السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1472. -- باب: ما يقال إذا أدخل الميت قبره
-- باب: جب میت کو اس کی قبر میں اتارا جائے تو جو کلمات کہے جائیں گے ان کا بیان
حدیث نمبر: 7059
وَرَوَاهُ وَكِيعٌ عَنْ هَمَّامٍ، بِإِسْنَادِهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وَضَعْتُمْ مَوْتَاكُمْ فِي قُبُورِهِمْ فَقُولُوا: بِسْمِ اللهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا هَمَّامٌ فَذَكَرَهُ. وَالْحَدِيثُ يَتَفَرَّدُ بِرَفْعِهِ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَهُوَ ثِقَةٌ، إِلَّا أَنَّ شُعْبَةَ وَهِشَامَ الدَّسْتُوَائِيَّ رَوَيَاهُ عَنْ قَتَادَةَ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ.
وکیع ہمام سے ایسے ہی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مردوں کو قبر میں رکھو تو کہا کرو: «بِسْمِ اللّٰهِ وَعَلٰی سُنَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر“۔“
اس حدیث کو اس سند کے ساتھ مرفوعاً بیان کرنے میں ہمام بن یحییٰ منفرد ہیں، اور وہ ثقہ ہیں، مگر شعبہ اور ہشام دستوائی نے اسے قتادہ سے ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7059]
اس حدیث کو اس سند کے ساتھ مرفوعاً بیان کرنے میں ہمام بن یحییٰ منفرد ہیں، اور وہ ثقہ ہیں، مگر شعبہ اور ہشام دستوائی نے اسے قتادہ سے ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7059]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 7060
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ قَالَ: وَأنبأ أَحْمَدُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَمْرٌو، ثنا شُعْبَةُ، كِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الدِّيقِ، قَالَ شُعْبَةُ فِي حَدِيثِهِ: شَهِدْتُ ابْنَ عُمَرَ وَوَضَعَ مَيِّتًا فِي قَبْرِهِ فَقَالَ:" بِسْمِ اللهِ وَعَلى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا بِزِيَادَةِ أَلْفَاظٍ إِلَّا أَنَّهُ ضَعِيفٌ.
شعبہ کی حدیث میں ہے کہ (ابو الصدیق نے) کہا: میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا، انہوں نے میت کو قبر میں رکھا تو کہا: «بِسْمِ اللهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت پر۔“
یہ روایت ایک اور سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً کچھ زائد الفاظ کے ساتھ بھی مروی ہے، لیکن وہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7060]
یہ روایت ایک اور سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً کچھ زائد الفاظ کے ساتھ بھی مروی ہے، لیکن وہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7060]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه النسائي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7061
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا إِدْرِيسُ بْنُ صُبَيْحٍ الْأَوْدِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: حَضَرْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ فِي جِنَازَةٍ ⦗٩٢⦘ فَلَمَّا وَضَعَهَا فِي اللَّحْدِ قَالَ:" بِسْمِ اللهِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَلَمَّا أَخَذَ فِي تَسْوِيَةِ اللَّبِنِ عَلَى اللَّحْدِ قَالَ:" اللهُمَّ أَجِرْهَا مِنَ الشَّيْطَانِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ"، فَلَمَّا سَوَّى الْكَثِيبَ عَلَيْهَا قَامَ جَانِبَ الْقَبْرِ ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَّ جَافِ الْأَرْضَ عَنْ جُثَّتِهَا وَصَعِّدْ بِرُوحِهَا وَلَقِّهَا مِنْكَ رِضْوَانًا"، فَقُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمْ شَيْءٌ قُلْتَهُ مِنْ رَأْيِكَ؟ قَالَ:" إِنِّي إِذًا لَقَادِرٌ عَلَى الْقَوْلِ بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَكَذَا قَالَ إِدْرِيسُ بْنُ صُبَيْحٍ الْأَوْدِيُّ وَإِنَّمَا هُوَ إِدْرِيسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ، وَلَا أَعْلَمُ أَحَدًا يَرْوِيهِ غَيْرَ حَمَّادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا، وَهُوَ قَلِيلُ الرِّوَايَةِ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک جنازے میں حاضر ہوا، جب اسے لحد میں رکھا گیا تو انہوں نے فرمایا: «بِسْمِ اللهِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ، اور اللہ کی راہ میں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر“ اور جب لحد پر اینٹیں نصب کرنا شروع کیں تو فرمایا: «اللّٰهُمَّ أَجِرْهَا مِنَ الشَّيْطَانِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ» ”اے اللہ! اسے شیطان سے، قبر کے عذاب سے اور آگ کے عذاب سے پناہ دے“ اور جب اس پر مٹی برابر کی تو قبر کی ایک طرف کھڑے ہو کر فرمایا: «اللّٰهُمَّ جَافِ الْأَرْضَ عَنْ جُثَّتِهَا، وَصَعِّدْ بِرُوحِهَا، وَلَقِّهَا مِنْكَ رِضْوَانًا» ”اے اللہ! زمین کو اس کے جسم سے دور کر اور اس کی روح کو بلند کر اور اس کو اپنی رضا عطا کر۔“ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپ نے ایسی کوئی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سنی ہے یا نہیں یا اپنی رائے سے یہ کہا ہے؟ انہوں نے فرمایا: تب تو میں جو چاہتا کہہ سکتا تھا، یہ بات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی سنی ہے۔
ابو احمد (ابن عدی) نے کہا: (سند میں) اسی طرح ادریس بن صبیح اودی کہا گیا ہے، حالانکہ وہ ادریس بن یزید اودی ہیں، اور میں اس حماد بن عبدالرحمن کے سوا کسی کو نہیں جانتا جو اسے روایت کرتا ہو، اور وہ قلیل الروایہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7061]
ابو احمد (ابن عدی) نے کہا: (سند میں) اسی طرح ادریس بن صبیح اودی کہا گیا ہے، حالانکہ وہ ادریس بن یزید اودی ہیں، اور میں اس حماد بن عبدالرحمن کے سوا کسی کو نہیں جانتا جو اسے روایت کرتا ہو، اور وہ قلیل الروایہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7061]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه ابن ماجه»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 7062
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَجَاءٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ عَامِرٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. وَقَالَ إِدْرِيسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ وَرُوِّينَا عَنِ الْبَيَاضِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى رِوَايَةِ وَكِيعٍ عَنْ هَمَّامٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَبِاللهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا بیاضی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وکیع کی روایت کی طرح نقل فرماتے ہیں جو انہوں نے ہمام سے نقل کی، سوائے اس کے کہ انہوں نے فرمایا: ” «وَبِاللّٰهِ وَعَلٰی مِلَّةِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صلی اللہ علیہ وسلم » ”اللہ کے نام سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر۔“” [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7062]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن ماجه»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7063
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزَّاهِدُ يَعْنِي أَبَا عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا الْبِرْتِيُّ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ النَّخَعِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ أَدْخَلَ مَيِّتًا فِي قَبْرِهِ فَقَالَ:" اللهُمَّ عَبْدُكَ، ابْنُ عَبْدِكَ نَزَلَ بِكَ وَأَنْتَ خَيْرُ مَنْزُولٍ بِهِ وَلَا نَعْلَمُ بِهِ إِلَّا خَيْرًا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ، كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْفِرْ لَهُ ذَنْبَهَ وَوَسِّعْ لَهُ فِي مُدْخَلِهِ".
عمیر بن سعید نخعی فرماتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہوں نے ایک میت کو قبر میں داخل کیا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ عَبْدُكَ ابْنُ عَبْدِكَ نَزَلَ بِكَ وَأَنْتَ خَيْرُ مَنْزُولٍ بِهِ، وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ، كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَاغْفِرْ لَهُ ذَنْبَهُ وَوَسِّعْ لَهُ فِي مُدْخَلِهِ» ”اے اللہ! یہ تیرا بندہ تیرے بندے کا بیٹا تیرے پاس آیا ہے اور تو بہترین مہمان نواز ہے، ہم نہیں جانتے اس کے لیے مگر بھلائی اور تو بہتر جانتا ہے کہ وہ گواہی دیتا تھا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں صرف تو ہی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور تو اس کے گناہ بخش دے اور اس کی قبر کو کشادہ کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7063]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق»
الحكم على الحديث: صحيح
1473. -- باب: ما يقال بعد الدفن
-- باب: دفن کے بعد پڑھے جانے والے کلمات کا بیان
حدیث نمبر: 7064
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَاللَّفْظُ لِتَمْتَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَحِيرٍ، عَنْ هَانِئٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ بَكَى حَتَّى يَبُلَّ لِحْيَتَهُ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: تَذْكُرُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ فَلَا تَبْكِي وَتَبْكِي مِنْ هَذَا؟ قَالَ: فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" ⦗٩٣⦘ إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ فَمَنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ وَمَنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ"".
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام ہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ قبر پر کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ داڑھی مبارک تر ہو جاتی، کہا گیا کہ آپ کے پاس جنت اور دوزخ کا تذکرہ ہوتا ہے آپ نہیں روتے مگر قبر کے تذکرے سے کیوں روتے ہو؟ تو وہ فرماتے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ”قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، جو اس سے نجات پا گیا بعد والی منازل اس کے لیے آسان ہو جائیں گی اور جو کوئی اس سے نجات حاصل نہ کر سکا تو اس کے بعد کی منازل بہت مشکل ہوں گی“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7064]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ترمذي»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7065
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ، أَنَّ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا سَوَّى عَلَى الْمَيِّتِ، قَالَ:" اللهُمَّ أَسْلَمَ إِلَيْكَ الْأَهْلَ وَالْعِيَالَ وَالْمَالَ وَالْعَشِيرَةَ، وَذَنْبُهُ عَظِيمٌ فَاغْفِرْ لَهُ".
کثیر بن مدرک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب میت پر مٹی برابر کرتے تو کہتے: «اللَّهُمَّ أَسْلَمَهُ إِلَيْكَ الْأَهْلُ وَالْمَالُ وَالْعَشِيرَةُ، وَذَنْبُهُ عَظِيمٌ، فَاغْفِرْ لَهُ» ”اے اللہ! اس کے اہل، مال اور خاندان نے اسے تیرے سپرد کر دیا ہے اور اس کے گناہ عظیم ہیں، پس تو اسے معاف کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7065]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن ابي شيبه»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7066
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ لَمَّا فَرَغَ مِنْ قَبْرِ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ فَقَامَ النَّاسُ عَنْهُ قَامَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَوَقَفَ عَلَيْهِ وَدَعَا لَهُ.
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا، جب سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کی قبر سے فارغ ہوئے اور لوگ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے، قبر پر ٹھہرے اور ان کے لیے دعا کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7066]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7067
وَرُوِّينَا عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِابْنِهِ عَبْدِ اللهِ:" فَإِذَا مِتُّ فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ وَلَا نَارٌ فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَسُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ سَنًّا، فَإِذَا فَرَغْتُمْ مِنْ قَبْرِي فَامْكُثُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا تُنْحَرُ جَزُورٌ وَيُقَسَّمُ لَحْمُهَا؛ فَإِنِّي أَسْتَأْنِسُ بِكُمْ حَتَّى أَعْلَمَ مَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أنبأ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ: حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ فَذَكَرَهُ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ.
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہا: جب میں فوت ہو جاؤں تو میرے ساتھ نوحہ کرنے والی نہ لے کر آنا اور نہ ہی آگ لانا، جب مجھے دفن کر دو تو مجھ پر مٹی ڈالو۔ جب تم میری قبر سے فارغ ہو جاؤ تو میری قبر کے ارد گرد اتنی دیر کھڑے رہنا جس قدر اونٹ ذبح کر کے تقسیم کیا جاتا ہے، میں تم سے انس محسوس کروں گا جب تک میں جان نہ لوں کہ اپنے رب کے بھیجے ہوئے فرشتوں کو کیا جواب دیتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7067]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
1474. -- باب: ما ورد في قراءة القرآن عند القبر
-- باب: قبر کے پاس قرآن مجید کی تلاوت کرنے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان
حدیث نمبر: 7068
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ عَنِ الْقِرَاءَةِ عِنْدَ الْقَبْرِ فَقَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَلَبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِبَنِيهِ:" إِذَا أَدْخَلْتُمُونِي قَبْرِي فَضَعُونِي فِي اللَّحْدِ وَقُولُوا: بِاسْمِ اللهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ سَنًّا وَاقْرَءُوا عِنْدَ رَأْسِي أَوَّلَ الْبَقَرَةِ وَخَاتِمَتَهَا فَإِنِّي رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَسْتَحِبُّ ذَلِكَ".
عبدالرحمٰن بن علاء بن لجلاج اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: جب تم مجھے قبر میں داخل کرو اور لحد میں رکھو تو کہو: «بِسْمِ اللّٰهِ وَعَلٰی سُنَّةِ رَسُوْلِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر۔“ پھر مجھ پر مٹی ڈالو اور میرے سر کے پاس سورہ بقرہ کے شروع سے اور اس کے خاتمے سے پڑھنا، میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ اسے مستحب جانتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7068]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن العساكر»
الحكم على الحديث: ضعيف