السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1358. -- باب: ما يستحب من تطهير ثيابه التي يموت فيها
-- باب: ان کپڑوں کو پاک کرنے کے مستحب ہونے کا بیان جن میں وہ فوت ہو
حدیث نمبر: 6603
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ دَعَا بِثِيَابٍ جُدُدٍ فَلَبِسَهَا، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الْمَيِّتَ يُبْعَثُ فِي ثِيَابِهِ الَّتِي يَمُوتُ فِيهَا".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے نیا لباس منگوا کر پہنا، پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”میت کو انہیں کپڑوں میں اٹھایا جائے گا جن میں وہ فوت ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6603]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: حسن
1359. -- باب: ما يستحب من توجيهه نحو القبلة
-- باب: میت کو قبلہ رخ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6604
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ سَأَلَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، فَقَالُوا: تُوُفِّيَ، وَأَوْصَى بِثُلُثِهِ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَوْصَى أَنْ يُوَجَّهَ إِلَى الْقِبْلَةِ لَمَّا احْتُضِرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَابَ الْفِطْرَةَ، وَقَدْ رَدَدْتُ ثُلُثَهُ عَلَى وَلَدِهِ" ثُمَّ ذَهَبَ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَقَالَ:" اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَأَدْخِلْهُ جَنَّتَكَ، وَقَدْ فَعَلْتَ".
سیدنا عبداللہ بن ابو قتادہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے براء بن معرور رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ فوت ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تہائی مال کی وصیت کی ہے اور یہ بھی وصیت کی کہ جب مجھے موت آئے تو میرے چہرے کو قبلے کی طرف کر دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے فطرت کو پایا ہے اور میں نے اس کا تہائی حصہ اس کی اولاد کو لوٹا دیا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گئے، اس کی نماز جنازہ پڑھی اور فرمایا: «اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَأَدْخِلْهُ جَنَّتَكَ، وَقَدْ فَعَلْتَ» ”اے اللہ! اسے بخش دے اور اس پر رحمت کر اور اسے اپنی جنت میں داخل فرما جو تو نے کر دیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6604]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحاكم»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6605
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ ⦗٥٤٠⦘ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا قَالَ:" وَكَانَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ أَوَّلَ مَنِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ حَيًّا وَمَيِّتًا". وَهُوَ مُرْسَلٌ جَيِّدٌ.
عبد الرحمن بن عبد اللہ بن کعب بن مالک اس قصے میں بیان کرتے ہیں کہ براء بن معرور رضی اللہ عنہ پہلے شخص ہیں، جنہوں نے زندہ بھی اور مردہ حالت میں بھی قبلے کی طرف رخ کیا۔
یہ عمدہ مرسل روایت ہے۔
حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ نے کعبہ کا ذکر کیا تو کہا: اللہ کی قسم! یہ صرف پتھر ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے قبلے کے لیے نصب کیا ہے ہمارے زندوں کے لیے اور ہم مردوں کو بھی اسی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6605]
یہ عمدہ مرسل روایت ہے۔
حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ نے کعبہ کا ذکر کیا تو کہا: اللہ کی قسم! یہ صرف پتھر ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے قبلے کے لیے نصب کیا ہے ہمارے زندوں کے لیے اور ہم مردوں کو بھی اسی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6605]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن السعد»
الحكم على الحديث: صحيح
1360. -- باب: ما يستحب من إغماض عينيه إذا مات
-- باب: جب وہ فوت ہو جائے تو اس کی آنکھیں بند کر دینے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6606
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ، فَأَغْمَضَهُ ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ"، فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ، فَقَالَ:" لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ؛ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا يَقُولُونَ" ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ، وَأَرْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ، وَأَخْلِفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، اللهُمَّ أَفْسِحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھیں بند کر دیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جب روح قبض کر لی جاتی ہے تو نگاہیں اس کا پیچھا کرتی ہیں۔“ تو ان کے اہل خانہ چیخ پڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے نفسوں کے لیے بھلائی کے سوا کوئی دعا نہ کرو؛ بیشک جو تم کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ» ”اے اللہ! ابو سلمہ کو معاف کر دے اور مہدیین میں اس کے درجات بلند فرما اور پیچھے چھوڑے جانے والوں میں اس کا نائب (جانشین) مقرر فرما۔ اے رب العالمین! ہمیں بھی معاف کر دے اور اسے بھی، اے اللہ! اس کی قبر کو کشادہ کر دے اور اس کی قبر کو منور فرما دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6606]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6607
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو.
محمد بن عبدالوہاب فراء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں معاویہ بن عمرو رحمہ اللہ نے یہ حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6607]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6608
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْإِنْسَانِ إِذَا مَاتَ شَخَصَ بَصَرُهُ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" فَذَلِكَ حِينَ يَتْبَعُ بَصَرُهُ نَفْسَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَرُوِيَ فِي الْأَمْرِ بِالْإِغْمَاضِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِيمَا ذَكَرْنَا كِفَايَةٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم انسان کو نہیں دیکھتے کہ جب وہ فوت ہوتا ہے تو اس کی آنکھیں گڑ (کھلی رہ) جاتی ہیں؟“ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! ایسا ہی ہوتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تب ہوتا ہے جب نگاہیں روح کا پیچھا کرتی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6608]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6609
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالَا: ثنا سَعْدَانُ، ثنا مُعَاذٌ، ثنا ⦗٥٤١⦘ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" إِذَا غَمَّضْتَ الْمَيِّتَ فَقُلْ: بِسْمِ اللهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا حَمَلْتَهُ فَقُلْ: بِسْمِ اللهِ، ثُمَّ سَبِّحْ مَا دُمْتَ تَحْمِلُهُ".
بکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب تو میت کی آنکھیں بند کرے تو کہہ: «بِسْمِ اللّٰهِ وَعَلٰی مِلَّةِ رَسُوْلِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت پر“ اور جب تو اسے اٹھائے تو کہہ: «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پھر تو جب تک اٹھائے رکھے تو «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہتا رہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6609]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق»
الحكم على الحديث: صحيح
1361. -- باب: ما يستحب من وضع شيء على بطنه، ثم وضعه على سرير أو غيره لئلا يسرع انتفاخه
-- باب: میت کے پیٹ پر کوئی چیز رکھنے، پھر اسے چارپائی یا کسی اور چیز پر رکھنے کے مستحب ہونے کا بیان تاکہ وہ جلدی پھول نہ جائے
حدیث نمبر: 6610
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا أَبُو الْمُنِيبِ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ آدَمَ قَالَ: مَاتَ مَوْلًى لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عِنْدَ مَغِيبِ الشَّمْسِ، فَقَالَ أَنَسٌ:" ضَعُوا عَلَى بَطْنِهِ حَدِيدَةً".
عبداللہ بن آدم کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا غلام شام کے وقت فوت ہوا تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے پیٹ پر لوہے کی کوئی چیز رکھو۔
امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان سے ایک مرتبہ میت کے پیٹ پر تلوار رکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: وہ اس ڈر سے رکھی جاتی ہے کہ وہ پھول نہ جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6610]
امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان سے ایک مرتبہ میت کے پیٹ پر تلوار رکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: وہ اس ڈر سے رکھی جاتی ہے کہ وہ پھول نہ جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6610]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6611
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ آدَمَ، ثنا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" لَمَّا فُرِغَ مِنْ جِهَازِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ فِي بَيْتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب منگل کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز سے فراغت ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے گھر میں چارپائی پر رکھا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6611]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن ماجه»
الحكم على الحديث: ضعيف
1362. -- باب: ما يستحب من تسجيته بثوب يغطى به جميع جسده
-- باب: میت کو ایسے کپڑے سے ڈھانپنے کے مستحب ہونے کا بیان جس سے اس کا سارا جسم چھپ جائے
حدیث نمبر: 6612
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ:" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ سُجِّيَ بِبُرْدِ حِبَرَةٍ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خبر دیتی ہیں کہ جب پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یمنی چادر میں لپیٹا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6612]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح