🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1467. -- باب: الصلاة على الميت الغائب بالنية
-- باب: غائب میت پر نیت کر کے نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7029
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ ابْنُ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، أنبأ جَدِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ⦗٨٣⦘ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَخَاكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ". يَعْنِي النَّجَاشِيَّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ فَزَادَ فِيهِ، قَالَ:" فَصَفَّنَا خَلْفَهُ كَمَا يُصَفُّ عَلَى الْمَيِّتِ وَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ كَمَا يُصَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ"..
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا بھائی (یعنی نجاشی) فوت ہو چکا ہے، اس کا جنازہ پڑھو۔“ یحییٰ بن ابی کثیر، ابو قلابہ رحمہ اللہ سے اس اضافی بات کے ساتھ نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں جیسے میت کے لیے بنائی جاتی ہیں اور ہم نے ایسے ہی جنازہ ادا کیا جیسے میت کی نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7029]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7030
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَزِيَادَتِهِ وَالنَّجَاشِيُّ كَانَ مُسْلِمًا وَفِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا رُوِّينَاهُ دَلِيلٌ عَلَى ذَلِكَ.
حرب بن شداد، یحییٰ بن ابی کثیر سے ایسی ہی حدیث اسی معنیٰ میں نقل فرماتے ہیں اور نجاشی مسلمان تھا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول میں اس بات کی دلیل ہے جو ہم نے بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7030]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7031
وَفِي حَدِيثِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، فِي قِصَّةِ قُدُومِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْضَ الْحَبَشَةِ وَدُخُولِهِ عَلَى النَّجَاشِيِّ وَإِخْبَارِهِ إِيَّاهُ أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا يَقُولُ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَإِعْجَابِهِ بِهِ، ثُمَّ قَوْلِهِ:" مَرْحَبًا بِكُمْ وَبِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِهِ، فَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَلَوْلَا مَا أَنَا فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ لَأَتَيْتُهُ حَتَّى أَحْمِلَ نَعْلَيْهِ" أَخْبَرَنَاهُ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ السَّوَّاقُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، وَفِيهَا قَوْلُ النَّجَاشِيِّ الَّذِي حَكَيتُهُ.
ابو بردہ بن ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے حبشہ آنے اور نجاشی کے پاس جانے اور اسے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر سے آگاہ کرنے اور اس کی عیسیٰ بن مریم کے بارے میں گفتگو اور اس کا «مَرْحَبًا» ”مرحبا“ کہنا اور یہ کہ جس کے پاس سے تم آئے ہو میں اقرار کرتا ہوں کہ وہ اللہ کا رسول ہے اور یقیناً وہی ہے جس کی بشارت عیسیٰ بن مریم نے دی۔ اگر میں اس ملک میں نہ ہوتا تو میں اس کے پاس آتا اور اس کے جوتے اٹھاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7031]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7032
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْعَلَاءُ أَبُو مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ فَطَلَعَتِ الشَّمْسُ بِضِيَاءٍ وَنُورٍ وَشُعَاعٍ لَمْ أَرَهَا طَلَعَتْ فِيمَا مَضَى، فَأَتَى جَبْرَائِيلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا جَبْرَائِيلُ مَا لِي أَرَى الشَّمْسَ طَلَعَتْ بِضِيَاءٍ وَنُورٍ وَشُعَاعٍ لَمْ أَرَهَا طَلَعَتْ فِيمَا مَضَى"، فَقَالَ: ذَاكَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ مُعَاوِيَةَ اللَّيْثِيَّ مَاتَ بِالْمَدِينَةِ الْيَوْمَ، فَبَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ، قَالَ:" وَفِيمَ ذَلِكَ"، قَالَ: كَانَ يُكْثِرُ قِرَاءَةَ {قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: ١] بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَفِي مَمْشَاهُ، وَقِيَامِهِ، وَقُعُودِهِ، فَهَلْ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ أَقْبِضَ لَكَ الْأَرْضَ، فَتُصَلِّيَ عَلَيْهِ؟، قَالَ:" نَعَمْ"، فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ رَجَعَ"، الْعَلَاءُ هَذَا هُوَ ابْنُ زَيْدٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ زَيْدَلٍ لَا يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِمَنَاكِيرَ. أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا الْجُنَيْدِيُّ، ثنا الْبُخَارِيُّ قَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زَيْدٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَنَسٍ رَوَى عَنْهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ⦗٨٤⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَنَسٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک میں تھے اور سورج اپنی روشنی اور چمک دمک کے ساتھ طلوع ہوا۔ اس نے پہلے اس طرح طلوع کو نہیں دیکھا تھا۔ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جبرائیل! کیا بات ہے میں نے آج دیکھا ہے کہ سورج کل سے زیادہ چمک دمک کے ساتھ طلوع ہوا ہے؟“ تو جبرائیل امین نے کہا: اس وجہ سے کہ معاویہ بن معاویہ لیثی مدینے میں فوت ہوا ہے تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس کی طرف ستر ہزار فرشتے بھیجے ہیں جو اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کس بات میں؟“ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: وہ رات اور دن میں اپنے چلنے، بیٹھنے اور کھڑے ہونے میں اکثر ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] (اخلاص) پڑھا کرتے تھے، اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے لیے زمین قریب کروں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جنازہ پڑھیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھا اور واپس پلٹ آئے۔
یہ علاء، ابن زید ہیں، اور انہیں ابن زیدل بھی کہا جاتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علاء بن زید ابو محمد ثقفی، جو انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور ان سے یزید بن ہارون نے روایت کی ہے، منکر الحدیث ہیں۔ شیخ (بیہقی) فرماتے ہیں: یہ حدیث انس رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7032]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه ابو يعليٰ»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7033
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ هِلَالٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ يَعْنِي عَطَاءً، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: نَزَلَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَاتَ مُعَاوِيَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيُّ، أَفَتُحِبُّ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ، فَضَرَبَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِجَنَاحِهِ، فَلَمْ تَبْقَ شَجَرَةٌ، وَلَا أَكَمَةٌ إِلَّا تَضَعْضَعَتْ، وَرَفَعَ لَهُ سَرِيرَهَ حَتَّى نَظَرَ إِلَيْهِ وَصَلَّى عَلَيْهِ، وَخَلْفَهُ صَفَّانِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ كُلُّ صَفٍّ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ:" يَا جَبْرَائِيلُ بِمَا نَالَ هَذِهِ الْمَنْزِلَةَ"، فَقَالَ: بِحُبِّهِ {قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: ١] وَقِرَاءَتِهِ إِيَّاهَا جَائِيًا وَذَاهَبًا وَقَائِمًا وَقَاعِدًا" أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، قَالَ مَحْبُوبُ بْنُ هِلَالٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسٍ: نَزَلَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ. لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ. سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَذْكُرُهُ عَنِ الْبُخَارِيِّ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور کہا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! معاویہ بن معاویہ مزنی فوت ہو گئے ہیں۔ کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ ان کا جنازہ پڑھیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، جبرائیل علیہ السلام نے پر مارا جس سے کوئی درخت یا ٹیلہ درمیان میں نہ رہا سب ہٹ گئے اور ان کی چارپائی کو اٹھایا گیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور ان کا جنازہ پڑھا، آپ کے پیچھے دو صفیں فرشتوں کی تھیں اور ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا: ”اے جبرائیل! اسے یہ مقام کیسے حاصل ہوا؟“ تو انہوں نے کہا: ”یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] سے محبت کرتا تھا اور وہ ہمیشہ آتے جاتے، بیٹھے اور کھڑے اسی کی تلاوت کرتا تھا۔“
ابن عدی فرماتے ہیں: محبوب بن ہلال مزنی نے عطاء بن ابی میمونہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے ”جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے“ والی روایت بیان کی ہے، اس پر ان کی متابعت نہیں کی گئی۔ میں نے ابن حماد کو یہ بات امام بخاری سے نقل کرتے سنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7033]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابو يعليٰ»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1468. -- باب: الصلاة على الجنازة في المسجد
-- باب: مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7034
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، أُرَاهُ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنَّهَا أَمَرَتْ بِسَعْدِ بْنِ أَبِي ⦗٨٥⦘ وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُمَرَّ بِهِ فِي الْمَسْجِدِ لِتُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ النَّاسُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" مَا أَسْرَعَ مَا نَسِيَ النَّاسُ، مَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ بْنِ الْبَيْضَاءِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَلَمْ يَقُلْ: أُرَاهُ وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ وُهَيْبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے متعلق حکم دیا کہ انہیں مسجد میں لایا جائے تاکہ نمازِ جنازہ ادا کی جائے، لوگوں نے اسے ناپسند جانا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: لوگ کس قدر جلدی بھول چکے ہیں! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد میں نہیں پڑھا تھا؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7034]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7035
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ يَعْنِي عَبْدَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَةَ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ وَبَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهُنَّ أَمَرْنَ بِجِنَازَةِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُمَرَّ بِهَا عَلَيْهِنَّ، فَمُرَّ بِهِ فِي الْمَسْجِدِ فَجُعِلَ يُوقَفُ عَلَى الْحُجَرِ فَيُصَلِّينَ عَلَيْهِ، ثُمَّ بَلَغَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ بَعْضَ النَّاسِ عَابَ ذَلِكَ وَقَالَ: هَذِهِ بِدْعَةٌ مَا كَانَتِ الْجِنَازَةُ تَدْخُلُ الْمَسْجِدَ، فَقَالَتْ:" مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى أَنْ يَعِيبُوا مَا لَا عِلْمَ لَهُمْ بِهِ، عَابُوا عَلَيْنَا أَنْ دَعَوْنَا بِجِنَازَةِ سَعْدٍ تَدْخُلُ الْمَسْجِدَ، وَمَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ بْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ" وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ وُهَيْبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ.
عباد بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر ازواجِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے جنازے کو ہمارے پاس لایا جائے، تو وہ مسجد میں لائے گئے اور ازواجِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجروں پر کھڑے ہو کر ان کا جنازہ پڑھا، پھر سیدہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات پہنچی کہ کچھ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بدعت ہے کیونکہ جنازہ مسجد میں نہیں لایا جاتا تھا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: لوگوں نے کتنی جلدی ایسی بات پر عیب لگایا ہے جس کا انہیں علم نہیں، انہوں نے اس لیے عیب لگایا کہ ہم نے سعد کے جنازے کو مسجد میں بلایا ہے، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضا رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد میں نہیں پڑھا تھا! [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7035]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7036
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أنبأ الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَتْ:" ادْخُلُوا بِهِ الْمَسْجِدَ حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهِ" فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ:" وَاللهِ لَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَيْ بَيْضَاءَ فِي الْمَسْجِدِ، سُهَيْلٍ وَأَخِيهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَغَيْرِهِ.
ابو سلمہ بن عبد الرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: انہیں مسجد میں لے آؤ تاکہ میں بھی جنازہ ادا کروں، تو اس پر اعتراض کیا گیا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دو بیٹوں سہیل اور اس کے بھائی کا جنازہ مسجد میں پڑھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7036]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7037
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ الْغَنَوِيُّ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" مَا تَرَكَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَدُفِنَ لَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ" إِسْمَاعِيلُ الْغَنَوِيُّ مَتْرُوكٌ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کوئی درہم چھوڑا اور نہ ہی کوئی دینار، اور وہ منگل کی رات دفن کیے گئے اور ان کا جنازہ مسجد میں ادا کیا گیا۔
اسماعیل غنوی متروک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7037]
تخریج الحدیث: «باطل»

الحكم على الحديث: باطل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7038
وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ:" أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صُلِّيَ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ فَذَكَرَهُ.
سفیان ثوری رحمہ اللہ نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے روایت کیا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد میں ادا کیا گیا۔ عبداللہ بن ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کا تذکرہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7038]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه عبد الرزاق»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں