🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1341. -- باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستشعره من الصبر على جميع ما يصيبه من الأمراض والأوجاع والأحزان لما فيها من الكفارات والدرجات
-- باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ اسے جو بھی بیماریاں، تکلیفیں اور غم پہنچیں ان پر صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ ان میں گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6553
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ النَّصْرُأَبَاذِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ الدَّوْسِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَوَدُّ أَهْلُ الْعَافِيَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ جُلُودَهُمْ قُرِضَتْ بِالْمَقَارِيضِ مِمَّا يَرَوْنَ مِنْ ثَوَابِ أَهْلِ الْبَلَاءِ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صحت و تندرستی والے قیامت کے دن پسند کریں گے کہ ان کے جسموں کو قینچیوں سے کاٹا جاتا اس وجہ سے جو وہ اہل مصائب کے اجر کو دیکھیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6553]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ترمذي»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6554
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا ثَابِتٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُؤْمِنُ كُلٌّ لَهُ فِيهِ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَهُ سَرَّاءُ فَشَكَرَ اللهَ فَلَهُ أَجْرٌ، وَإِنْ أَصَابَهُ ضَرَّاءُ فَصَبَرَ فَلَهُ أَجْرٌ، فَكُلُّ قَضَاءِ اللهِ لِلْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ.
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے لیے ہر حالت میں بہتری ہے اور یہ مومن کے علاوہ کسی ایک کے لیے بھی نہیں۔ اگر اسے بھلائی حاصل ہوتی ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، وہ اس کے لیے اس کے عوض اجر ہے۔ اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے تو اس صورت میں بھی اس کے لیے اجر ہے۔ غرض مسلمان کے لیے اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ بہتر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6554]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6555
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَجِبْتُ لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ حَمِدَ اللهَ وَشَكَرَ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ حَمِدَ اللهَ وَصَبَرَ، فَالْمُؤْمِنُ يُؤْجَرُ عَلَى كُلِّ أَمْرِهِ، حَتَّى يُؤْجَرَ فِي اللُّقْمَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِهِ". وَفِي هَذَا أَخْبَارٌ كَثِيرَةٌ، وَفِيمَا ذَكَرْنَا كِفَايَةٌ لِمَنْ أُيِّدَ بِالتَّوْفِيقِ.
عمر بن سعد اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں مومن پر تعجب کرتا ہوں کہ اگر اسے کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر اور حمد بجا لاتا ہے، اگر اسے کوئی مصیبت آتی ہے تو پھر بھی اللہ کی حمد بیان کرتا ہے اور صبر کرتا ہے، سو مومن ہر حالت میں اجر دیا جاتا ہے حتیٰ کہ اس لقمے میں بھی جو اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6555]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه احمد»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1342. -- باب: الوباء يقع بأرض فلا يخرج فرارا منه وليمكث بها صابرا محتسبا وإذا وقع بأرض ليس هو بها فلا يقدم عليه
-- باب: جب کسی علاقے میں وبا پھیل جائے تو وہاں سے فرار ہو کر نہ نکلے بلکہ ثواب کی نیت سے صبر کرتے ہوئے وہیں ٹھہرا رہے، اور اگر کسی ایسی جگہ وبا پھیل جائے جہاں وہ موجود نہیں تو وہاں نہ جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6556
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ عِيسَى قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَلَمَّا جَاءَ سَرْغَ بَلَغَهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا ⦗٥٢٧⦘ سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدُمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ". فَرَجَعَ عُمَرُ مِنْ سَرْغَ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ إِنَّمَا انْصَرَفَ بِالنَّاسِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَغَيْرِهِ عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف نکلے، جب (مقامِ) سرغ پہنچے تو انہیں خبر ملی کہ شام میں وبا پھوٹ پڑی ہے، تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی علاقے میں وبا کے متعلق سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب ایسی جگہ وبا پھوٹ پڑے جہاں تم موجود ہو تو وہاں سے فرار کی نیت سے نہ نکلو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (سرغ) سے پلٹ آئے۔ ابن شہاب، سالم بن عبداللہ سے اور وہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ پلٹ آئے، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث کی وجہ سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6556]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6557
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يَحَدِّثُ سَعْدًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا". فَقُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ يُحَدِّثُ بِهِ سَعْدًا وَلَا يُنْكِرُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَغَيْرِهِ.
ابراہیم بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سعد سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم سنو کہ کسی علاقے میں طاعون کی وبا پھیلی ہے تو اس میں داخل نہ ہونا اور جب ایسے علاقے میں طاعون کی وبا پھیلے جہاں پہلے سے تم موجود ہو تو پھر وہاں سے مت نکلو۔“ میں نے کہا: کیا آپ نے انہیں یہ حدیث سعد سے بیان کرتے ہوئے سنا اور انہوں نے اس کا انکار نہیں کیا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6557]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6558
وَرَوَاهُ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، فَقَالَ فِي مَتْنِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا الطَّاعُونُ بَقِيَّةُ رِجْزٍ وَعَذَابٍ عُذِّبَ بِهِ قَوْمٌ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَهْبِطُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا عَنْهُ". أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ فَذَكَرَهُ.
وہب بن جریر نے اسے شعبہ سے روایت کیا اور اس کے متن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ طاعون اس عذاب کا بقیہ ہے جس کے ذریعے ایک قوم کو عذاب دیا گیا، جب کسی علاقے میں (یہ) ہو تو وہاں نہ جاؤ اور جب ایسے علاقے میں پھیلے جہاں تم پہلے موجود ہو تو وہاں سے نہ نکلو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6558]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6559
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالُوا: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"" إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْزٌ وَبَقِيَّةُ عَذَابٍ عُذِّبَ بِهِ قَوْمٌ، فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ فِيهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا مِنْهُ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَلَسْتُمْ بِهَا فَلَا تَدْخُلُوهَا"". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ وَكِيعٍ.
سیدنا سعد بن مالک، سیدنا خزیمہ بن ثابت اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ طاعون عذاب ہے اور اس عذاب کا بقیہ ہے جو اقوام پر عذاب نازل ہوا۔ جب یہ کسی علاقے میں واقع ہو اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے نہ نکلو فرار اختیار کرتے ہوئے اور جب واقع ہو اس زمین میں جہاں تم نہیں تھے تو پھر اس میں داخل نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6559]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6560
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ، فَقَالَتْ: حَدَّثَنِي نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" عَذَابٌ يَبْعَثُهُ اللهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ فَجَعَلَهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ، فَلَيْسَ عَبْدٌ يَقَعُ الطَّاعُونُ فَيُقِيمُ بِبَلَدِهِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، يَعْلَمُ أَنَّهُ لَنْ يُصِيبَهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَهُ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ". ⦗٥٢٨⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ دَاوُدَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے بارے میں پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک یہ عذاب ہے، اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اسے نازل کرتا ہے، مگر اہل ایمان کے لیے اسے رحمت بناتا ہے۔ کوئی ایسا بندہ نہیں ہے جو اسی زمین میں ٹھہرا رہے جہاں طاعون واقع ہوا ہو، وہ صرف ایمان اور طلبِ ثواب کی نیت سے رکا رہے اور وہ جانتا ہو کہ اسے ہرگز نہیں پہنچے گا مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، تو اس کے لیے شہید کے اجر کے برابر ثواب ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6560]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1343. -- باب: المريض لا يسب الحمى، ولا يتمنى الموت لضر نزل به، وليصبر، وليحتسب
-- باب: بیمار بخار کو برا بھلا نہ کہے، اور نہ ہی کسی پہنچنے والی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا کرے، بلکہ اسے چاہیے کہ صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6561
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ: ثنا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ السَّائِبِ أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ وَهِيَ تُرَفْرِفُ، فَقَالَ:" مَا لَكِ يَا أُمَّ السَّائِبِ؟" أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ، قَالَتِ: الْحُمَّى، لَا بَارَكَ اللهُ فِيهَا، فَقَالَ:" لَا تَسُبِّي الْحُمَّى؛ فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ الْقَوَارِيرِيِّ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سائب یا ام مسیب رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہوئے اور وہ کانپ رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے کیا ہوا ہے اے ام سائب یا (ام مسیب)؟“ تو وہ کہنے لگی: یہ بخار ہے، اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہ کرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار کو گالی نہ دے، بیشک وہ بنی آدم کی خطاؤں کو مٹاتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو ختم کرتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6561]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6562
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ الْأَهْوَازِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ بِالْأَهْوَازِ، ثنا جَعْفَرٌ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابٍ نَعُودُهُ وَقَدِ اكْتَوَى بِسَبْعِ كَيَّاتٍ، فَقَالَ: إِنَّ أَصْحَابَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا مَضَوْا وَلَمْ يَنْقُصْهُمْ أَمْوَالٌ، وَإِنَّا أَصَبْنَا مَالًا لَمْ نَجِدْ لَهُ مَوْضِعًا إِلَّا التُّرَابَ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى نَعُودُهُ وَهُو يَبْنِي حَائِطًا لَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ الْمُسْلِمَ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ يُنْفِقُهُ إِلَّا فِي شَيْءٍ يَجْعَلُهُ فِي التُّرَابِ، وَلَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
قیس بن ابی حازم بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے آئے اور انہوں نے جسم کو لوہے کے ساتھ داغ رکھا تھا۔ انہوں نے کہا: بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ (رضی اللہ عنہم) اسلام لائے اور چلے گئے، مگر مال نے ان کے اعمال میں کوئی کمی نہ کی اور ہم نے مال پایا مگر تصرف کے لیے مٹی کے بغیر کوئی جگہ نہ ملی۔ پھر ہم ان کے پاس دوسری مرتبہ ان کی تیمار داری کے لیے آئے اور وہ دیوار بنا رہے تھے تو انہوں نے کہا: بے شک مسلمان ہر اس چیز میں اجر دیا جاتا ہے جو وہ خرچ کرتا ہے، مگر اس میں نہیں جسے وہ مٹی میں ملاتا ہے اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی دعا کرنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو میں ضرور اس کی دعا کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6562]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں