السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1487. -- باب: ما يستحب لولي الميت من الابتداء بقضاء دينه
-- باب: میت کے ولی کے لیے سب سے پہلے میت کا قرض ادا کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7099
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَزَالُ نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةً بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ". كَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ سَعْدٍ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا نفس ہمیشہ اپنے قرضے کے ساتھ معلق رہتا ہے جب تک اسے ادا نہ کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7099]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ترمذي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7100
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دُحَيْمٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي حُنَيْنٍ الْقَزَّازُ، ثنا الْفَضْلُ يَعْنِي ابْنَ دُكَيْنٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ مَا كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا نفس معلق رہتا ہے جب تک اس پر قرض ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7100]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ترمذي»
الحكم على الحديث: صحيح
1488. -- باب: ما يستحب لولي الميت من التعجيل بتنفيذ وصاياه بالصدقة وغيرها
-- باب: میت کے ولی کے لیے صدقہ وغیرہ کی صورت میں میت کی وصیتوں کو نافذ کرنے میں جلدی کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7101
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي، وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ". ⦗١٠٢⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ.
مطرف بن عبداللہ بن شخیر اپنے والد سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ﴾ [سورة التكاثر: 1] نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا ہے: میرا مال! میرا مال! اور کیا تیرے مال میں سے تیرے لیے اس کے سوا بھی ہے جو تو نے کھا لیا اور ہضم کر لیا اور جو پہن کر بوسیدہ کر لیا یا پھر صدقہ کر کے ذخیرہ بنا لیا؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7101]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7102
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا عَيَّاشُ بْنُ أَبِي شَمْلَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي أَسِيدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَصْغَرَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكْثَرَهُمْ مِنْهُ سَمَاعًا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبْقَى لِلْوَلَدِ مِنْ بِرِّ الْوَالِدِ إِلَّا أَرْبَعٌ الصَّلَاةُ عَلَيْهِ، وَالدُّعَاءُ لَهُ، وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِ مِنْ بَعْدِهِ، وَصِلَةُ رَحِمِهِ، وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِ".
سیدنا ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں چھوٹا تھا اور ان سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننے والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچے کے لیے اس کے والد کی بھلائیاں نہیں باقی رہتیں سوائے چار بھلائیوں کے: ۱۔ اس کا جنازہ پڑھنا۔ ۲۔ اس کے لیے دعا کرنا۔ ۳۔ اس کے بعد اس کی وصیت جاری کرنا اور صلہ رحمی کرنا۔ ۴۔ اس کے دوستوں کی عزت و تکریم کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7102]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
1489. -- باب: ما يستحب لولي الميت من التصدق عنه وإن لم يوص به.
-- باب: میت کے ولی کے لیے اس کی طرف سے صدقہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان، اگرچہ اس نے اس کی وصیت نہ کی ہو
حدیث نمبر: 7103
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُؤَمَّلِ بْنِ حَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میری ماں فوت ہو چکی ہے۔ اگر وہ کلام کرتی تو صدقہ ہی کا کہتی، اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اسے اجر ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7103]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
1490. -- جماع أبواب البكاء على الميت
-- میت پر رونے کے ابواب کا مجموعہ
حدیث نمبر: 7104
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَرَأَ عَلَيْنَا {أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا} [الممتحنة: ١٢] وَنَهَانَا عَنِ النِّيَاحَةِ فَقَبَضَتِ امْرَأَةٌ يَدَهَا، قَالَتْ: أَسْعَدَتْنِي فُلَانَةٌ أُرِيدُ أَنْ أَجْزِيَهَا، فَمَا قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَانْطَلَقَتْ فَرَجَعَتْ فَبَايَعَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ بِهَذَا اللَّفْظِ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ.
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر یہ آیت پڑھی: ﴿أَن لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا﴾ [سورة الممتحنة: 12] اور ہمیں نوحہ کرنے سے منع کیا، تو ایک عورت نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور کہا: ”فلاں عورت نے میرے ساتھ نیکی کی ہے، میں چاہتی ہوں کہ اسے بدلہ دوں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ بھی نہ کہا، سو وہ چلی گئی، پھر آئی اور اس نے بیعت کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7104]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7105
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا تُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا" وَنَهَانَا عَنِ النِّيَاحَةِ فَقَبَضَتِ امْرَأَةٌ يَدَهَا فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فُلَانَةً أَسْعَدَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَجْزِيَهَا فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا فَذَهَبَتْ، ثُمَّ رَجَعَتْ يَعْنِي فَبَايَعَهَا قَالَتْ: فَمَا وَفَّتْ مِنَّا امْرَأَةٌ إِلَّا أُمُّ سُلَيْمٍ، وَأُمُّ الْعَلَاءِ، وَابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ امْرَأَةُ مُعَاذٍ أَوِ ابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ، وَامْرَأَةُ مُعَاذٍ. ⦗١٠٣⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ هَكَذَا وَلَيْسَ فِيهِ أَنَّهُ اسْتَثْنَى لَهَا مَا أَرَادَتْ بَلْ فِيهِ أَنَّهُ لَمْ يُجِبْهَا إِلَى ذَلِكَ حَتَّى رَجَعَتْ فَبَايَعَهَا.
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا» “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نوحہ کرنے سے منع کیا تو ایک عورت نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا اور وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں عورت نے میرے ساتھ بھلائی کی سو میں اسے بدلہ دینا چاہتی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ بھی نہ کہا، وہ چلی گئی، پھر وہ واپس آئی اور بیعت کی۔ فرماتی ہیں: ہم میں سے ام سلیم رضی اللہ عنہا، ام علاء رضی اللہ عنہا اور ابی سبرہ کی بیٹی معاذ کی بیوی یا فرمایا: ابی سبرہ کی بیٹی اور معاذ کی بیوی کے سوا کسی عورت نے اس عہد کو پورا نہیں کیا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں مسدد سے اسی طرح نقل کیا ہے، اس میں یہ نہیں کہ اس نے اس کا استثناء کیا جو اس کا ارادہ تھا، بلکہ اس میں یہ ہے کہ انہوں نے جواب نہ دیا حتیٰ کہ واپس پلٹیں اور بیعت۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7105]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں مسدد سے اسی طرح نقل کیا ہے، اس میں یہ نہیں کہ اس نے اس کا استثناء کیا جو اس کا ارادہ تھا، بلکہ اس میں یہ ہے کہ انہوں نے جواب نہ دیا حتیٰ کہ واپس پلٹیں اور بیعت۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7105]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7106
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا عَاصِمٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ {إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا} [الممتحنة: ١٢] إِلَى قَوْلِهِ {وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ} [الممتحنة: ١٢] قَالَتْ: مِنْهَا النِّيَاحَةُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ: إِلَّا بَنِي فُلَانٍ؛ فَإِنَّهُمْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَا بُدَّ مِنْ أَنْ أُسْعِدَهُمْ فَقَالَ:" إِلَّا بَنِي فُلَانٍ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ. كَذَلِكَ رَوَاهُ عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلُ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ. وَلَا أَدْرِي هَلْ حَفِظَ مَا رُوِيَ فِيهِ مِنَ الْإِذْنِ فِي الْإِسْعَادِ أَمْ لَا. فَقَدْ رَوَاهُ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَهُوَ أَحْفَظُ مِنْهُ عَلَى مَا ذَكَرْنَا وَرَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ حَفْصَةَ فَلَمْ يَذْكُرْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ.
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب یہ آیت ﴿یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤی اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْـًٔا﴾ سے لے کر ﴿وَلَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ﴾ [سورة الممتحنة: 12] تک نازل ہوئی تو فرماتی ہیں: ان (شرائط) میں سے نوحہ (نہ کرنا) بھی تھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مگر فلاں کی اولاد کے لیے! انہوں نے دورِ جاہلیت میں میرے ساتھ نیکی کی، سو ان سے بھلائی کیے بغیر مجھے کوئی چارہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوائے فلاں کی اولاد کے لیے۔“
اسی طرح اسے عاصم بن سلیمان احول نے حفصہ بنت سیرین سے روایت کیا ہے، اور میں نہیں جانتا کہ اس میں جو اسعاد (نوحے میں ساتھ دینے) کی اجازت مروی ہے، اسے انہوں نے صحیح یاد رکھا ہے یا نہیں، کیونکہ ایوب سختیانی نے، جو ان سے زیادہ حافظ ہیں، اسے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ہم نے ذکر کیا، اور ہشام بن حسان نے اسے حفصہ سے روایت کیا تو اس میں سے کچھ بھی ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7106]
اسی طرح اسے عاصم بن سلیمان احول نے حفصہ بنت سیرین سے روایت کیا ہے، اور میں نہیں جانتا کہ اس میں جو اسعاد (نوحے میں ساتھ دینے) کی اجازت مروی ہے، اسے انہوں نے صحیح یاد رکھا ہے یا نہیں، کیونکہ ایوب سختیانی نے، جو ان سے زیادہ حافظ ہیں، اسے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ہم نے ذکر کیا، اور ہشام بن حسان نے اسے حفصہ سے روایت کیا تو اس میں سے کچھ بھی ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7106]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7107
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْبَيْعَةِ أَنْ لَا نَنُوحَ فَمَا وَفَّتْ مِنَّا امْرَأَةٌ إِلَّا خَمْسُ نِسْوَةٍ أُمُّ سُلَيْمٍ، وَأُمُّ الْعَلَاءِ، وَابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ امْرَأَةُ مُعَاذٍ، أَوِ ابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ، وَامْرَأَةُ مُعَاذٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَجَبِيِّ عَنْ حَمَّادٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: وَامْرَأَتَانِ أَوِ امْرَأَةٌ أُخْرَى، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ. وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَيْضًا مَا فِي رِوَايَةِ عَاصِمٍ عَنْ حَفْصَةَ مِنَ الِاسْتِثْنَاءِ.
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت کے دوران اس بات کا بھی عہد لیا کہ ”ہم نوحہ نہ کریں گی،“ سو اس عہد کو ہم میں سے پانچ عورتوں: ام سلیم، ام علاء، ابی سبرہ کی بیٹی، معاذ کی بیوی یا فرمایا: ابو سبرہ کی بیٹی اور معاذ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے پورا کیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں حجبی سے نقل کیا ہے اور انہوں نے حماد سے اور اس حدیث میں فرمایا: دو عورتیں یا ایک دوسری عورت نے پورا کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7107]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7108
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ أَحْمَدَ الزُّوزَنِيُّ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ حِينَ بَايَعَهُنَّ أَنْ لَا يَنُحْنَ، فَقُلْنَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ نِسَاءً أَسْعَدْنَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَفَنُسْعِدُهُنَّ فِي الْإِسْلَامِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا إِسْعَادَ فِي الْإِسْلَامِ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عورتوں سے بیعت لی تو اس میں یہ عہد بھی لیا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بے شک دور جاہلیت میں عورتیں ان مصائب میں ساتھ دیتی تھیں، کیا ہم اسلام میں ان کا ساتھ دیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں یہ ساتھ نوحہ نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7108]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه النسائي»
الحكم على الحديث: صحيح