🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1084. -- باب: من أجمع إقامة أربع أتم
-- باب: جس نے چار دن قیام کا پختہ ارادہ کر لیا تو وہ نماز پوری پڑھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5454
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" ضَرَبَ لِلْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسِ بِالْمَدِينَةِ إِقَامَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَتَسَوَّقُونَ بِهَا وَيَقْضُونَ حَوَائِجَهُمْ، وَلَا يُقِيمُ أَحَدٌ مِنْهُمْ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ". قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ، وَبِمِثْلِهِ أَجَابَ فِي الْجَدِيدِ: مَنْ أَجْمَعَ إِقَامَةَ أَرْبَعٍ أَتَمَّ الصَّلَاةَ. وَقَدْ رُوِّيتُ فِي ذَلِكَ أَحَادِيثَ. مِنْهَا: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَ ذَلِكَ.
اسلم فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہودیوں، عیسائیوں اور مجوسیوں کے لیے مدینہ میں بازار لگانے کے لیے تین دن قیام کی اجازت دی۔ وہ اپنی ضروریات بھی پوری کرتے تھے۔ تین دن کے بعد کسی کو قیام کی اجازت نہ تھی۔
نوٹ: امام شافعی رحمہ اللہ نے قدیم قول میں فرمایا، اور جدید قول میں بھی یہی جواب دیا: جو چار دن قیام کا ارادہ کرے وہ پوری نماز ادا کرے گا۔ اور اس بارے میں مجھے کئی احادیث روایت کی گئی ہیں، ان میں سے ایک قتادہ کے واسطے سے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اسی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5454]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مالك 872»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5455
فَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْخُرَاسَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ:" مَنْ أَجْمَعَ عَلَى إِقَامَةِ أَرْبَعِ لَيَالٍ وَهُوَ مُسَافِرٌ أَتَمَّ الصَّلَاةَ". قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ الْأَمْرُ الَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ عِنْدَنَا.
عطاء بن عبداللہ خراسانی نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سنا کہ جو چار رات قیام کا ارادہ کرے اور وہ مسافر ہو تو نماز پوری پڑھے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل علم کا یہی مذہب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5455]
تخریج الحدیث: «جيد۔ مالك 345»

الحكم على الحديث: جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5456
" وَوَجَدْنَا عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجْلَى الْيَهُودَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَضَرَبَ لَهُمْ أَجَلًا ثَلَاثًا". فَرَأَيْنَا ثَلَاثًا مِمَّا يُقِيمُ الْمُسَافِرُ، وَأَرْبَعًا كَأَنَّهَا بِالْمُقِيمِ أَشْبَهُ، لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ لِلْمُسَافِرِ أَنْ يُقِيمَ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثٍ كَانَ شَبِيهًا أَنْ يَأْمُرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ الْمُهَاجِرَ، وَيَأْذَنَ فِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلْيَهُودِ. قَالَ الشَّيْخُ: فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي.
”اور ہم نے پایا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کو جزیرۂ عرب سے جلا وطن کیا اور ان کے لیے تین دن کی مہلت مقرر کی۔“ تو ہم نے سمجھا کہ تین دن اس مدت میں سے ہیں جس میں مسافر ٹھہرتا ہے، اور چار دن مقیم کے زیادہ مشابہ ہیں، کیونکہ اگر مسافر کے لیے تین دن سے زیادہ ٹھہرنا جائز ہوتا تو قرینِ قیاس تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مہاجر کو اس کا حکم دیتے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہودیوں کو اس کی اجازت دیتے۔
شیخ فرماتے ہیں: رہی وہ حدیث جو آگے آ رہی ہے: [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5456]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5389»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5457
أَخْبَرَنَا بِهِ أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ الْقَزَّازُ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَقْصُرُ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ فَأَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا فَلَمْ يَزَلْ يَقْصُرُ حَتَّى رَجَعَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْنٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الثَّوْرِيِّ.
یحییٰ بن ابی اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (سفر پر) نکلے، ہم قصر کرتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچ گئے، ہم نے وہاں دس دن قیام کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپسی تک قصر ہی کرتے رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5457]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر التخريج الالف»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1085. -- باب: المسافر يقصر ما لم يجمع مكثا ما لم يبلغ مقامه ما أقام رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة عام الفتح
-- باب: مسافر جب تک ٹھہرنے کا پختہ ارادہ نہ کرے قصر کرتا رہے، جب تک کہ اس کا قیام اس مدت کو نہ پہنچ جائے جتنا رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال مکہ میں قیام فرمایا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5458
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَجْنَا مَعَهُ، فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ". قَالَ: قُلْتُ: كَمْ أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: عَشْرًا". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، فَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا أَرَادَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ بِقَوْلِهِ:" فَأَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا" أَيْ بِمَكَّةَ، وَمِنًى، وَعَرَفَاتٍ، وَذَلِكَ لِأَنَّ الْأَخْبَارَ الثَّابِتَةَ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ فِي حَجَّتِهِ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَأَقَامَ بِهَا ثَلَاثًا يَقْصُرُ وَلَمْ يُحْسَبِ الْيَوْمُ الَّذِي قَدِمَ فِيهِ مَكَّةَ لِأَنَّهُ كَانَ فِيهِ سَائِرًا، وَلَا يَوْمُ التَّرْوِيَةِ لِأَنَّهُ خَارِجٌ فِيهِ إِلَى مِنًى فَصَلَّى بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ، فَلَمَّا طَلَعَتِ الشَّمْسُ سَارَ مِنْهَا إِلَى ⦗٢١٣⦘ عَرَفَاتٍ، ثُمَّ دَفَعَ مِنْهَا حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَبَاتَ بِهَا لَيْلَتَئِذٍ حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ دَفَعَ مِنْهَا حَتَّى أَتَى مِنًى فَقَضَى بِهَا نُسُكَهُ، ثُمَّ أَفَاضَ إِلَى مَكَّةَ فَقَضَى بِهَا طَوَافَهُ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى فَأَقَامَ بِهَا ثَلَاثًا يَقْصُرُ ثُمَّ نَفَرَ مِنْهَا فَنَزَلَ بِالْمُحَصَّبِ فَأَذَّنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ، وَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَمْ يُقِمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْضِعٍ وَاحِدٍ أَرْبَعًا يَقْصُرُ، وَهَذَا كُلُّهُ مَوْجُودٌ فِي الْمَجْمُوعِ مِنْ رِوَايَاتِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَغَيْرِهِمْ فِي قِصَّةِ الْحَجِّ، وَتِلْكَ الرِّوَايَاتُ بِسِيَاقِهَا تَرِدُ بِمَشِيئَةِ اللهِ فِي كِتَابِ الْحَجِّ.
یحییٰ بن ابی اسحاق سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، تو واپسی تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو دو رکعات پڑھتے رہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: ”تم مکہ میں کتنی دیر ٹھہرے؟“ انہوں نے فرمایا: ”دس دن۔“
یہ حدیث صحیح ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے قول ”ہم نے وہاں دس دن قیام کیا“ سے مراد مکہ، منیٰ اور عرفات میں ٹھہرنا ہے، اس لیے کہ ثابت شدہ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حج میں مکہ تشریف لائے جب ذوالحجہ کے چار دن گزر چکے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں تین دن قیام کیا اور قصر فرماتے رہے۔ مکہ میں آنے کے دن کو شمار نہیں کیا گیا، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن سفر میں تھے، اور نہ ہی یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کو شمار کیا گیا، کیونکہ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ چلے گئے جہاں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نماز ادا کی۔ پھر جب سورج طلوع ہوا تو وہاں سے عرفات کی طرف روانہ ہوئے، پھر غروبِ شمس کے وقت وہاں سے چلے یہاں تک کہ مزدلفہ آئے اور وہ رات صبح تک وہیں گزاری۔ پھر وہاں سے چل کر منیٰ آئے اور اپنے مناسک ادا کیے۔ پھر مکہ جا کر طواف کیا۔ پھر منیٰ لوٹ کر وہاں تین دن قیام کیا اور قصر کرتے رہے۔ پھر وہاں سے کوچ کر کے وادیِ محصب میں اترے اور اپنے صحابہ میں کوچ کا اعلان کروایا۔ پھر نکل کر بیت اللہ کے پاس سے گزرے اور نمازِ فجر سے پہلے اس کا طواف کیا۔ پھر مدینہ کو چل دیے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک جگہ چار دن قیام کر کے قصر نہیں کیا۔ یہ سب کچھ حج کے واقعہ میں سیدنا ابن عباس، سیدہ عائشہ، سیدنا جابر بن عبداللہ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہم وغیرہ کی روایات کے مجموعے میں موجود ہے، اور وہ روایات اپنے سیاق کے ساتھ ان شاء اللہ کتاب الحج میں آئیں گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5458]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1030»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5459
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْمَنِيعِيٌّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" أَقَمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ تِسْعَةَ عَشَرَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" إِنْ زِدْنَا أَتْمَمْنَا". رَوَاهُ ⦗٢١٤⦘ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ عَنْ أَبِي شِهَابٍ، وَرَوَاهُ خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي شِهَابٍ فَقَالَ: سَبْعَ عَشْرَةَ..
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انیس دن سفر میں قصر کی اور فرماتے ہیں: اگر ہم زیادہ قیام کرتے تو نماز پوری پڑھتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5459]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5460
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، فَذَكَرَهُ، وَفِي آخِرِهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" وَنَحْنُ نَقْصُرُ سَبْعَ عَشْرَةَ، وَإِنْ زِدْنَا أَتْمَمْنَا".
ابو شہاب نے حدیث ذکر کی، اس کے آخر میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم نے سترہ دن قصر کی، اگر ہم زیادہ قیام کرتے تو نماز پوری پڑھتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5460]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معنيٰ تخريجه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5461
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو النَّمَرِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، وَحُصَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَافَرَ فَأَقَامَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ، فَنَحْنُ إِذَا سَافَرْنَا فَأَقَمْنَا تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا قَصَرْنَا، وَإِذَا زِدْنَا أَتْمَمْنَا الصَّلَاةَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ لُوَيْنٌ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْهُمَا، قَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَامَ سَبْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ، ثُمَّ ذَكَرَ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا فِي سَبْعَ عَشْرَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ، ثنا لُوَيْنٌ فَذَكَرَهُ.
(الف) عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر فرمایا اور حالتِ قیام میں انیس دن نماز قصر کی۔ جب ہم نے سفر کیا تو انیس دن تک نماز قصر کرتے رہے اور جب زیادہ کرتے تو نماز پوری پڑھتے۔
(ب) لوین نے ابو عوانہ سے (اسی سند سے) روایت کیا کہ (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سترہ دن قیام کیا اور نماز قصر کرتے رہے۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما کا سترہ دن والا قول بھی ذکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5461]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5458»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5462
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَامَ سَبْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ". وَرَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ فَقَالَ فِي أَكْثَرِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ: تِسْعَ عَشْرَةَ.
عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا اور سترہ دن کے قیام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز قصر کی۔
یہی حدیث ابو معاویہ نے عاصم احول سے روایت کی ہے اور اکثر روایات میں انیس دن کا تذکرہ فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5462]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن حبان 2750»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5463
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قَالَا: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، أَخْبَرَنِي الْجَوْزِيُّ، ثنا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، وَالْفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَيُوسُفُ قَالُوا: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَهَذَا حَدِيثُ الْجَوْزِيِّ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" سَافَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا فَأَقَامَ تِسْعَةَ عَشَرَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ". وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" فَنَحْنُ إِذَا سَافَرْنَا فَأَقَمْنَا تِسْعَةَ عَشَرَ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا". وَكَذَلِكَ فِي حَدِيثِ أَبِي خَيْثَمَةَ وَسُرَيْجٍ: تِسْعَ عَشْرَةَ.
عکرمہ رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کیا اور انیس دن قیام جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو دو رکعات پڑھتے رہے۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب ہم سفر کرتے اور انیس دن قیام کرتے تو دو دو رکعات پڑھتے۔ جب ہم اس سے زائد قیام کرتے تو چار رکعات نماز پڑھتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5463]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5458»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں