🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1475. -- باب: كراهية الذبح عند القبر
-- باب: قبر کے پاس جانور ذبح کرنے کی کراہت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7069
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ أَحْمَدَ الزَّوْزَنِيُّ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَقْرَ فِي الْإِسْلَامِ" قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: كَانُوا يَعْقِرُونَ عِنْدَ الْقَبْرِ. يَعْنِي بَقَرَةً أَوْ شَيْئًا لَمْ يَذْكُرِ الزَّوْزَنِيُّ قَوْلَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں عقر (قبر پر ذبح کرنا) نہیں ہے۔“ عبدالرزاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ (اہلِ عرب) قبر کے پاس عقر یعنی گائے وغیرہ کو ذبح کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7069]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1476. -- باب: من كره نقل الموتى من أرض إلى أرض
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے مردوں کو ایک زمین (علاقے) سے دوسری زمین میں منتقل کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7070
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ حُمِلَ الْقَتْلَى لِيُدْفَنُوا بِالْبَقِيعِ فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَدْفِنُوا الْقَتْلَى فِي مَضَاجِعِهِمْ بَعْدَمَا حَمَلَتْ أُمِّي أَبِي وَخَالِي عَدِيلَيْنِ لِتَدْفِنَهُمْ فِي الْبَقِيعِ فَرُدُّوا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب احد کا دن ہوا تو مقتولین کو جنت البقیع میں دفن کے لیے اٹھایا گیا تو اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”تمہیں حکم دیتے ہیں کہ مقتولین کو ان کی جگہ پر ہی دفن کرو۔“ یہ اعلان تب ہوا جب میری والدہ نے میرے والد اور میرے ماموں کو اٹھا لیا تھا تاکہ انہیں بقیع میں دفن کریں، پھر انہوں نے انہیں واپس لوٹایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7070]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7071
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ صُبَيْحٍ، ثنا أَبُو مُسْهِرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ رُوَيْمٍ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هَلَكَ بِفَحْلٍ فَقَالَ:" ادْفِنُونِي خَلْفَ النَّهْرِ"، ثُمَّ قَالَ:" ادْفِنُونِي حَيْثُ قُبِضْتُ".
عروہ بن رویم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ فحل (کے مقام) پر فوت ہوئے، فرمانے لگے: مجھے نہر کے پیچھے دفن کرنا۔ پھر فرمایا: جہاں میں فوت ہو جاؤں وہیں دفن کر دینا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7071]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن عساكر»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7072
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: مَاتَ أَخٌ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِوَادِي الْحَبَشَةِ فَحُمِلَ مِنْ مَكَانِهِ فَأَتَيْنَاهَا نُعَزِّيهَا فَقَالَتْ:" مَا أَجِدُ فِي نَفْسِي أَوْ يَحْزُنُنِي فِي نَفْسِي إِلَّا أَنِّي وَدِدْتُ أَنَّهُ كَانَ دُفِنَ فِي مَكَانِهِ".
منصور بن صفیہ اپنی والدہ سے نقل کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی حبشی کی وادی میں وفات پا گئے، انھیں ان کی جگہ سے اٹھایا گیا، ہم ان کی تعزیت کے لیے آئے تو وہ کہنے لگیں: میں اپنے دل میں کچھ نہیں پاتی جو مجھے غمگین کرے مگر یہ کہ میں پسند کرتی تھی کہ انھیں اسی جگہ میں دفن کیا جاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7072]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الحاكم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1477. -- باب: من لم ير به بأسا وإن كان الاختيار فيما مضى
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اس (میت کو منتقل کرنے) میں کوئی حرج نہیں سمجھا، اگرچہ پسندیدہ بات وہی ہے جو گزر چکی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7073
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، حَدَّثَتْنِي ⦗٩٥⦘ أُمِّي، قَالَتْ:" مَاتَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْعَقِيقِ"، قَالَ دَاوُدُ: وَهُوَ عَلَى نَحْوٍ مِنْ عَشَرَةِ أَمْيَالٍ، قَالَتْ:" فَرَأَيْتُهُ حُمِلَ عَلَى أَعْنَاقِ الرِّجَالِ حَتَّى أُتِيَ بِهِ فَأُدْخِلَ بِهِ الْمَسْجِدَ مِنْ نَحْوِ بَابِ دَارِ مَرْوَانَ، فَوُضِعَ عِنْدَ بُيُوتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِنَاءِ الْحُجَرِ فَصَلَّى الْإِمَامُ عَلَيْهِ وَصَلَّيْنَ عَلَيْهِ بِصَلَاةِ الْإِمَامِ".
داؤد بن قیس فرماتے ہیں: مجھے میری ماں نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عقیق میں فوت ہوئے۔ داؤد فرماتے ہیں: وہ تقریباً دس میل کا فاصلہ ہے، میں نے دیکھا کہ انہیں لوگوں کی گردنوں پر اٹھایا گیا، یہاں تک کہ انہیں دارِ مروان کے دروازے سے مسجد میں داخل کیا گیا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کے سامنے صحن میں رکھا گیا تو امام نے جنازہ پڑھا اور انہوں نے بھی امام کی طرح جنازہ پڑھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7073]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7074
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ:" قَدْ حُمِلَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ الْعَقِيقِ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَحُمِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِنَ الْجُرُفِ".
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو عقیق سے مدینہ کی طرف اٹھایا گیا اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو جرف سے لایا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7074]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن سعد»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7075
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ:" أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تُوُفِّيَ بِالْحَبَشَةِ عَلَى رَأْسِ أَمْيَالٍ مِنْ مَكَّةَ فَنَقَلَهُ ابْنُ صَفْوَانَ إِلَى مَكَّةَ" وَرُوِّينَا عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: مَاتَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِالصِّفَاحِ أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا فَحَمَلْنَاهُ عَلَى عَوَاتِقِ الرِّجَالِ حَتَّى دَفَنَّاهُ بِمَكَّةَ.
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما حبشی میں مکہ کی طرف کچھ میلوں کے فاصلے پر فوت ہوئے، انہیں ابن صفوان رحمہ اللہ نے مکہ منتقل کیا۔
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے ایوب رحمہ اللہ نے نقل کیا کہ انہوں نے کہا: سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما صفاح میں یا اس کے قریب فوت ہو گئے تو ہم نے انہیں لوگوں کی گردنوں پر اٹھایا حتیٰ کہ مکہ میں دفن کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7075]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن العساكر»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1478. -- باب: من حول الميت من قبره إلى آخر لحاجة
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے کسی ضرورت کے تحت میت کو ایک قبر سے دوسری قبر میں منتقل کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7076
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو صَادِقٍ الْعَطَّارُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" دُفِنَ مَعَ أَبِي رَجُلٌ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ تَطِبْ نَفْسِي حَتَّى أَخْرَجْتُهُ وَدَفَنْتُهُ عَلَى حِدَةٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ. قَالَ:" فَاسْتَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ فَإِذَا هُوَ كَيَوْمِ وَضَعْتُهُ هُنَيَّةَ غَيْرَ أُذُنِهِ. كَذَا رَوَاهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ إِنَّمَا هُوَ عِنْدَ أُذُنِهِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میرے والد کے ساتھ احد کے دن ایک شخص کو دفن کیا گیا، میرے دل کو اچھا نہ لگا تو میں نے اسے وہاں سے نکالا اور علیحدہ دفن کیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بیان کیا: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے چھ ماہ کے بعد وہاں سے نکالا اور وہ ایسے ہی تھے جیسے انہیں رکھا گیا تھا، بغیر کان کے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7076]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7077
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ:" دُفِنَ أَبِي مَعَ رَجُلٍ فَكَانَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَاجَةٌ فَأَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ فَمَا أَنْكَرْتُ مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا شُعَيْرَاتٍ كُنَّ فِي لِحْيَتِهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرے ابا جان کو ایک آدمی کے ساتھ دفن کیا گیا، اس وجہ سے میرے دل میں کچھ (بے چینی) تھی۔ سو میں نے انہیں چھ ماہ بعد وہاں سے نکالا تو میں نے سوائے ڈاڑھی کے چند بالوں کے کچھ بھی کم نہ پایا جو زمین کے ساتھ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7077]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1479. -- باب: من كره أن يحفر له قبر غيره إذا كان يتوهم بقاء شيء منه مخافة أن يكسر له عظم
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے میت کے لیے کسی دوسرے کی قبر کھودنے کو اس ڈر سے مکروہ سمجھا کہ کہیں اس کی ہڈی نہ ٹوٹ جائے جبکہ یہ وہم ہو کہ اس (پہلی میت) کا کوئی حصہ باقی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7078
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" مَا أُحِبُّ أَنْ أُدْفَنَ بِالْبَقِيعِ، لَأَنْ أُدْفَنَ فِي غَيْرِهِ أَحَبُّ إِلَيَّ، إِنَّمَا هُوَ أَحَدُ رَجُلَيْنِ: إِمَّا ظَالِمٌ فَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ فِي جِوَارِهِ، وَإِمَّا صَالِحٌ فَلَا أُحِبُّ أَنْ تُنْبَشَ لِي عِظَامُهُ" قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ:" كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِ عَظْمِ الْحَيِّ" قَالَ الشَّافِعِيُّ:" تَعْنِي فِي الْمَأْثَمِ" قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مَوْصُولًا مَرْفُوعًا.
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں پسند نہیں کرتا کہ بقیع میں دفن کیا جاؤں بلکہ اس کے علاوہ دفن کیا جاؤں یہ مجھے زیادہ محبوب ہے کیونکہ دو میں سے ایک یا تو ظالم ہوگا، سو میں اس کے پڑوس کو نہیں چاہوں گا یا وہ نیک ہوگا تو میں نہیں چاہوں گا کہ میری وجہ سے اس کی ہڈیاں توڑی جائیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”مردہ کی ہڈی کا توڑنا ایسا ہی ہے جیسے زندہ کی ہڈی توڑنا۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مراد گناہ میں برابر ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث موصولاً مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7078]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں