السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1341. -- باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستشعره من الصبر على جميع ما يصيبه من الأمراض والأوجاع والأحزان لما فيها من الكفارات والدرجات
-- باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ اسے جو بھی بیماریاں، تکلیفیں اور غم پہنچیں ان پر صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ ان میں گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی ہے
حدیث نمبر: 6543
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهِ، وَمَالِهِ، وَفِي وَلَدِهِ، حَتَّى يَلْقَى اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن اور مومنہ کی آزمائش جاری رہتی ہے اس کے نفس، مال اور اولاد میں، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6543]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ترمذي»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6544
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ حِينَ يُصِيبُهُ الْوَعْكُ أَوِ الْحُمَّى كَمَثَلِ حَدِيدَةٍ تُدْخَلُ النَّارَ فَيَذْهَبُ خَبَثُهَا وَيَبْقَى طَيِّبُهَا".
سیدنا عبد الرحمن بن اذہب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال لوہے کی سی ہے جب اسے بخار یا تکلیف پہنچتی ہے تو اس کا میل (خطائیں) ختم ہو جاتا ہے اور پاکیزگی باقی رہ جاتی ہے۔“ یعنی جس طرح لوہے کو آگ میں ڈالنے سے میل کچیل ختم ہو جاتا ہے اور اصل لوہا بچ رہتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6544]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الحاكم»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6545
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيِّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ الْمُعَنَّى قَالَا: ثنا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ السُّلَمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَنَلْهَا بِعَمَلِهِ ابْتَلَاهُ اللهُ فِي جَسَدِهِ أَوْ فِي مَالِهِ أَوْ فِي وَلَدِهِ"، زَادَ ابْنُ نُفَيْلٍ" ثُمَّ صَبَرَ عَلَى ذَلِكَ"، ثُمَّ اتَّفَقَا،" حَتَّى يُبَلِّغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ابراہیم سلمی اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں اور ان کی صحبت پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”بیشک بندے کا مقام و مرتبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلیٰ لکھا جاتا ہے مگر انسان اپنے اعمال سے اس تک نہیں پہنچ پاتا، تو اللہ تعالیٰ اس بندے کو اس کے جسم، مال، اولاد کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کرتے ہیں۔“ ابن نفیل نے یہ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں: ”پھر وہ اس پر صبر کرتا ہے،“ اس بات میں وہ دونوں متفق ہیں: ”یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو اس مقام پر پہنچاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سبقت لے جا چکا ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6545]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6546
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا كَانَ عَلَى طَرِيقَةٍ حَسَنَةٍ مِنَ الْعِبَادَةِ ثُمَّ مَرِضَ قِيلَ لِلْمَلَكِ الْمُوَكَّلِ: اكْتُبْ لَهُ مِثْلَ عَمَلِهِ إِذَا كَانَ طَلِقًا حَتَّى أُطْلِقَهُ أَوْ أَكْفِتَهُ إِلَيَّ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بیشک بندہ جب عبادت کرتے ہوئے اچھے طریقے کا انتخاب کرتا ہے، پھر وہ بیمار ہو تو موکل فرشتے کو کہا جاتا ہے: اس کے لیے ان اعمال کا اجر لکھ جو وہ تندرستی کی حالت میں کرتا تھا یہاں تک کہ میں اسے تندرست کر دوں یا اپنی طرف بلا لوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6546]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه احمد»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6547
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْمَاعِيلَ إِبْرَاهِيمُ ⦗٥٢٥⦘ السَّكْسَكِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى، وَاصْطَحَبَ هُوَ وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ فِي سَفَرٍ فَكَانَ يَزِيدُ يَصُومُ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى مِرَارًا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ، كُتِبَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَطَرِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
ابو بردہ کہتے ہیں: میں نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے کئی مرتبہ سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر پر ہوتا ہے تو اس کے لیے اس کا اجر ایسا ہی لکھا جاتا ہے جیسے اعمال وہ مقیم ہوتے ہوئے کرتا ہے یا تندرست ہوتے ہوئے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6547]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6548
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَكَّةَ ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى:" إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي الْمُؤْمِنَ فَلَمْ يَشْكُنِي إِلَى عُوَّادِهِ أَطْلَقْتُهُ مِنْ أُسَارِيَّ، ثُمَّ أَبْدَلْتُهُ لَحْمًا خَيْرًا مِنْ لَحْمِهِ، وَدَمًا خَيْرًا مِنْ دَمِهِ، ثُمَّ يسْتَأْنَفُ الْعَمَلَ". وَرَوَاهُ أَبُو صَخْرٍ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا عَلَيْهِ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں مومن بندے کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہوں، پھر وہ اپنی عیادت کرنے والوں سے میری شکایت نہیں کرتا تو میں اسے اپنی قید سے آزاد کر دیتا ہوں۔ پھر میں اس کے گوشت کو اچھے گوشت میں بدل دیتا ہوں اور اس کے خون کو بہتر خون میں بدل دیتا ہوں، تو پھر وہ نئے سرے سے اعمالِ صالحہ شروع کر دیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6548]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الحاكم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6549
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَيَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا بَحْرٌ هُوَ ابْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ أَنَّ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ:" أَبْتَلِي عَبْدِيَ الْمُؤْمِنَ، فَإِذَا لَمْ يَشْكُ إِلَى عُوَّادِهِ ذَلِكَ حَلَلْتُ عَنْهُ عُقَدِي، وَأَبْدَلْتُهُ دَمًا خَيْرًا مِنْ دَمِهِ، وَلَحْمًا خَيْرًا مِنْ لَحْمِهِ، ثُمَّ قُلْتُ لَهُ: ايتَنِفِ الْعَمَلَ؟".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میں اپنے مومن بندے کو آزماتا ہوں، جب وہ اپنی عیادت کرنے والوں سے اس کی شکایت نہیں کرتا تو میں اس سے اپنی گرہ کھول دیتا ہوں اور اس کے خون کو اچھے خون میں بدل دیتا ہوں اور اس کے گوشت کو اچھے گوشت میں، پھر میں اسے کہتا ہوں: اب خوب اعمال کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6549]
تخریج الحدیث: «منكر۔ الحاكم»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 6550
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ السَّلِيطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَتِ الْحُمَّى تُسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَنْ أَنْتِ" قَالَتْ: الْحُمَّى، قَالَ:" أَتَعْرِفِينَ أَهْلَ قُبَاءٍ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبِي إِلَيْهِمْ" فَذَهَبَتْ إِلَيْهِمْ فَلَقُوا مِنْهَا شِدَّةً، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنْ شِئْتُمْ دَعَوْتُ اللهَ فَكَشَفَهَا عَنْكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ كَانَتْ كَفَّارَةً وَطَهُورًا" فَقَالُوا: بَلْ تَكُونُ كَفَّارَةً وَطَهُورًا"..
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بخار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اجازت چاہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کون ہے؟“ تو اس نے کہا: میں بخار ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اہل قباء کو جانتا ہے؟“ تو اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان کی طرف جا۔“ تو وہ ان کی طرف چلا گیا، انہوں نے اس کی سختی کو محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہتے ہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم سے اسے دور کر دے گا، اگر چاہو تو وہ تمہارے لیے «طَهُورٌ» ”پاکیزگی“ اور گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔“ تو انہوں نے کہا: بلکہ کفارہ اور پاکیزگی کا باعث اچھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6550]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابن حبان»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 6551
رَوَاهُ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ، فَذَكَرَ الْكَلَامَ الْأَوَّلَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أُمِّ طَارِقٍ مَوْلَاةِ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ مَعْنَى الْكَلَامِ الثَّانِي فِي شِكَايَتِهِمْ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ، أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، أَنْبَأَ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى فَذَكَرَهُ.
یعلیٰ بن عبید نے اسے اعمش سے روایت کیا ہے، پہلی بات کا ذکر اعمش سے، وہ جعفر بن عبدالرحمن انصاری سے، وہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی باندی اُمِّ طارق سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، اور دوسرے کلام کے معنی کا ذکر کیا جو ان کی شکایت کے متعلق تھا، وہ اعمش سے بیان کرتے ہیں، وہ ابوسفیان سے اور وہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6551]
تخریج الحدیث: «منكر۔ احمد»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 6552
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ⦗٥٢٦⦘ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ أَبِي وَشُعَيْبٌ قَالَا: أنبأ اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ ثُمَّ صَبَرَ عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ". يُرِيدُ عَيْنَيْهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنِ اللَّيْثِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جب میں بندے کو آزماتا ہوں اس کی دو محبوب چیزوں (آنکھوں) سے پھر وہ صبر کرتا ہے تو اس کے عوض میں اسے جنت عطا کروں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6552]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح