السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
597. -- باب: من قال يقرأ خلف الإمام فيما يجهر فيه بالقراءة بفاتحة الكتاب وفيما يسر فيه بفاتحة الكتاب فصاعدا
-- باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور سری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ پڑھا جائے
حدیث نمبر: 2927
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ هُوَ ابْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى الْحُرَقَةِ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ⦗٢٣٨⦘ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ" قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا خَلْفَ الْإِمَامِ فَأَقْرَأُ خَلْفَهُ قَالَ: فَأَخَذَ ذِرَاعِي، فَقَالَ: اقْرَأْ يَا فَارِسِيُّ بِهَا فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ نِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ" قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقُولُ الْعَبْدُ: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: ٢] يَقُولُ اللهُ: حَمِدَنِي عَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ: {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: ١] يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} يَقُولُ اللهُ: مَجَّدَنِي عَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ: {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} [الفاتحة: ٥] قَالَ اللهُ: هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ" وَفِي حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ" وَإِذَا قَالَ: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} قَالَ: مَجَّدَنِي عَبْدِي فَهَذَا لِي وَمَا بَقِيَ لَهُ يَقُولُ {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} [الفاتحة: ٥] ثُمَّ قَرَأَ حَتَّى بَلَغَ {وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: ٧] " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ مَالِكٍ وَرَوَاهُ الْحُمَيْدِيُّ فِي كِتَابِ الرَّدِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے نماز میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے۔“ ابوسائب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں بعض اوقات امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو انہوں نے میرے بازو کو پکڑ کر کہا: اے فارسی! اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کر؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میں نے نماز کو اپنے اور بندے کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر دیا ہے۔ اس کا نصف میرے لیے ہے اور نصف میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔ جب بندہ کہتا ہے: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میرے بندے نے میری تعریف بیان کی ہے“۔ جب بندہ کہتا ہے: ﴿الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ [سورة الفاتحة: 3] ”بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میرے بندے نے میری ثنا بیان کی“ اور جب بندہ کہتا ہے: ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ [سورة الفاتحة: 4] ”جزا کے دن کا مالک ہے“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میرے بندے نے میری عظمت بیان کی“۔ جب بندہ کہتا ہے: ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ [سورة الفاتحة: 5] ”ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہی ہے جس کا اس نے سوال کیا“۔“
ولید بن کثیر کی حدیث میں ہے کہ جب بندہ کہتا ہے: ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ [سورة الفاتحة: 4] ”قیامت کے دن کا مالک ہے“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میرے بندے نے میری عظمت بیان کی۔ یہ میرے لیے ہے اور باقی میرے بندے کے لیے ہے“۔ جب بندہ کہتا ہے: ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ [سورة الفاتحة: 5] پھر پوری سورت پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2927]
ولید بن کثیر کی حدیث میں ہے کہ جب بندہ کہتا ہے: ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ [سورة الفاتحة: 4] ”قیامت کے دن کا مالک ہے“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میرے بندے نے میری عظمت بیان کی۔ یہ میرے لیے ہے اور باقی میرے بندے کے لیے ہے“۔ جب بندہ کہتا ہے: ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ [سورة الفاتحة: 5] پھر پوری سورت پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2927]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 395»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2928
عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ" قَالَ: قُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّي أَسْمَعُ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ، فَقَالَ: يَا فَارِسِيُّ، أَوْ يَا ابْنَ الْفَارِسِيِّ، اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، فَذَكَرَهُ وَقَدْ رُوِّينَا الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ، عَنْ جِمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَمِنْهُمْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ نماز جس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ ناقص ہے۔“ علاء کے والد بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے ابوہریرہ! میں تو امام کی قرأت سن رہا ہوتا ہوں تو انہوں نے فرمایا: اے فارسی! یا فرمایا: اے فارسی کے بیٹے! اس کو اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔
(ب) صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت جن میں امیرالمومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں سے ہمیں قرأت خلف الامام کی روایات پہنچی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2928]
(ب) صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت جن میں امیرالمومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں سے ہمیں قرأت خلف الامام کی روایات پہنچی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2928]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الحميدي 973۔ 974»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2929
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا حَفْصٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ جَوَّابٍ التَّيْمِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عُمَرَ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ، فَقَالَ:" اقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، قُلْتُ: وَإِنْ كُنْتَ أَنْتَ؟ قَالَ: وَإِنْ كُنْتُ أَنَا، قُلْتُ: وَإِنْ جَهَرْتَ؟ قَالَ: وَإِنْ جَهَرْتُ".
یزید بن شریک بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے قراءت خلف الامام کے بارے میں پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سورہ فاتحہ ضرور پڑھا کرو۔ میں نے کہا: اگرچہ امام آپ ہی ہوں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! اگرچہ میں ہی ہوں۔ میں نے کہا: اگرچہ آپ اونچی قراءت کر رہے ہوں؟ انہوں نے کہا: ہاں! اگرچہ میں اونچی آواز میں قراءت کر رہا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2929]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ قال الدار قطني رجاله كلهم ثقات»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2930
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ الْإصْطَخْرِيُّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ مِنْ كِتَابِهِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَوْفَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ ⦗٢٣٩⦘ قَالَ عَلِيٌّ: رُوَاتُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ قَالَ الشَّيْخُ:" وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَيْهِ سَائِرُ الرِّوَايَاتِ أَنَّ جَوَّابًا أَخَذَهُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ، وَإِبْرَاهِيمَ أَخَذَهُ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ، وَلِإِبْرَاهِيمَ فِيهِ إِسْنَادٌ آخَرُ.
ابوبکر بن حارث فقیہ رحمہ اللہ نے اپنی سند سے اس جیسی حدیث روایت کی ہے۔ علی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس کے سارے راوی ثقہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2930]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2931
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْتَشِرِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَايَةَ رَجُلًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" لَا صَلَاةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَعَهَا" قَالَ: قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِذَا كُنْتَ خَلْفَ الْإِمَامِ قَالَ:" اقْرَأْ فِي نَفْسِكَ" وَمِنْهُمْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
ابراہیم بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بنو تمیم کے ایک شخص عبایہ سے سنا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ مزید کچھ (قرآن کا حصہ) پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ وہ آدمی کہتا ہے کہ میں نے کہا: جب میں امام کے پیچھے ہوں تو اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے فرمایا: اپنے دل میں اس (فاتحہ) کو پڑھ لیا کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2931]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ جهالة عين وحال الرجل من بني تميم»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2932
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، ح وَأَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ، ثنا الْمُعَلَّى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ" يَأْمُرُ أَوْ يَحُثُّ أَنْ يُقْرَأَ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي الظُّهْرِ، وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْأَعْلَى الشَّامِيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ شُعْبَةَ حَيْثُ قَالَ: عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَرَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ نَحْوَ رِوَايَةِ مَعْمَرٍ.
عبید اللہ بن ابی رافع سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ ظہر و عصر کی پہلی دو رکعتوں میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ اور ایک سورت مزید پڑھنے کا حکم یا ترغیب دیا کرتے تھے اور بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2932]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 3726»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2933
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أنبأ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَنْ مَوْلًى لَهُمْ عَنْ جَابِرٍ قَالَا:" يَقْرَأُ الْإِمَامُ وَمَنْ خَلْفَهُ فِي الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" وَسَمَاعُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثَابِتٌ وَكَانَ كَاتِبًا لَهُ، وَرُوِّينَا عَنِ الْحَكَمِ، وَحَمَّادٍ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ يَأْمُرُ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ وَهُوَ مُرْسَلٌ شَاهِدٌ لِمَا تَقَدَّمَ مِنَ الْمَوْصُولِ، وَفِي كُلِّ ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى ضَعْفِ مَا رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخِلَافِهِ بِأَسَانِيدَ لَا يَسْوَى ذِكْرَهَا لِضَعْفِهَا. ⦗٢٤٠⦘ وَمِنْهُمْ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
(ا) سیدنا علی اور حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ امام اور مقتدی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھیں جبکہ بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھیں۔ ان میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔
عبیداللہ بن ابی رافع کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہے، وہ آپ کے کاتب تھے۔
(ب) ہمیں حماد اور حکم کے واسطہ سے روایت بیان کی گئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیتے تھے۔
یہ روایت مرسل ہے جو گزشتہ موصول روایت کی شاہد ہے، اور ان سب میں اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف جو کچھ ایسی سندوں سے مروی ہے جو اپنے ضعف کی وجہ سے ذکر کے قابل نہیں، وہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2933]
عبیداللہ بن ابی رافع کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہے، وہ آپ کے کاتب تھے۔
(ب) ہمیں حماد اور حکم کے واسطہ سے روایت بیان کی گئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیتے تھے۔
یہ روایت مرسل ہے جو گزشتہ موصول روایت کی شاہد ہے، اور ان سب میں اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف جو کچھ ایسی سندوں سے مروی ہے جو اپنے ضعف کی وجہ سے ذکر کے قابل نہیں، وہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2933]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عن علي ولا يصح عن جابر»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2934
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، ثنا حَمَّادٌ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ: سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ، فَقُلْتُ لَهُ: تَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ؟ فَقَالَ عُبَادَةُ:" لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ".
محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا تو میں نے انہیں کہا کہ کیا آپ امام کے پیچھے بھی قراءت کرتے ہیں؟ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”قراءت کے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2934]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ (اسناده صحيح) وهو ثابت ايضا مرفوع بلفظهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2935
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِي، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي النَّضْرِ قَالَ: سَمِعْتُ حَمَلَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا لَا يُتِمُّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ، فَأَتَاهُ فَأَخَذَ بِيَدِهِ، فَقَالَ:" لَا تَشَبَّهُوا بِهَذَا وَلَا بِأَمْثَالِهِ، إِنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ، فَإِنْ كُنْتَ خَلْفَ إِمَامٍ فَاقْرَأْ فِي نَفْسِكَ، وَإِنْ كُنْتَ وَحْدَكَ فَأَسْمِعْ أُذُنَيْكَ، وَلَا تُؤْذِ مَنْ عَنْ يَمِينِكَ، وَمَنْ عَنْ يَسَارِكَ" هُوَ مُسْلِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَكِّيُّ الشَّامِيُّ، وَمَذْهَبُ عُبَادَةَ فِي ذَلِكَ مَشْهُورٌ وَمِنْهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا جو نہ رکوع مکمل کر رہا تھا اور نہ سجدے، عبادہ رضی اللہ عنہ اس شخص کے پاس آئے، اس کا ہاتھ پکڑا اور (دیگر لوگوں سے مخاطب ہوئے) فرمایا: اس کی نماز کی اتباع نہ کرو کیونکہ ”سورۃ الفاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔“ اگر تم امام کے پیچھے ہو تو اس کو اپنے دل میں پڑھا کرو اور اگر علیحدہ نماز پڑھ رہے ہو تو اپنی آواز صرف اپنے کانوں تک محدود رکھو اور اپنے دائیں بائیں والوں کو (اونچا پڑھ کر) تکلیف مت دو۔ اس بارے میں عبادہ رضی اللہ عنہ کا مذہب مشہور ہے، ان میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2935]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2936
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَتِيقُ، ثنا إِسْحَاقُ الرَّازِيُّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ قَالَ:" سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنِ كَعْبٍ أَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ؟ قَالَ:" نَعَمْ" وَمِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
عبداللہ بن ابی ہذیل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: میں امام کے پیچھے قراءت کروں؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، قراءت کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2936]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف