تم دونوں نے کہیں۔
یحییٰ نے کہا: مالک، نافع کے واسطے سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ شرمگاہ کو چھونے سے وضو کیا جائے گا۔ علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”اس سے وضو نہیں ہے، وہ تو تیرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے۔“ یحییٰ نے کہا: یہ کس سے مروی ہے؟ تو انھوں نے کہا: سفیان، ابوقیس اور ہزیل کے واسطے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، اور جب ابن مسعود اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کسی بات میں اختلاف کریں تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی پیروی زیادہ لائق ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے ان سے کہا: ہاں، لیکن ابوقیس اودی کی حدیث قابلِ حجت نہیں۔ علی بن مدینی رحمہ اللہ نے کہا: مجھے ابونعیم نے مسعر سے، انہوں نے عمیر بن سعید سے اور انہوں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا: ”مجھے کوئی پروا نہیں کہ میں اسے چھوؤں یا اپنی ناک کو۔“ یحییٰ نے کہا: عمیر بن سعید اور عمار بن یاسر کے درمیان بڑا فاصلہ ہے (یعنی سند منقطع ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 648]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحاكم 1/234»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 649
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ النَّقَّاشُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى الْقَاضِي السَّرَخْسِيُّ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَبَعْضِ مَعْنَاهُ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فِي حَدِيثِ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمَّارٍ فَقَالَ أَحْمَدُ: عَمَّارٌ وَابْنُ عُمَرَ اسْتَوَيَا فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهَذَا، وَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهَذَا. قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِّينَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي حَدِيثِ بُسْرَةَ: سَمَاعُ عُرْوَةَ مِنْهَا كَمَا قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَكَأَنَّهُ رَجَعَ فِي ذَلِكَ إِلَى قَوْلِ يَحْيَى وَتَقْلِيدِ حَدِيثِ بُسْرَةَ.
عبداللہ بن یحییٰ قاضی سرخسی رحمہ اللہ نے اسی سند سے اس حدیث کے ہم معنی روایت نقل کی ہے۔ (ب) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے لیے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما دونوں صحابی رسول ہیں، جو چاہے عمار رضی اللہ عنہ کی روایت کو قبول کرلے اور جو چاہے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت پر عمل کرلے۔
(ج) شیخ کہتے ہیں: ہمارے اصحاب علی بن مدینی رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حدیثِ بسرہ رضی اللہ عنہا اور عروہ رحمہ اللہ کے سماع کے متعلق کچھ کہا، جیسے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے کہا ہے، گویا وہ یحییٰ بن معین رحمہ اللہ اور حدیثِ بسرہ رضی اللہ عنہا پر عمل پیرا ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 649]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحاكم 1/234»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 650
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: اجْتَمَعَ سُفْيَانُ وَابْنُ جُرَيْجٍ فَتَذَاكَرَا مَسَّ الذَّكَرِ، فَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ:" يُتَوَضَّأُ مِنْهُ"، وَقَالَ سُفْيَانُ:" لَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ"، فَقَالَ سُفْيَانُ:" أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَمْسَكَ بِيَدِهِ مَنِيًّا مَا كَانَ عَلَيْهِ؟" فَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ" يَغْسِلُ يَدَهُ" قَالَ:" فَأَيُّهُمَا أَكْبَرُ الْمَنِيُّ أَوْ مَسُّ الذَّكَرِ؟" فَقَالَ:" مَا أَلْقَاهَا عَلَى لِسَانِكَ إِلَّا الشَّيْطَانُ" قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا أَرَادَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَنَّ السُّنَّةَ لَا تُعَارَضُ بِالْقِيَاسِ، وَذَكَرَ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ الزَّعْفَرَانِيِّ عَنْهُ أَنَّ الَّذِي قَالَهُ مِنَ الصَّحَابَةِ لَا وُضُوءَ فِيهِ فَإِنَّمَا قَالَهُ بِالرَّأْيِ وَمَنْ أَوْجَبَ الْوُضُوءَ فِيهِ فَلَا يُوجِبُهُ إِلَّا بِالِاتِّبَاعِ.
(الف) سفیان اور ابن جریج رحمہما اللہ اکٹھے ہوئے تو انہوں نے مسِ ذکر پر بحث و مباحثہ کیا۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس سے وضو کیا جائے گا اور سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: وضو نہیں کیا جائے گا۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے بتاؤ اگر کوئی آدمی اپنے ہاتھ سے منی پکڑ لیتا ہے تو اس پر کیا ہے؟
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ اپنا ہاتھ دھوئے گا تو انہوں نے پوچھا: کیا منی زیادہ بڑی ہے یا شرمگاہ کو چھونا بڑا ہے؟ تو ابن جریج رحمہ اللہ نے کہا: یہ بات شیطان نے تمہارے دل میں ڈالی ہے۔
(ب) شیخ کہتے ہیں کہ ابن جریج رحمہ اللہ کی مراد یہ ہے کہ سنت کا تقابل قیاس سے نہیں کیا جائے گا۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ نے زعفرانی والی روایت میں ذکر کیا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے جس نے یہ کہا ہے کہ اس میں وضو نہیں ہے، اس نے اپنی رائے سے کہا ہے اور جس نے وضو واجب قرار دیا تو اس نے (سنت کی) اتباع ہی کی بنا پر واجب قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 650]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق 439»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 651
أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ:" كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ الْحَسَنُ فَأَقْبَلَ يَتَمَرَّغُ عَلَيْهِ، فَرَفَعَ عَنْ قَمِيصِهِ، وَقَبَّلَ زَبِيبَتَهُ". ⦗٢١٦⦘ فَهَذَا إِسْنَادُهُ غَيْرُ قَوِيٍّ، وَلَيْسَ فِيهِ أَنَّهُ مَسَّهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر لوٹ پوٹ ہونے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قمیص اٹھائی اور ان کی شرمگاہ کا بوسہ لیا۔
اس کی سند قوی نہیں ہے اور اس میں یہ ذکر نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہاتھ سے چھوا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 651]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
150. -- باب: في مس الأنثيين
-- باب: خصیوں کو چھونے کے احکام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 652
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الطُّوسِيُّ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بِشْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاضِرٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ صَاحِبُ أَبِي صَخْرَةَ، أنا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ، نا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ أَوْ أُنْثَيَيْهِ، أَوْ رُفْغَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ" وَفِي رِوَايَةِ الطُّوسِيِّ:" أَوْ رُفْغَيْهِ فَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ" قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ: كَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ هِشَامٍ وَوَهِمَ فِي ذِكْرِهِ الْأُنْثَيَيْنِ وَالرِّفْغِ وَإِدْرَاجِهِ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ بُسْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْمَحْفُوظُ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ قَوْلِ عُرْوَةَ غَيْرُ مَرْفُوعٍ، كَذَلِكَ رَوَاهُ الثِّقَاتُ عَنْ هِشَامٍ، مِنْهُمْ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَغَيْرُهُمَا.
سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اپنی شرمگاہ یا خصیتین یا میل جمع ہونے کی جگہ کو چھوئے تو وہ وضو کرے۔“
(ب) طوسی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”یا اپنی میل جمع ہونے کی دونوں جگہوں کو چھوئے تو وہ نماز جیسا وضو کرے۔“
علی بن عمر حافظ رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبدالحمید بن جعفر کو خصیتین اور میل والی جگہ کا ذکر کرنے اور اسے سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع حدیث میں داخل کرنے میں وہم ہوا ہے، محفوظ یہ ہے کہ یہ عروہ رحمہ اللہ کا قول ہے، مرفوع نہیں، ثقہ راویوں نے ہشام سے اسی طرح روایت کیا ہے، جن میں ایوب سختیانی اور حماد بن زید رحمہما اللہ وغیرہ شامل ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 652]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحاكم 1/229»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 653
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، ثنا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَارِثِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُبَشِّرٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ السَّرَّاجُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ" قَالَ: وَكَانَ عُرْوَةُ يَقُولُ:" إِذَا مَسَّ رِفْغَيْهِ أَوْ ذَكَرَهُ أَوْ أُنْثَيَيْهِ فَلْيَتَوَضَّأْ.
سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو وہ وضو کرے۔“
عروہ کہتے تھے کہ ”جو میل والی جگہ کو چھوئے یا خصیتین یا شرمگاہ کو چھوئے تو وہ وضو کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 653]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه الدارقطني 1/148»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 654
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَلِيٌّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: كَانَ أَبِي يَقُولُ:" إِذَا مَسَّ رِفْغَهُ أَوْ أُنْثَيَيْهِ أَوْ فَرْجَهُ فَلَا يُصَلِّي حَتَّى يَتَوَضَّأَ". وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُدْرَجًا فِي الْحَدِيثِ وَهُوَ وَهْمٌ ⦗٢١٧⦘ وَالصَّوَابُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ عُرْوَةَ:" وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا وُضُوءَ فِي الْمَسِّ وَإِنَّمَا اتَّبَعْنَا السُّنَّةَ فِي إِيجَابِهِ بِمَسِّ الْفَرْجِ فَلَا يَجِبُ بِغَيْرِهِ".
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ کے والد فرماتے تھے: جب کوئی شخص اپنی میل والی جگہ کو چھوئے یا خصیتیں یا اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو وہ نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وضو کرے۔
(ب) ایک اور سند کے ساتھ ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے مدرج حدیث منقول ہے، یہ کسی راوی کا وہم ہے اور درست بات یہی ہے کہ وہ عروہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔
(ج) قیاس یہ ہے کہ چھونے سے وضو نہیں ہے اور ہم نے شرمگاہ کو چھونے سے وضو واجب ہونے میں سنت کی اتباع کی ہے، لہٰذا اس کے علاوہ کسی چیز سے وضو واجب نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 654]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الدار قطني 1/148»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
151. -- باب: في مس الإبط
-- باب: بغل کو چھونے کے احکام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 655
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتُوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ يَسْأَلُ سُفْيَان يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ تَيَمَّمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنَاكِبِ، فَقَالَ سُفْيَانُ حَضَرْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أُمَيَّةَ أَتَى الزُّهْرِيَّ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ النَّاسَ يُنْكِرُونَ عَلَيْكَ حَدِيثَيْنِ قَالَ: وَمَا هُمَا؟ فَقَالَ: تَيَمَّمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنَاكِبِ، فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِيهِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارٍ، قَالَ: تَيَمَّمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنَاكِبِ. فَقَالَ إِسْمَاعِيلُ: وَحَدِيثُ عُبَيْدِ اللهِ فِي مَسِّ الْإِبْطِ، فَكَأَنَّ الزُّهْرِيَّ كَفَّ عَنْهُ كَالْمُنْكِرِ لَهُ أَوْ أَنْكَرَهُ فَأَتَيْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ فَأَخْبَرْتُهُ وَقَدْ كُنْتُ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ بِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ: عَمْرٌو: بَلْ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ أَنَّ عُمَرَ أَمَرَ رَجُلًا أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْ مَسِّ الْإِبْطِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَحَدِيثُ مَسِّ الْإِبْطِ مُرْسَلٌ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَقَدْ أَنْكَرَهُ الزُّهْرِيُّ بَعْدَمَا حَدَّثَ بِهِ وَقَدْ يَكُونُ أَمَرَ بِغَسْلِ الْيَدِ مِنْهُ تَنْظِيفًا، وَاللهُ أَعْلَمُ" وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ يُخَالِفُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فِي ذَلِكَ.
ابوبکر حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید قطان رحمہ اللہ سے سنا کہ انہوں نے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا، یعنی: ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کندھوں تک تیمم کیا۔“ سفیان رحمہ اللہ نے فرمایا: میں اسماعیل بن امیہ رحمہ اللہ کے پاس حاضر ہوا، وہ زہری رحمہ اللہ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے ابوبکر! لوگ آپ کی دو حدیثوں کا انکار کرتے ہیں! انہوں نے پوچھا: وہ کون سی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”انہوں نے کندھوں تک تیمم کیا۔“
زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کندھوں تک تیمم کیا۔“ اسماعیل رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبید اللہ کی حدیث میں بغلوں کو چھونے کا ذکر ہے۔
عبید اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو بغلیں چھونے کی بنا پر وضو کرنے کا حکم دیا۔
بغلوں کو چھونے والی حدیث مرسل ہے، عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا اور زہری رحمہ اللہ نے اسے بیان کرنے کے بعد اس کا انکار کر دیا تھا۔
بسا اوقات ہاتھ دھونے کا حکم صفائی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ بہتر جانتا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 655]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحميدي في سنده 143»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 656
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" إِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ وَمَسَّ إِبْطَهُ أَعَادَ الْوُضُوءَ" قَالَ: وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ⦗٢١٨⦘ عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَيْسَ عَلَيْهِ إِعَادَةٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَا يُوَافِقُ ابْنَ عَبَّاسٍ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب کوئی شخص وضو کرے اور اپنی بغلوں کو چھوئے تو وہ دوبارہ وضو کرے۔
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اس پر اعادہ ضروری نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 656]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 657
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ يَحْيَى الْبَكَّاءِ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ" أَدْخَلَ يَدَهُ فِي إِبْطِهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ ثُمَّ مَضَى فِي صَلَاتِهِ".
یحییٰ بکاء کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے اپنا ہاتھ نماز کی حالت میں بغلوں میں داخل کیا، پھر بھی اپنی نماز جاری رکھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 657]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں