السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
154. -- باب: ترك الوضوء من خروج الدم من غير مخرج الحدث
-- باب: جائے حدث کے علاوہ کسی اور جگہ سے خون نکلنے پر وضو ساقط ہونے (نہ ٹوٹنے) کا بیان
حدیث نمبر: 668
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا عَلِيٌّ أَبُو الْحُسَنِ بْنُ زَاطِيَا، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ الدِّمَشْقِيِّ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّهُ قَالَ: لَيْسَ الْوُضُوءُ مِنَ الرُّعَافِ، وَالْقَيْءِ، وَمَسِّ الذَّكَرِ، وَمَا مَسَّتِ النَّارُ بِوَاجِبٍ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ" فَقَالَ: إِنَّ قَوْمًا سَمِعُوا وَلَمْ يَعُوا، كُنَّا نُسَمِّي غَسْلَ الْيَدِ وَالْفَمِ وُضُوءًا وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ، وَإِنَّمَا أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ يَغْسِلُوا أَيْدِيَهُمْ وَأَفْوَاهَهُمْ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ تَكَلَّمُوا فِيهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نکسیر، قے، شرمگاہ کو چھونے اور جس (چیز) کو آگ نے چھوا ہے اس سے وضو کرنا واجب نہیں ہے۔ ان سے کہا گیا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس سے وضو کرو۔“ انہوں نے کہا: لوگوں نے سنا تو ہے لیکن اس کو یاد نہیں رکھا۔ ہم ہاتھوں کو دھونے اور منہ کے دھونے کا نام وضو رکھا کرتے تھے اور یہ واجب نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مومنوں کو حکم دیا کہ آگ پر پکی چیزوں سے اپنے ہاتھ اور منہ دھوئیں اور یہ واجب نہیں ہے۔
مطرف بن مازن پر (محدثین نے) کلام کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 668]
مطرف بن مازن پر (محدثین نے) کلام کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 668]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطبراني في الكبير 134»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 669
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا قَاءَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ أَوْ قَلَسَ أَوْ رَعَفَ فَلْيَتَوَضَّأْ، ثُمَّ لِيَبْنِ عَلَى مَا مَضَى مِنْ صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ". قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ ابْنُ عَيَّاشٍ مَرَّةً هَكَذَا وَمَرَّةً قَالَ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَكِلَاهُمَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ أَبِي عِصْمَةَ، ثنا أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ مَا رَوَى عَنِ الشَّامِيِّينَ صَحِيحٌ، وَمَا رَوَى عَنْ أَهْلِ الْحِجَازِ فَلَيْسَ بِصَحِيحٍ. قَالَ: وَسَأَلْتُ أَحْمَدَ عَنْ حَدِيثِ ابْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ قَاءَ أَوْ رَعَفَ" الْحَدِيثَ، فَقَالَ: هَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ عَيَّاشٍ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ يُسْنِدْهُ عَنْ أَبِيهِ، لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ عَائِشَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی کو نماز میں قے، سبز رنگ کا پانی یا نکسیر آئے تو وہ وضو کرے، پھر جو نماز پڑھ لی اسی پر بنیاد رکھے جب تک اس نے بات نہ کی ہو۔“
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قے کی یا اسے نکسیر آئی“ باقی مکمل حدیث ذکر کی۔
ابن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس حدیث کو ابن عیاش نے ایک مرتبہ اسی طرح اور ایک مرتبہ ابن جریج عن ابیہ عن عائشہ کی سند سے روایت کیا ہے اور دونوں محفوظ نہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسماعیل بن عیاش جو شامیوں سے روایت کرے وہ صحیح ہے اور جو اہلِ حجاز سے روایت کرے وہ صحیح نہیں، اس حدیث کو ابن جریج نے صرف اپنے والد سے روایت کیا ہے، اسے متصل سند سے بیان نہیں کیا اور اس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 669]
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قے کی یا اسے نکسیر آئی“ باقی مکمل حدیث ذکر کی۔
ابن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس حدیث کو ابن عیاش نے ایک مرتبہ اسی طرح اور ایک مرتبہ ابن جریج عن ابیہ عن عائشہ کی سند سے روایت کیا ہے اور دونوں محفوظ نہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسماعیل بن عیاش جو شامیوں سے روایت کرے وہ صحیح ہے اور جو اہلِ حجاز سے روایت کرے وہ صحیح نہیں، اس حدیث کو ابن جریج نے صرف اپنے والد سے روایت کیا ہے، اسے متصل سند سے بیان نہیں کیا اور اس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 669]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه ابن ماجه 1221»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 670
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، نا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَا: ثنا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: ⦗٢٢٣⦘ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ طَيْفُورٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، وَالْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَاءَ أَحَدُكُمْ، أَوْ قَلَسَ، أَوْ وَجَدَ مَذْيًا وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَلِيَرْجِعْ فَلْيَبْنِ عَلَى صَلَاتِهٍ، مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ" قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَقُولُ: هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، الَّذِي يَرْوِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، فَلَيْسَ بِشَيْءٍ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِيهِ لَيْسَتْ هَذِهِ الرِّوَايَةُ بِثَابِتَةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلَهُ مَعَ مَا رُوِيَ فِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَغَيْرِهِ عَلَى غَسْلِ بَعْضِ الْأَعْضَاءِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ مَرَّةً هَكَذَا مُرْسَلًا كَمَا رَوَاهُ الْجَمَاعَةُ وَهُوَ الْمَحْفُوظُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَهُوَ مُرْسَلٌ قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ: فِيمَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُمَا كَانَا يَرْعَفَانِ فَيَتَوَضَّآنِ، وَيَبْنِيَانِ عَلَى مَا صَلَّيَا فَقَدْ رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُمَا لَمْ يَكُونَا يَرَيَانِ فِي الدَّمِ وُضُوءًا وَإِنَّمَا مَعْنَى وَضُوئِهِمَا عِنْدَنَا غَسْلُ الدَّمِ وَمَا ⦗٢٢٤⦘ أَصَابَ مِنَ الْجَسَدِ لَا وُضُوءَ الصَّلَاةِ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ غَسَلَ يَدَيْهِ مِنْ طَعَامٍ ثُمَّ مَسَحَ بِبَلَلِ يَدَيْهِ وَجْهَهُ وَقَالَ: هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ وَهَذَا مَعْرُوفٌ مِنْ كَلَامِ الْعَرَبِ يُسَمَّى وَضُوءٌ لِغَسْلِ بَعْضِ الْأَعْضَاءِ لَا لِكَمَالِ وُضُوءِ الصَّلَاةِ فَهَذَا مَعْنَى مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُضُوءِ مِنَ الرُّعَافِ عِنْدَنَا، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَيْسَتْ هَذِهِ الرِّوَايَةُ بِثَابِتَةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ: وَعَلَى هَذَا يُحْمَلُ مَا رُوِيَ عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَيْءِ إِنْ صَحَّتِ الرِّوَايَةُ فِيهِ.
ابن جریج اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص قے، سبز رنگ کا پانی یا مذی پائے اور وہ نماز میں ہو تو وہ پھر جائے، وضو کرے اور واپس آکر اپنی گزشتہ نماز پر بنیاد رکھے، جب تک اس نے بات نہ کی ہو۔“
(ب) محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ ابن جریج سے مرسل ہونا صحیح ہے۔
(ج) ابن جریج کی حدیث جو ابن ابی ملیکہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے ہے اور اس کو اسماعیل بن عیاش روایت کرتے ہیں، ثابت نہیں۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن جریج جو اپنے والد سے روایت کرتے ہیں یہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے اور انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ سے جو روایت کی ہے، اس کو بعض نے اعضا کے دھونے پر محمول کیا ہے۔
(ر) شیخ کہتے ہیں کہ اس کو اسماعیل بن عیاش مرسل بیان کرتا ہے، ایک جماعت ابن جریج سے محفوظ بیان کرتی ہے اور وہ مرسل ہی ہے۔
(ز) امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ابن مسیب رحمہ اللہ سے جو منقول ہے کہ ان دونوں کو نکسیر آتی تو وہ وضو کرتے اور جتنی نماز پڑھ چکے ہوتے اسی پر بنا کرتے، تو ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ابن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ وہ دونوں خون (نکلنے) سے وضو کے قائل نہیں تھے، لہٰذا ہمارے ہاں ان کے وضو سے مراد خون اور جسم کے جس حصے کو وہ لگا ہو اسے دھونا ہے، نہ کہ نماز والا وضو۔
(س) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کھانا کھانے کے بعد دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنے ہاتھوں کی تری کو چہرے پر پھیرا اور فرمایا: ”یہ اس شخص کا وضو جو بے وضو نہیں ہوا۔“ عربوں کے کلام میں معروف ہے کہ وہ بعض اعضا دھونے کو بھی وضو کہتے تھے، صرف نماز کے مکمل وضو کو ہی وضو نہیں کہتے تھے۔ ابن جریج کی اپنے والد کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو روایت نکسیر کی وجہ سے وضو کرنے کے متعلق ہے، ہمارے ہاں اس سے یہی مراد ہے۔ واللہ اعلم۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔ شیخ کہتے ہیں: سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قے کے متعلق جو روایت ہے، اگر وہ صحیح ہو تو اسے بھی اسی پر محمول کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 670]
(ب) محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ ابن جریج سے مرسل ہونا صحیح ہے۔
(ج) ابن جریج کی حدیث جو ابن ابی ملیکہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے ہے اور اس کو اسماعیل بن عیاش روایت کرتے ہیں، ثابت نہیں۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن جریج جو اپنے والد سے روایت کرتے ہیں یہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے اور انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ سے جو روایت کی ہے، اس کو بعض نے اعضا کے دھونے پر محمول کیا ہے۔
(ر) شیخ کہتے ہیں کہ اس کو اسماعیل بن عیاش مرسل بیان کرتا ہے، ایک جماعت ابن جریج سے محفوظ بیان کرتی ہے اور وہ مرسل ہی ہے۔
(ز) امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ابن مسیب رحمہ اللہ سے جو منقول ہے کہ ان دونوں کو نکسیر آتی تو وہ وضو کرتے اور جتنی نماز پڑھ چکے ہوتے اسی پر بنا کرتے، تو ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ابن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ وہ دونوں خون (نکلنے) سے وضو کے قائل نہیں تھے، لہٰذا ہمارے ہاں ان کے وضو سے مراد خون اور جسم کے جس حصے کو وہ لگا ہو اسے دھونا ہے، نہ کہ نماز والا وضو۔
(س) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کھانا کھانے کے بعد دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنے ہاتھوں کی تری کو چہرے پر پھیرا اور فرمایا: ”یہ اس شخص کا وضو جو بے وضو نہیں ہوا۔“ عربوں کے کلام میں معروف ہے کہ وہ بعض اعضا دھونے کو بھی وضو کہتے تھے، صرف نماز کے مکمل وضو کو ہی وضو نہیں کہتے تھے۔ ابن جریج کی اپنے والد کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو روایت نکسیر کی وجہ سے وضو کرنے کے متعلق ہے، ہمارے ہاں اس سے یہی مراد ہے۔ واللہ اعلم۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔ شیخ کہتے ہیں: سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قے کے متعلق جو روایت ہے، اگر وہ صحیح ہو تو اسے بھی اسی پر محمول کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 670]
تخریج الحدیث: « [ضعيف أخرجه الدار قطني [1/153] »
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 671
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الدَّرَاوَرْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا أَبِي، عَنِ الْحُسَيْنِ الْمُعَلِّمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَاءَ فَأَفْطَرَ" فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: أَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوءَهُ. وَإِسْنَادُ هَذَا الْحَدِيثِ مُضْطَرِبٌ وَاخْتَلَفُوا فِيهِ اخْتِلَافًا شَدِيدًا، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَهُوَ مَذْكُورٌ مَعَ سَائِرِ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ فِي الْخِلَافِيَّاتِ.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی تو روزے کو چھوڑ دیا۔ میں سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کو دمشق کی مسجد میں ملا اور اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی انڈیلا تھا۔ یہ روایت مضطرب ہے، اس میں شدید اختلاف ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 671]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 2381»
الحكم على الحديث: صحيح
155. -- باب: ترك الوضوء من القهقهة في الصلاة
-- باب: نماز میں قہقہہ لگا کر ہنسنے سے وضو ساقط ہونے (نہ ٹوٹنے) کا بیان
حدیث نمبر: 672
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْحُسَيْنِيُّ بِالْكُوفَةِ، قَالَ: ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ عَنِ الرَّجُلِ يَضْحَكُ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ:" يُعِيدُ الصَّلَاةَ وَلَا يُعِيدُ الْوُضُوءَ".
ابوسفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو نماز میں ہنستا ہے تو انہوں نے فرمایا: وہ دوبارہ نماز پڑھے گا لیکن وضو نہیں کرے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 672]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه أبو يعلي 12313»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 673
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، نا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" إِذَا ضَحِكَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ أَعَادَ الصَّلَاةَ وَلَمْ يُعِدِ الْوُضُوءَ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آدمی نماز میں ہنسے تو وہ دوبارہ نماز پڑھے، لیکن وضو دوبارہ نہ کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 673]
تخریج الحدیث: « [ضعيف أخرجه الدار قطني [1/172] »
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 674
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، هُوَ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" يُعِيدُ الصَّلَاةَ وَلَا يُعِيدُ الْوُضُوءَ". وَهَكَذَا رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ دوبارہ نماز پڑھے گا اور وضو دوبارہ نہیں کرے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 674]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 675
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ قَالَ فِي الضَّحِكِ فِي الصَّلَاةِ:" لَيْسَ عَلَيْهِ إِعَادَةُ الْوُضُوءِ". وَعَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ مِثْلَهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَمُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ شُعْبَةَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ، وَرَوَاهُ أَبُو شَيْبَةَ ⦗٢٢٦⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ فَرَفَعَهُ، وَأَبُو شَيْبَةَ ضَعِيفٌ، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مَوْقُوفٌ وَرَوَاهُ حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ مِنْ قَوْلِهِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نماز میں ہنسنے سے وضو دوبارہ نہیں ہے۔
ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے اسے یزید ابو خالد سے مرفوع بیان کیا ہے، ابو شیبہ ضعیف ہے اور صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 675]
ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے اسے یزید ابو خالد سے مرفوع بیان کیا ہے، ابو شیبہ ضعیف ہے اور صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 675]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه الدار قطني 1/173»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 676
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْوَكِيلُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَرَأَوْا شَيْئًا فَضَحِكَ بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعَهُ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى حَيْثُ انْصَرَفَ:" مَنْ كَانَ ضَحِكَ مِنْكُمْ فَلْيُعِدِ الصَّلَاةَ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنْهُ أَنَّهُ أَمَرَ بِالْوُضُوءِ.
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، لوگوں نے کسی چیز کو دیکھا تو ہنس پڑے۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ جب نماز سے پھرے تو فرمایا: جو نماز میں ہنسا ہے وہ نماز دوبارہ پڑھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 676]
تخریج الحدیث: « [ضعيف۔ أخرجه الدار قطني [1/174] »
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 677
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ هُوَ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَكَرِيَّا، ثنا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي أُمَامَةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ:" الْحَدَثُ مَا كَانَ مِنَ النِّصْفِ الْأَسْفَلِ".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وضو کا ٹوٹنا بدن کے نچلے نصف حصے سے ہے (یعنی سبیلین سے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 677]