السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1371. -- باب: ما يغسل به الميت وسنة التكرار في غسله
-- باب: جن چیزوں سے میت کو غسل دیا جائے اور اس کے غسل میں تکرار کے سنت ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6632
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّهَا قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَانَا فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاغْسِلْنَهَا وِتْرًا: ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي". قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ:" أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ". قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: فَضَفَّرْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ، ثُمَّ أَلْقَيْنَا خَلْفَهَا مُقَدِّمَتَهَا وَقَرْنَيْهَا". وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَا: أنبأ هِشَامٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، بِنَحْوِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ يَحْيَى، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ يَزِيدَ.
سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی فوت ہوگئی، سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ”اسے غسل دینا پانی اور بیری کے ساتھ اور غسل دینا طاق عدد تین یا پانچ مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ، اگر تم اس کی ضرورت محسوس کرو اور اس کے آخر میں کافور یا کچھ کافور لگانا اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتانا۔“ وہ کہتی ہیں: جب ہم فارغ ہوگئیں تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک چادر دی اور فرمایا: ”اسے اس کے جسم کے ساتھ لپیٹ دو۔“ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے ان کے سر کی تین مینڈھیاں کیں، پھر ہم نے ان کی پیشانی والی مینڈھی اور دونوں طرف کی مینڈھیاں ان کے پیچھے ڈال دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6632]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6633
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، وَحَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّهُ، بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي" فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ:" أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ". وَقَالَ أَيُّوبُ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ:" ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ سَبْعًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ" قَالَتْ: وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ حَمَّادٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ حَامِدِ بْنِ عُمَرَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی فوت ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تین یا پانچ مرتبہ غسل دینا یا اس سے زیادہ مرتبہ بھی اگر ضرورت محسوس ہو۔ پانی اور بیری سے غسل دینا اور آخر میں کافور لگانا یا کچھ کافور اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتا دینا۔“ سو جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک چادر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ”اسے اس کے جسم کے ساتھ لپیٹ دو“ اور یہ بھی فرمایا: ”تین، پانچ یا سات مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ اگر ضرورت محسوس ہو۔“ وہ کہتی ہیں اور ہم نے اس کے سر کی تین مینڈھیاں کیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6633]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6634
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُ الْغُسْلَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ: يَغْسِلُ بِالسِّدْرِ مَرَّتَيْنِ، وَالثَّالِثَةَ بِالْمَاءِ وَالْكَافُورِ".
محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے غسل کا طریقہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے لیا، وہ غسل دیتیں بیری کے ساتھ دو مرتبہ اور تیسری مرتبہ پانی اور کافور کے ساتھ، اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بیان کیا گیا کہ ان کے باپ نے وصیت کی کہ اے میرے بیٹے! جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے ایک مرتبہ پانی سے غسل دینا، عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ کو ایک مرتبہ غسل دینا کافی ہے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس میں کوئی چیز مقرر نہیں اور ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب بیری وغیرہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں اور اصحابِ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میت کو ایک ایک مرتبہ غسل دیا جائے اور ایک ہی کفن اور ایک ہی مرتبہ استنجاء کروانا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6634]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6635
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ الْإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، أنبأ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ، قَالُوا" الْمَيِّتُ يُغَسَّلُ وِتْرًا، وَيُكَفَّنُ وِتْرًا، وَيُجْمَرُ وِتْرًا".
ابراہیم رحمہ اللہ اصحابِ عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میت کو طاق عدد میں غسل دیا جائے اور طاق ہی کفن دیا جائے اور طاق ہی دھونی دی جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6635]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابن ماجه»
الحكم على الحديث: حسن
1372. -- باب: المريض يأخذ من أظفاره وعانته
-- باب: بیمار اپنے ناخن اور زیر ناف بال تراش لے
حدیث نمبر: 6636
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أنبأ ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ، حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" ابْتَاعَ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ خُبَيْبًا، وَكَانَ ⦗٥٤٨⦘ خُبَيْبٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ يَوْمَ بَدْرٍ، فَلَبِثَ خُبَيْبٌ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا حَتَّى أَجْمَعُوا لِقَتْلِهِ، فَاسْتَعَارَ مِنِ ابْنَةِ الْحَارِثِ مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهَا، فَأَعَارَتْهُ، فَدَرَجَ بُنَيٌّ لَهَا وَهِيَ غَافِلَةٌ حَتَّى أَتَتْهُ فَوَجَدْتُهُ مُخْلِيًا وَهُوَ عَلَى فَخِذِهِ وَالْمُوسَى بِيَدِهِ، فَفَزِعَتْ فَزْعَةً عَرَفَهَا، فَقَالَ:" أَتَحْسَبِينَ أَنِّى أَقْتُلَهُ، مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ذَلِكَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ. فَإِنْ لَمْ يَأْخُذْهُ حَتَّى تُوُفِّيَ فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى:" مِنْ أَصْحَابِنَا مَنْ قَالَ:" لَا أَرَى أَنْ يُحْلَقَ عَنْهُ بَعْدَ الْمَوْتِ شَعَرٌ وَلَا يُجَزُّ ظُفُرٌ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يَرَ بِذَلِكَ بَأْسًا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو حارث بن نوفل نے سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو خریدا اور سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے حارث بن نوفل کو غزوہ بدر میں قتل کیا تھا، تو سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ ان کے پاس قیدی کی حیثیت سے ٹھہرے ہوئے تھے اور انہوں نے ان کے قتل کا پروگرام بنایا تو سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے حارث کی بیٹی سے عاریۃً (ادھار) استرا طلب کیا تاکہ وہ زیرِ ناف بالوں کی صفائی کر لیں تو اس نے استرا دے دیا اور اس کا ایک چھوٹا بچہ چلتا ہوا اس کے پاس آ گیا اور وہ اس سے بے خبر تھی۔ جب اس نے دیکھا تو بچہ سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کی ران پر بیٹھا ہوا تھا اور استرا سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا تو وہ گھبرا گئی اور انہوں نے اس کی گھبراہٹ کو دیکھا اور کہا: ”تیرا خیال ہے کہ میں اسے قتل کر دوں گا؟ مگر میں ایسا کرنے والا نہیں ہوں۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے موسیٰ بن اسماعیل سے روایت کیا ہے۔ اگر اس نے فوت ہونے تک (بال اور ناخن) نہیں کاٹے تو امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمارے بعض احباب نے موت کے بعد بال کاٹنے اور ناخن تراشنے کو درست نہیں جانا اور ان میں سے بعض نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ شیخ نے بیان کیا کہ حسن رحمہ اللہ اور ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ناخن یا بال نہیں کاٹے جائیں گے۔ بیان کیا گیا ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے میت کو غسل دیا اور استرا منگوایا اور زیرِ ناف بال مونڈے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”کیا تم میت کی صفائی نہیں کرو گے؟“ یعنی اس کے بال نہیں کاٹو گے، گویا وہ اسے ناپسند کرتی تھیں جبکہ اس کی کنگھی کی جا سکے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6636]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے موسیٰ بن اسماعیل سے روایت کیا ہے۔ اگر اس نے فوت ہونے تک (بال اور ناخن) نہیں کاٹے تو امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمارے بعض احباب نے موت کے بعد بال کاٹنے اور ناخن تراشنے کو درست نہیں جانا اور ان میں سے بعض نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ شیخ نے بیان کیا کہ حسن رحمہ اللہ اور ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ناخن یا بال نہیں کاٹے جائیں گے۔ بیان کیا گیا ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے میت کو غسل دیا اور استرا منگوایا اور زیرِ ناف بال مونڈے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”کیا تم میت کی صفائی نہیں کرو گے؟“ یعنی اس کے بال نہیں کاٹو گے، گویا وہ اسے ناپسند کرتی تھیں جبکہ اس کی کنگھی کی جا سکے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6636]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
1373. -- باب: المحرم يموت
-- باب: محرم (احرام کی حالت میں) فوت ہو جائے
حدیث نمبر: 6637
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَّ رَجُلٌ عَنْ بَعِيرِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوُقِصَ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ؛ فَإِنَّ اللهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُهِلُّ وَيلَبِّي". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ سُفْيَانَ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ وَالثَّوْرِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ" ثَوْبَيْهِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ایک آدمی اپنے اونٹ سے گر پڑا، اس حال میں کہ وہ محرم تھا۔ اس کی گردن مروڑی گئی جس سے وہ فوت ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری سے غسل دو اور دو کپڑوں میں کفن دے دو اور اس کا سر نہ ڈھانپو، بیشک اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اٹھائے گا اور وہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھے گا“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6637]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6638
أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ: فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَّ ⦗٥٤٩⦘ مِنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ وَقْصًا فَمَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ؛ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ خَشْرَمٍ.
سعید بن جبیر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی احرام کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ وہ اونٹ سے گر گیا اور گردن مڑ جانے سے فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری سے غسل دو اور دو کپڑے پہناؤ اور اس کے سر کو نہ ڈھانپنا، بیشک وہ قیامت کے دن تلبیہ کہتا ہوا آئے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6638]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6639
وَأَمَّا حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ: فَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ:" كَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ؛ فَإِنَّ اللهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ،.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جسے اس کی سواری نے گرا دیا تھا، وہ فوت ہو گیا اس حال میں کہ وہ محرم تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دو کپڑوں میں کفن دو اور اسے غسل دو پانی اور بیری سے اور اس کے سر کو نہ ڈھانپنا۔ بیشک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اٹھائیں گے اور وہ تلبیہ کہتا ہوا آئے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6639]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6640
عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، بِمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَلَا تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَلَا رَأْسَهُ؛ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، أنبأ أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا وَكِيعٌ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ بِزِيَادَتِهِ. وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ وَكِيعٍ نَحْوَ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ سُفْيَانَ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْوَجْهِ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ فَشَكَّ فِي ثَوْبَيْنِ أَوْ ثَوْبَيْهِ وَلَمْ يَذْكُرْ وَجْهَهُ وَزَادَ" وَلَا تُحَنِّطُوهُ".
وکیع سفیان سے ایسی ہی حدیث بیان کرتے ہیں مگر انہوں نے یہ کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے چہرے اور سر کو نہ ڈھانپنا۔ بے شک وہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتے ہوئے اٹھایا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6640]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6641
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا كَانَ وَاقِفًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ بِعَرَفَةَ فَوَقَصَتْهُ، أَوْ قَالَ: أَقْصَعَتْهُ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ" أَوْ قَالَ:" فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ؛ فَإِنَّ اللهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَرَوَاهُ حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ وَعَمْرٍو، وَقَالَ:" فِي ثَوْبَيْنِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عرفات میں ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی اونٹنی پر تھا تو اس نے اسے گرا دیا اور وہ فوت ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری (کے پتوں) سے غسل دو اور دو کپڑوں میں کفن دو“ یا فرمایا: ”اس کے دونوں کپڑوں میں، اسے خوشبو نہ لگانا اور اس کے سر کو نہ ڈھانپنا، بیشک اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اٹھائے گا اور وہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6641]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح