السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1085. -- باب: المسافر يقصر ما لم يجمع مكثا ما لم يبلغ مقامه ما أقام رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة عام الفتح
-- باب: مسافر جب تک ٹھہرنے کا پختہ ارادہ نہ کرے قصر کرتا رہے، جب تک کہ اس کا قیام اس مدت کو نہ پہنچ جائے جتنا رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال مکہ میں قیام فرمایا تھا
حدیث نمبر: 5464
وَرَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ فَقَالَ:" سَافَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَامَ سَبْعَةَ عَشَرَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ".
عثمان بن ابی شیبہ نے ابو معاویہ سے روایت کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کیا اور سترہ دن قیام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو دو رکعات پڑھتے رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5464]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5465
وَرَوَاهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ عَاصِمٍ فَقَالَ:" سَبْعَ عَشْرَةَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ، فَمَنْ أَقَامَ سَبْعَ عَشْرَةَ قَصَرَ، وَمَنْ أَقَامَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ أَتَمَّ".
حفص بن غیاث رحمہ اللہ، عاصم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سترہ دن کے قیام میں قصر ہے، جو سترہ دن کا قیام کرے وہ قصر کرے اور جو اس سے زیادہ قیام کرے وہ پوری نماز پڑھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5465]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5458»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5466
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْفَتْحِ تِسْعَةَ عَشَرَ لَيْلَةً يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ"..
عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”فتح کے سال انیس دن قیام کیا اور نماز قصر کی، یعنی دو دو رکعات پڑھتے رہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5466]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5467
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ بِمَكَّةَ سَبْعَ عَشْرَةَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ"..
عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں سترہ دن قیام کیا اور دو دو رکعات پڑھتے رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5467]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أبو داؤد 1232»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 5468
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ حَتَّى سَارَ إِلَى حُنَيْنٍ". كَذَا رَوَاهُ، وَلَا أَرَاهُ مَحْفُوظًا.
عبید اللہ بن عبداللہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”فتح مکہ کے سال پندرہ دن قیام کیا اور نماز قصر کرتے رہے، پھر حنین چلے گئے“۔ انھوں نے اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن میں اس کو محفوظ خیال نہیں کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5468]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ نسائي 1911»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 5469
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ:" ثُمَّ أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً يَقْصُرُ الصَّلَاةَ حَتَّى سَارَ إِلَى حُنَيْنٍ". ⦗٢١٦⦘ هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مُرْسَلٌ، وَرَوَاهُ أَيْضًا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ خَالٍ الْوَهْبِيُّ، وَسَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ.
محمد بن مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں پندرہ دن قیام کیا اور نماز قصر کی، پھر حنین چلے گئے۔
یہی صحیح ہے اور (یہ روایت) مرسل ہے۔ عبدہ بن سلیمان، احمد بن خالد وہبی اور سلمہ بن فضل نے بھی اسے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے اور اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5469]
یہی صحیح ہے اور (یہ روایت) مرسل ہے۔ عبدہ بن سلیمان، احمد بن خالد وہبی اور سلمہ بن فضل نے بھی اسے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے اور اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5469]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 5470
إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ فَإِنَّهُ رَوَاهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ خَمْسَ عَشْرَةَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، فَذَكَرَهُ. وَرَوَاهُ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَرِوَايَةُ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَصَحُّ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عبید اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کے سال پندرہ دن قیام کیا اور نماز قصر کی۔
عراک بن مالک نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کیا ہے، اور عکرمہ کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ان سب سے زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5470]
عراک بن مالک نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کیا ہے، اور عکرمہ کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ان سب سے زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5470]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 5471
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَجَّاجُ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: وَثنا يَعْقُوبُ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، جَمِيعًا عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ:" أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ زَمَانَ الْفَتْحِ بِثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ".
ابو نضرہ، عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے زمانہ میں مکہ میں اٹھارہ راتیں قیام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو دو رکعات پڑھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5471]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ احمد 4/431»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 5472
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ سَبْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ مُحَاصِرًا الطَّائِفَ". قَالَ الشَّيْخُ: وَيُمْكِنُ الْجَمْعُ بَيْنَ رِوَايَةِ مَنْ رَوَى تِسْعَ عَشْرَةَ، وَرِوَايَةِ مَنْ رَوَى سَبْعَ عَشْرَةَ، وَرِوَايَةِ مَنْ رَوَى ثَمَانِ عَشْرَةَ بِأَنَّ مَنْ رَوَاهَا تِسْعَ عَشْرَةَ عَدَّ يَوْمَ الدُّخُولِ وَيَوْمَ الْخُرُوجِ، وَمَنْ رَوَى ثَمَانِ عَشْرَةَ لَمْ يَعُدَّ أَحَدَ الْيَوْمَيْنِ، وَمَنْ قَالَ سَبْعَ عَشْرَةَ لَمْ يَعُدَّهُمَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ سترہ دن کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو دو رکعات پڑھتے رہے۔
شیخ فرماتے ہیں: جو قیام کے انیس دن شمار کرتا ہے وہ مکہ میں داخلے کا دن اور نکلنے کا دن دونوں کو شامل کر کے انیس دن بناتا ہے۔
جو قیام کے 18 دن شمار کرتا ہے وہ آنے اور جانے کے دنوں میں سے ایک کو شمار کرتا ہے اور جو قیام کے 17 دن شمار کرتا ہے وہ ان دونوں دنوں کو شمار نہیں کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5472]
شیخ فرماتے ہیں: جو قیام کے انیس دن شمار کرتا ہے وہ مکہ میں داخلے کا دن اور نکلنے کا دن دونوں کو شامل کر کے انیس دن بناتا ہے۔
جو قیام کے 18 دن شمار کرتا ہے وہ آنے اور جانے کے دنوں میں سے ایک کو شمار کرتا ہے اور جو قیام کے 17 دن شمار کرتا ہے وہ ان دونوں دنوں کو شمار نہیں کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5472]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ تقدم برقم 5462»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
1086. -- باب: من قال يقصر أبدا ما لم يجمع مكثا
-- باب: اس شخص کا قول کہ جب تک ٹھہرنے کا پختہ ارادہ نہ کرے ہمیشہ قصر کرتا رہے
حدیث نمبر: 5473
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ عِشْرِينَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ". ⦗٢١٧⦘ تَفَرَّدَ مَعْمَرٌ بِرِوَايَتِهِ مُسْنَدًا، وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ وَغَيْرُهُ عَنْ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَرُوِيَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَنَسٍ، وَقَالَ: بِضْعَ عَشْرَةَ، وَلَا أَرَاهُ مَحْفُوظًا وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ جَابِرٍ: بِضْعَ عَشْرَةَ.
(الف) محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک میں بیس دن قیام کیا اور نماز قصر کرتے رہے۔
(ب) انس اور جابر رضی اللہ عنہما دس سے کچھ اوپر بیان فرماتے ہیں۔
اسے مسند روایت کرنے میں معمر منفرد ہیں، جبکہ علی بن مبارک وغیرہ نے اسے یحییٰ سے، انہوں نے ابن ثوبان سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کیا ہے۔ اور اوزاعی کی یحییٰ کے واسطے سے انس رضی اللہ عنہ سے ”دس سے کچھ اوپر“ والی روایت کو میں محفوظ خیال نہیں کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5473]
(ب) انس اور جابر رضی اللہ عنہما دس سے کچھ اوپر بیان فرماتے ہیں۔
اسے مسند روایت کرنے میں معمر منفرد ہیں، جبکہ علی بن مبارک وغیرہ نے اسے یحییٰ سے، انہوں نے ابن ثوبان سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کیا ہے۔ اور اوزاعی کی یحییٰ کے واسطے سے انس رضی اللہ عنہ سے ”دس سے کچھ اوپر“ والی روایت کو میں محفوظ خیال نہیں کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5473]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن حبان 2749»
الحكم على الحديث: صحيح