السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1343. -- باب: المريض لا يسب الحمى، ولا يتمنى الموت لضر نزل به، وليصبر، وليحتسب
-- باب: بیمار بخار کو برا بھلا نہ کہے، اور نہ ہی کسی پہنچنے والی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا کرے، بلکہ اسے چاہیے کہ صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے
حدیث نمبر: 6563
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ أَحَدًا عَمَلُهُ" قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللهُ مِنْهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ، فَسَدِّدُوا، وَقَارِبُوا، وَلَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ، إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ، وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ". ⦗٥٢٩⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کسی کو اس کا عمل ہرگز جنت میں داخل نہیں کرے گا۔“ انہوں نے کہا: نہ ہی آپ کو اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور نہ ہی مجھ کو، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور فضل میں چھپا لے۔ سو تم سیدھے رہو اور قریب قریب رہو اور کوئی تم میں سے موت کی خواہش نہ کرے۔ اگر وہ نیکی کرنے والا ہے تو شاید اس کی نیکی میں اضافہ ہو جائے اور اگر وہ گناہ گار ہے تو شاید توبہ کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6563]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6564
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ، وَلَا يَدْعُو بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ، إِنَّهُ إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ عَنْهُ، وَإِنَّهُ لَا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ إِلَّا خَيْرًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی موت کی خواہش نہ کرے اور نہ ہی اس کے آنے سے پہلے اس کی دعا کرے؛ کیونکہ جب تم میں سے کوئی فوت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں اور مومن کی عمر اس کے لیے نہیں اضافہ کرتی مگر بھلائی میں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6564]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6565
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلِ: اللهُمَّ أَحْينِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ، وَغَيْرِهِ عَنْ أَنَسٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم میں سے کسی ایک کو تکلیف پہنچتی ہے اس کی وجہ سے وہ موت کی خواہش نہ کرے، اگر اس نے ضرور کرنی ہی ہے تو پھر کہے: «اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي» ”اے اللہ! مجھے زندہ رکھنا جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہے اور موت میرے حق میں بہتر ہو تو مجھے فوت کرلینا۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6565]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
1344. -- باب: المريض يحسن ظنه بالله عز وجل ويرجو رحمته
-- باب: بیمار اللہ عزوجل کے ساتھ نیک گمان رکھے اور اس کی رحمت کی امید رکھے
حدیث نمبر: 6566
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ، يَقُولُ:" لَا يَمُوتَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ". لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے تین دن قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کوئی مرے تم میں سے مگر یہ کہ وہ اپنے اللہ سے اچھا گمان رکھتا ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6566]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6567
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ إِمْلَاءً ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَارِمٌ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا وَاصِلٌ مَوْلَى ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ يَقُولُ:" لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ حَسَنُ الظَّنِّ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ عَارِمٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے تین یوم قبل فرمایا: ”نہ مرے تم میں سے کوئی ایک مگر یہ کہ وہ اللہ سبحانہ کے متعلق اچھا ظن رکھتا ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6567]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
1345. -- باب: المريض يقول: وارأساه، أو إني وجع، أو اشتد بي الوجع
-- باب: بیمار کا یہ کہنا کہ ”ہائے میرا سر“ یا ”میں درد میں مبتلا ہوں“ یا ”میری تکلیف بڑھ گئی ہے“
حدیث نمبر: 6568
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ مَحْفُوظٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ التُّرْكُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ أَبُو يَعْقُوبَ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ:" وَارَأْسَاهْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَاكَ لَوْ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَأَسْتَغْفِرَ لَكِ وَأَدْعُوَ لَكِ" فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَاثُكْلِتَاهْ، وَاللهِ إِنِّي لَأَظُنُّكَ تُحِبُّ مَوْتِي، وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ لَظَلَلْتَ آخِرَ يَوْمِكَ مُعَرِّسًا بِبَعْضِ أَزْوَاجِكَ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ أَنَا وَارَأْسَاهْ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ أَرَدْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَابْنِهِ فَأَعْهَدَ أَنْ يَقُولَ الْقَائِلُونَ أَوْ يَتَمَنَّى الْمُتَمَنُّونَ، ثُمَّ قُلْتُ: يَأْبَى اللهُ وَيَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ، أَوْ يَدْفَعُ اللهُ وَيَأْبَى الْمُؤْمِنُونَ". لَفْظُ حَدِيثِ جَعْفَرٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”ہائے میرا سر!“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تیرے ساتھ ایسا ایسا ہوا (تو فوت ہوگئی) اور میں زندہ ہوا تو میں تیرے لیے بخشش طلب کروں گا اور تیرے لیے دعا کروں گا۔“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”ہائے میں گم جاؤں! اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ آپ میرے مرنے کو پسند کرتے ہیں، اگر ایسا ہوا تو آپ اسی دن کے آخری حصے میں اپنی بیویوں میں سے کسی کے ساتھ شبِ زفاف منا رہے ہوں گے۔“ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ میرا اپنا سر (تکلیف میں ہے) اور میرا ارادہ ہے کہ میں سیدنا ابوبکر اور ان کے بیٹے رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیجوں اور ان سے معاہدہ کراؤں، تاکہ کہنے والے کچھ نہ کہیں اور خواہش کرنے والے خواہش نہ کریں؛ پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ انکار کرتا ہے اور مومن اس کو ٹھکراتے ہیں، یا فرمایا: مومن ٹھکراتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انکار کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6568]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6569
وَقَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ:" جَاءَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي زَمَنَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقُلْتُ: أَيْ رَسُولَ اللهِ، بَلَغَ بِي مَا تَرَى مِنَ الْوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ، وَفِي رِوَايَةٍ بَلَغَ مِنِّي الْوَجَعَ". أَخْبَرَنَاهُ ابْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، فَذَكَرَهُ، وَقَالَ: بَلَغَ مِنِّي الْوَجَعُ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تیمار داری کے لیے تشریف لائے اس تکلیف کی وجہ سے جو مجھے حجۃ الوداع کے موقع پر بہت زیادہ تھی، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ تکلیف پہنچی ہے جسے آپ دیکھ رہے ہیں اور میں صاحبِ مال ہوں۔ ایک روایت میں ہے کہ مجھے بہت تکلیف پہنچی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6569]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
1346. -- باب: في موت الفجاءة
-- باب: اچانک موت آ جانے کے بیان میں
حدیث نمبر: 6570
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الصَّوَّافُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَبْسِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، أَوْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَرَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ مَرَّةً أُخْرَى عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ:" مَوْتُ الْفُجَاءَةِ أَخْذَةُ أَسَفٍ"..
عبید بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچانک موت غم گین کرنے والی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6570]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6571
وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدٍ، مِنْ غَيْرِ شَكٍّ وَرَفَعَهُ، قَالَ شُعْبَةُ: هَكَذَا حَدَّثَنِيهِ، وَحَدَّثَنِيهِ مَرَّةً أُخْرَى فَلَمْ يَرْفَعْهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو ⦗٥٣١⦘ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا شُعْبَةُ فَذَكَرَهُ. قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ بِهَذَا مَوْقُوفٌ.
روح بن عبادہ نے اسے شعبہ سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے تمیم بن سلمہ سے اور انہوں نے عبید سے بغیر شک کے روایت کیا اور اسے مرفوع بیان کیا۔ شعبہ کہتے ہیں: انہوں نے مجھے اسی طرح بیان کیا اور ایک دوسری مرتبہ بیان کیا تو اسے مرفوع بیان نہیں کیا۔
ابن بشار رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں محمد بن جعفر رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی، ہمیں شعبہ رحمہ اللہ نے ایسی حدیث موقوفاً بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6571]
ابن بشار رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں محمد بن جعفر رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی، ہمیں شعبہ رحمہ اللہ نے ایسی حدیث موقوفاً بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6571]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ سنده موقوف»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6572
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنْ مَوْتِ الْفُجَاءَةِ، أَيُكْرَهُ؟. قَالَتْ: لِأِيِّ شَيْءٍ يُكْرَهُ؟ سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" رَاحَةٌ لِلْمُؤْمِنِ، وَأَخْذُ أَسَفٍ لِلْفَاجِرِ". وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ مَوْقُوفًا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
عبداللہ بن عبید بن عمیر کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اچانک موت کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہ ناپسند کی جاتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ کس وجہ سے ناپسند کی جاتی ہے؟ میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے لیے راحت ہے اور فاجر کے لیے باعثِ غم۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6572]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ احمد»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً