السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
597. -- باب: من قال يقرأ خلف الإمام فيما يجهر فيه بالقراءة بفاتحة الكتاب وفيما يسر فيه بفاتحة الكتاب فصاعدا
-- باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور سری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ پڑھا جائے
حدیث نمبر: 2947
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي التَّارِيخِ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَجِيهِ يَعْنِي النَّيْسَابُورِيَّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ" يَأْمُرُنَا بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ قَالَ: وَكُنْتُ أَقُومُ إِلَى جَنْبِ أَنَسٍ فَيَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ، وَيُسْمِعُنَا قِرَاءَتَهُ لَنَأْخُذَ عَنْهُ" كَذَا قَالَ ⦗٢٤٤⦘.
(ا) سیدنا ثابت رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہمیں امام کے پیچھے بھی قرأت کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پہلو میں کھڑا ہوا کرتا تھا تو وہ سورۃ فاتحہ اور مفصلات میں سے ایک سورت پڑھا کرتے تھے اور ہمیں اپنی قرأت سنایا بھی کرتے تھے تاکہ ہم ان سے یاد کر لیں
(ب) اس حدیث کو ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے «قِرَاءَةُ خَلْفَ الْإِمَامِ» میں احمد بن سعید دارمی رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2947]
(ب) اس حدیث کو ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے «قِرَاءَةُ خَلْفَ الْإِمَامِ» میں احمد بن سعید دارمی رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2947]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 2948
وَرَوَاهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ فِي كِتَابِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الدَّارِمِيِّ، عَنِ النَّضْرِ، عَنِ الْعَوَّامِ قَالَ: وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا الْعَوَّامُ، وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ وَهَذَا أَصَحُّ وَمِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
ایک دوسری سند سے اس جیسی روایت منقول ہے۔ ان میں عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2948]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2949
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، وَحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، وَيَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سُحَيْمٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيُّ، صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُعَلِّمُنَا أَنْ" نَقْرَأَ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" تَابَعَهُ سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ وَمِنْهُمْ عَائِشَةُ الصِّدِّيقَةُ بِنْتُ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَعَنْ أَبِيهَا.
(ا) عمر بن ابی سحیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ ہمیں سکھایا کرتے تھے کہ ہم امام کے پیچھے ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور ایک سورت پڑھیں اور پچھلی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھیں۔
(ب) ان میں سیدہ عائشہ صدیقہ بنت صدیق اکبر رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2949]
(ب) ان میں سیدہ عائشہ صدیقہ بنت صدیق اکبر رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2949]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2950
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى السَّمَرْقَنْدِيُّ مُشَافَهَةً أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ، حَدَّثَهُمْ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا كَانَا" يَأْمُرَانِ بِالْقِرَاءَةِ وَرَاءَ الْإِمَامِ إِذَا لَمْ يَجْهَرْ".
سیدہ عائشہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ دونوں امام کے پیچھے قراءت کا حکم دیتے تھے جب امام سری نماز پڑھا رہا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2950]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 2951
وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رُسْتَهْ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ إبْرَاهِيْمَ، ثنا عَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، أَنَّهُمَا كَانَا" يَأْمُرَانِ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ" وَكَانتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقْرَأُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَرُوِّينَا عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَرُوِّينَا عَنْ جِمَاعَةٍ مِنَ التَّابِعِينَ.
ابوصالح ذکوان سیدنا ابوہریرہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما دونوں سے روایت کرتے ہیں کہ یہ دونوں ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ اور قرآن کا کچھ حصہ پڑھنے کا حکم دیتے تھے اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2951]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2952
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَلَاءِ قَالُوا: كَانَ مَكْحُولٌ يَقُولُ:" اقْرَأْ فِي الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ سِرًّا" قَالَ مَكْحُولٌ:" اقْرَأْ بِهَا فِيمَا جَهَرَ بِهَا الْإِمَامُ إِذَا قَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسَكَتَ سِرًّا، وَإِنْ لَمْ يَسْكُتْ قَرَأْتَهَا قَبْلَهُ وَمَعَهُ وَبَعْدَهُ، لَا تَتْرُكَنَّهَا عَلَى حَالٍ".
(ا) ابن جابر، سعید بن عبدالعزیز اور عبداللہ بن علا رحمہ اللہ تینوں سے منقول ہے کہ مکحول رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں کی ہر رکعت میں آہستہ آواز میں سورہ فاتحہ پڑھا کرو۔
(ب) مکحول رحمہ اللہ نے فرمایا: سورہ فاتحہ کو ان نمازوں میں آہستہ آواز سے پڑھ جن میں امام اونچی قراءت کرتا ہے۔ جب امام سورہ فاتحہ پڑھے اور خاموش ہو جائے اور اگر امام خاموش نہ ہو تو سورہ فاتحہ کی قراءت امام سے پہلے یا امام کے ساتھ یا اس کے بعد کسی بھی وقت کر لے لیکن کسی بھی صورت میں اسے چھوڑنا درست نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2952]
(ب) مکحول رحمہ اللہ نے فرمایا: سورہ فاتحہ کو ان نمازوں میں آہستہ آواز سے پڑھ جن میں امام اونچی قراءت کرتا ہے۔ جب امام سورہ فاتحہ پڑھے اور خاموش ہو جائے اور اگر امام خاموش نہ ہو تو سورہ فاتحہ کی قراءت امام سے پہلے یا امام کے ساتھ یا اس کے بعد کسی بھی وقت کر لے لیکن کسی بھی صورت میں اسے چھوڑنا درست نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2952]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2953
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ:" لَكِنْ مَنْ مَضَى كَانُوا إِذَا كَبَّرُوا مَكَثَ الْإِمَامُ سَاعَةً لَا يَقْرَأُ قَدْرَ مَا يَقْرَءُونَ بِأُمِّ الْكِتَابِ" قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ فِي حَدِيثِهِ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كَانُوا" إِذَا كَبَّرُوا لَا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ، حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَنْ خَلْفَهُ قَدْ قَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ".
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پہلے لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ جب وہ تکبیر کہتے تھے تو امام کچھ دیر خاموش رہتا، قراءت نہ کرتا اتنی دیر تک کہ جتنی دیر میں وہ سورہ فاتحہ پڑھ لیں۔
عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن جریج اپنی حدیث میں ابن خثیم کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب وہ تکبیر کہتے تو اس وقت تک قراءت شروع نہ کرتے جب تک انھیں علم نہ ہو جاتا کہ ان کے پیچھے والوں نے سورہ فاتحہ پڑھ لی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2953]
عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن جریج اپنی حدیث میں ابن خثیم کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب وہ تکبیر کہتے تو اس وقت تک قراءت شروع نہ کرتے جب تک انھیں علم نہ ہو جاتا کہ ان کے پیچھے والوں نے سورہ فاتحہ پڑھ لی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2953]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه عبدالرزاق 2789»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 2954
قَالَ: وَثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: يَا بَنِيَّ" اقْرَءُوا فِي سَكْتَةِ الْإِمَامِ فَإِنَّهُ لَا تَتِمُّ صَلَاةٌ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ".
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اے میرے پیارے بیٹو! امام کے سکتہ میں (فاتحہ) پڑھ لیا کرو، کیونکہ ”سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2954]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2955
قَالَ: وَثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" اقْرَأْ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي كُلِّ صَلَاةٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي نَفْسِكَ".
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ امام کے پیچھے ہر نماز میں اپنے دل میں سورہ فاتحہ (ضرور) پڑھا کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2955]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2956
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" اقْرَأْ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ".
شعبی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھ لو اور آخری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2956]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح