السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
597. -- باب: من قال يقرأ خلف الإمام فيما يجهر فيه بالقراءة بفاتحة الكتاب وفيما يسر فيه بفاتحة الكتاب فصاعدا
-- باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور سری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ پڑھا جائے
حدیث نمبر: 2957
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ،" يُحْسِنُ الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ".
مالک بن مغول رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے شعبی رحمہ اللہ سے سنا کہ وہ امام کے پیچھے عمدہ آواز میں قراءت کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2957]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبية 3772»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2958
قَالَ: وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: قَالَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ:" اقْرَأْ فِي خَمْسِهِنَّ يَقُولُ: الصَّلَوَاتُ كُلُّهَا".
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پانچوں (نمازوں) میں قراءت کر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2958]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
598. -- باب: ختم الصلاة بالتسليم
-- باب: سلام پھیر کر نماز ختم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2959
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، مِنْ أَصْلِهِ ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى هُوَ ابْنُ ⦗٢٤٦⦘ الْحُسَيْنِ الْمُعَلِّمُ، ثنا أَبِي، ثنا بُدَيْلٌ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ بِالْحَمْدِ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ، وَلَمْ يُصَوِّبْهُ وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا، وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَكَانَ يَقُولُ:" بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ تَحِيَّةٌ" وَكَانَ يَنْهَانَا عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ، وَكَانَ يَنْهَانَا أَنْ يَفْرِشَ أَحَدُنَا ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ" وَلَفْظُهُمَا سَوَاءٌ إِلَّا أَنَّ فِي رِوَايَةِ يَزِيدَ: وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ. قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى:" عَقِبُ الشَّيْطَانِ أَنْ يَقْعُدَ عَلَى ظَهْرِ قَدَمَيْهِ جَمِيعًا" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ وَغَيْرِهِ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ.
(ا) ابو جوزاء سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو تکبیر کے ساتھ اور قراءت کو سورہ فاتحہ ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا رب ہے۔“ سے شروع کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو سر کو زیادہ اونچا کرتے نہ زیادہ نیچے، بلکہ برابر رکھتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سجدہ نہ کرتے، جب تک اطمینان سے کھڑے نہ ہو جاتے، پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو (دوسرا) سجدہ نہ کرتے حتیٰ کہ اطمینان سے بیٹھ جاتے اور بیٹھتے وقت بائیں پاؤں کو بچھاتے اور داہنے پاؤں کو کھڑا رکھتے اور دو رکعتوں کے بعد «التَّحِيَّاتِ» پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شیطان کی طرح بیٹھنے سے منع فرماتے تھے اور اس سے بھی منع فرماتے کہ کوئی درندے کی طرح اپنے بازو بچھائے اور نماز کو سلام سے ختم فرماتے تھے۔
(ب) یزید کی روایت کے الفاظ ہیں کہ «وَكَانَ يَنْهَىٰ عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ» ”شیطان کی چوکڑی سے منع فرماتے تھے۔“
(ج) عبدالاعلیٰ کہتے ہیں: «عَقِبُ الشَّيْطَانِ» کا مطلب ہے کہ اپنے دونوں پاؤں کی پشت پر بیٹھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2959]
(ب) یزید کی روایت کے الفاظ ہیں کہ «وَكَانَ يَنْهَىٰ عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ» ”شیطان کی چوکڑی سے منع فرماتے تھے۔“
(ج) عبدالاعلیٰ کہتے ہیں: «عَقِبُ الشَّيْطَانِ» کا مطلب ہے کہ اپنے دونوں پاؤں کی پشت پر بیٹھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2959]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 498»
الحكم على الحديث: صحيح
599. -- باب: تحليل الصلاة بالتسليم
-- باب: سلام کے ذریعے نماز سے حلال ہونے (نکلنے) کا بیان
حدیث نمبر: 2960
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْنَا: يَعْنِي الْإِشَارَةَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَابَةِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ لَنَا يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ فِي الصَّلَاةِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمْسِ، أَلَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَوْ أَحَدَهُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمَ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ".
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم انگشتِ شہادت کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے کہتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو، تم پر سلامتی ہو۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ نماز میں اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے ہیں جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہوں؟ کیا تم کو یا فرمایا: ان کو یہ کافی نہیں کہ وہ اپنے ہاتھ کو اپنی رانوں پر رکھے، پھر اپنی دائیں طرف اور بائیں طرف والے بھائی کو سلام کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2960]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 431»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2961
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، وَوَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ أَحَدُنَا أَشَارَ بِيَدِهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ، وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ:" مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَرْمِي بِيَدِهِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، إِنَّمَا يَكْفِي، أَوَلَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ وَيُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ، وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ؟" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ وَعَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ ⦗٢٤٧⦘ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ بِمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" أَمَا يَكْفِي لَمْ يَشُكَّ فِيهِ" وَجَعَلَ اللَّفْظَ لِابْنِ أَبِي زَائِدَةَ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کرتے تھے تو ہم میں سے کوئی اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے دائیں اور بائیں طرف والوں کو سلام کہتا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا کہ تم ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہو جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہوں؟ تمہارے لیے صرف اتنا کافی ہے“ یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ”کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ اس طرح کرے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگشت مبارکہ سے اشارہ کیا اور فرمایا: ”پھر اپنے دائیں اور بائیں طرف والے بھائی کو سلام کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2961]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2962
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَإِحْرَامُهَا التَّكْبِيرُ، وَإِحْلَالُهَا التَّسْلِيمُ" وَرُوِّينَا ذَلِكَ فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَغَيْرِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى ضِعْفِ.
(ا) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی چابی وضو ہے اور اس کو حرام کرنے والی چیز تکبیر ہے اور اس کو حلال کرنے والی چیز سلام پھیرنا ہے۔“
(ب) اس بارے میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول روایت گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2962]
(ب) اس بارے میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول روایت گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2962]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ وقد تقدم برقم 2261»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2963
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أنبأ أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا جَلَسَ مِقْدَارَ التَّشَهُّدِ ثُمَّ أَحْدَثَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ" عَاصِمُ بْنُ ضَمْرَةَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يُخَالِفُ مَا رَوَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ صَحَّ ذَلِكَ عَنْهُ فَهُوَ مَحْجُوجٌ بِمَا رَوَاهُ هُوَ وَغَيْرُهُ، عَنْ سَيِّدَنَا الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الَّذِي لَا حُجَّةَ فِي قَوْلِ أَحَدٍ مِنْ أُمَّتِهِ مَعَهُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی تشہد کی مقدار نماز میں بیٹھ جائے، پھر (اس کے بعد) بے وضو ہو جائے تو اس کی نماز مکمل ہو گئی۔
امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی مخالفت کبھی نہیں کرتے، اگرچہ یہ روایت صحیح ہو پھر بھی دلیل وہ روایت ہے جو انہوں نے یا ان کے علاوہ کسی اور نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے، جس کے مقابلے میں کسی امتی کا قول حجت نہیں ہو سکتا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ روایت ہی ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2963]
امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی مخالفت کبھی نہیں کرتے، اگرچہ یہ روایت صحیح ہو پھر بھی دلیل وہ روایت ہے جو انہوں نے یا ان کے علاوہ کسی اور نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے، جس کے مقابلے میں کسی امتی کا قول حجت نہیں ہو سکتا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ روایت ہی ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2963]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن ابي شبية 8469»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2964
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ:" مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ التَّكْبِيرُ وَانْقِضَاؤُهَا التَّسْلِيمُ، إِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ فَقُمْ إِنْ شِئْتَ" وَهَذَا الْأَثَرُ الصَّحِيحُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ مَا نَقُولُ.
(أ) ابواحوص سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نماز کی کنجی تکبیر ہے اور اس کا ختم کرنا سلام پھیرنا ہے۔ جب امام سلام پھیر لے تو اگر تو چاہے تو کھڑا ہو جا۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول یہ صحیح اثر ہمارے قول کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2964]
(ب) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول یہ صحیح اثر ہمارے قول کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2964]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2965
فِيمَا، أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَلِيُّ بْنُ حَمَّوَيْهِ بِبُخَارَا، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ قَالَ: أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي وَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِيَدِهِ وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ اللهِ فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ وَقَالَ:" قُلْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحَمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ" قَالَ أَبُو خَيْثَمَةَ: وَزَادَنِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنِ الْحَسَنِ" أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" قَالَ أَبُو خَيْثَمَةَ بَلَغَ حِفْظِي، عَنِ الْحَسَنِ فِي بَقِيَّةِ هَذَا الْحَدِيثِ" إِذَا فَعَلْتَ هَذَا أَوْ قَضَيْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ" هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ أَبِي خَيْثَمَةَ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَأَدْرَجُوا آخِرَ الْحَدِيثِ فِي أَوَّلِهِ، وَقَدْ أَشَارَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى إِلَى ذَهَابِ بَعْضِ الْحَدِيثِ، عَنْ زُهَيْرٍ فِي حِفْظِهِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ زُهَيْرٍ وَزَعَمَ أَنَّ بَعْضَ الْحَدِيثِ انْمَحَى مِنْ كِتَابِهِ أَوْ خَرَقَ، وَرَوَاهُ شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ زُهَيْرٍ وَفَصَلَ آخِرَ الْحَدِيثِ مِنْ أَوَّلِهِ وَجَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَكَأَنَّهُ أَخَذَهُ عَنْهُ قَبْلَ ذَهَابِهِ مِنْ حِفْظِهِ أَوْ مِنْ كِتَابِهِ ⦗٢٤٩⦘.
(ا) قاسم بن مخیمرہ سے روایت ہے کہ علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حدیث بیان کی کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں نماز میں (پڑھا جانے والا) تشہد سکھایا اور فرمایا: ”کہو: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ» ”تمام قولی، فعلی اور مالی عبادات اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔“
(ب) ابوخیثمہ بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث میں میرے بعض ساتھیوں نے حسن کے واسطہ سے یہ اضافہ کیا ہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
(ج) ابوخیثمہ کہتے ہیں کہ میری یادداشت میں حسن کے واسطہ سے اس حدیث کے بقیہ حصہ کے بارے میں یہ بات بھی پہنچی ہے: ”جب تم یہ کرلو یا اس کو مکمل کرلو تو تحقیق تمہاری نماز مکمل ہوگئی۔ اب اگر تو کھڑے ہونا چاہے تو کھڑا ہوجا اور اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جا۔“
(د) اس حدیث کو احمد بن یونس نے زہیر سے روایت کیا ہے اور یہ خیال کیا ہے کہ اس حدیث کا کچھ حصہ ان کی کتاب سے مٹ گیا تھا یا بوسیدہ ہوگیا تھا۔
ایک جماعت نے یہ حدیث ابوخیثمہ زہیر بن معاویہ سے روایت کی ہے اور حدیث کے آخری حصے کو اس کے شروع میں داخل (مدرج) کر دیا ہے، اور یحییٰ بن یحییٰ نے اشارہ کیا ہے کہ حسن بن حر سے مروی اس حدیث کا کچھ حصہ زہیر کے حافظے سے نکل گیا تھا۔ شبابہ بن سوار نے اسے زہیر سے روایت کیا تو حدیث کے آخری حصے کو اس کے شروع سے الگ کر کے اسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا، گویا انہوں نے یہ بات زہیر سے ان کے حافظے یا کتاب سے نکل جانے سے پہلے لی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2965]
(ب) ابوخیثمہ بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث میں میرے بعض ساتھیوں نے حسن کے واسطہ سے یہ اضافہ کیا ہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
(ج) ابوخیثمہ کہتے ہیں کہ میری یادداشت میں حسن کے واسطہ سے اس حدیث کے بقیہ حصہ کے بارے میں یہ بات بھی پہنچی ہے: ”جب تم یہ کرلو یا اس کو مکمل کرلو تو تحقیق تمہاری نماز مکمل ہوگئی۔ اب اگر تو کھڑے ہونا چاہے تو کھڑا ہوجا اور اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جا۔“
(د) اس حدیث کو احمد بن یونس نے زہیر سے روایت کیا ہے اور یہ خیال کیا ہے کہ اس حدیث کا کچھ حصہ ان کی کتاب سے مٹ گیا تھا یا بوسیدہ ہوگیا تھا۔
ایک جماعت نے یہ حدیث ابوخیثمہ زہیر بن معاویہ سے روایت کی ہے اور حدیث کے آخری حصے کو اس کے شروع میں داخل (مدرج) کر دیا ہے، اور یحییٰ بن یحییٰ نے اشارہ کیا ہے کہ حسن بن حر سے مروی اس حدیث کا کچھ حصہ زہیر کے حافظے سے نکل گیا تھا۔ شبابہ بن سوار نے اسے زہیر سے روایت کیا تو حدیث کے آخری حصے کو اس کے شروع سے الگ کر کے اسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا، گویا انہوں نے یہ بات زہیر سے ان کے حافظے یا کتاب سے نکل جانے سے پہلے لی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2965]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2966
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى إِلَى قَوْلِهِ الصَّالِحِينَ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَإِذَا قُلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ مِنَ الصَّلَاةِ فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ قَالَ عَلِيٌّ رَحِمَهُ اللهُ: شَبَابَةُ ثِقَةٌ وَقَدْ فَصَلَ آخِرَ الْحَدِيثِ وَجَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ مَنْ أَدْرَجَ آخِرَهُ فِي كَلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ تَابَعَهُ غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ وَغَيْرُهُ فَرَوَاهُ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ كَذَلِكَ آخِرُ الْحَدِيثِ مِنْ كَلَامِ ابْنِ مَسْعُودٍ لَمْ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: وَهِمَ زُهَيْرٌ فِي رِوَايَتِهِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ وَأَدْرَجَ فِي كَلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ مِنْ كَلَامِهِ وَهُوَ قَوْلُهُ:" إِذَا فَعَلْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ" وَهَذَا إِنَّمَا هُوَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، كَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ.
حسن بن حر نے بھی یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث کے ہم معنی روایت نقل کی ہے، یہ آپ کے قول «الصَّالِحِينَ» تک اسی طرح ہے، پھر فرمایا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔“
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب تو یہ پڑھ لے تو جو نماز تجھ پر فرض تھی وہ تو مکمل کر چکا۔ (اب تیری مرضی) اگر تو کھڑا ہونا چاہے تو کھڑا ہو جا اور اگر تو بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جا۔“
علی رحمہ اللہ نے فرمایا: شبابہ ثقہ ہیں، انہوں نے حدیث کے آخری حصے کو الگ کر کے اسے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا ہے، اور یہ ان لوگوں کی روایت سے زیادہ صحیح ہے جنہوں نے اس کے آخری حصے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں داخل کر دیا ہے، واللہ اعلم۔ ابوعلی حسین بن علی حافظ نے فرمایا: زہیر کو حسن بن حر سے روایت کرنے میں وہم ہوا ہے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں وہ بات داخل کر دی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام نہیں، یعنی یہ قول: ”جب تم یہ کر لو تو تم نے اپنی نماز مکمل کر لی“، یہ تو صرف سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2966]
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب تو یہ پڑھ لے تو جو نماز تجھ پر فرض تھی وہ تو مکمل کر چکا۔ (اب تیری مرضی) اگر تو کھڑا ہونا چاہے تو کھڑا ہو جا اور اگر تو بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جا۔“
علی رحمہ اللہ نے فرمایا: شبابہ ثقہ ہیں، انہوں نے حدیث کے آخری حصے کو الگ کر کے اسے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا ہے، اور یہ ان لوگوں کی روایت سے زیادہ صحیح ہے جنہوں نے اس کے آخری حصے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں داخل کر دیا ہے، واللہ اعلم۔ ابوعلی حسین بن علی حافظ نے فرمایا: زہیر کو حسن بن حر سے روایت کرنے میں وہم ہوا ہے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں وہ بات داخل کر دی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام نہیں، یعنی یہ قول: ”جب تم یہ کر لو تو تم نے اپنی نماز مکمل کر لی“، یہ تو صرف سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2966]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في اللذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح