السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1479. -- باب: من كره أن يحفر له قبر غيره إذا كان يتوهم بقاء شيء منه مخافة أن يكسر له عظم
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے میت کے لیے کسی دوسرے کی قبر کھودنے کو اس ڈر سے مکروہ سمجھا کہ کہیں اس کی ہڈی نہ ٹوٹ جائے جبکہ یہ وہم ہو کہ اس (پہلی میت) کا کوئی حصہ باقی ہے
حدیث نمبر: 7079
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ، رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَاذِيُّ سَنَةَ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ وَأَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامِ بْنِ نَافِعٍ الْحِمْيَرِيُّ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ثنا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردے کی ہڈی کا توڑنا زندہ کی ہڈی توڑنے کے مترادف ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7079]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7080
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، أَخِي يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ دَاوُدَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے داؤد کی حدیث کی طرح نقل فرماتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7080]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7081
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، غَيْرَ مَرَّةٍ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا".
حضرت عمرہ رحمہا اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردہ کی ہڈی کا توڑنا زندہ کی ہڈی توڑنے کی طرح ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7081]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
1480. -- باب: من رأى أن يدفن في أرض مملوكة بإذن صاحبها
-- باب: اس شخص کی رائے کا بیان جس نے مالک کی اجازت سے مملوکہ زمین میں دفن کرنے کو درست سمجھا
حدیث نمبر: 7082
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَبْلَ أَنْ يُصَابَ بِأَيَّامٍ فِي الْمَدِينَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي مَقْتَلِهِ، وَفِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ:" انْطَلِقْ إِلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَقُلْ: يَقْرَأُ عَلَيْكِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ السَّلَامَ وَلَا تَقُلْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؛ فَإِنِّي لَسْتُ الْيَوْمَ لِلْمُؤْمِنِينَ أَمِيرًا، وَقُلْ: يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ يُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيْهِ"، قَالَ فَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهَا فَوَجَدَهَا قَاعِدَةً ⦗٩٧⦘ تَبْكِي فَقَالَ: يَقْرَأُ عَلَيْكِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ السَّلَامَ وَيَسْتَأْذِنُ أَنْ يُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيْهِ فَقَالَتْ: قَدْ كُنْتُ أُرِيدُهُ لِنَفْسِي وَلَأُوثِرَنَّهُ الْيَوْمَ عَلَى نَفْسِي، قَالَ فَجَاءَ فَلَمَّا أَقْبَلَ قِيلَ: هَذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ قَدْ جَاءَ، قَالَ:" ارْفَعُونِي فَأَسْنَدَهُ رَجُلٌ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا لَدَيْكَ؟" قَالَ: الَّذِي تُحِبُّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ أَذِنَتْ، فَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا كَانَ شَيْءٌ أَهَمَّ مِنْ ذَلِكَ الْمُضْطَجِعِ، فَإِذَا أَنَا قُبِضْتُ فَاحْمِلُونِي ثُمَّ سَلِّمْ، فَقُلْ يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَإِنْ أَذِنَتْ لَكَ فَأَدْخِلُونِي وَإِنْ رَدَّتْنِي فَرُدُّونِي إِلَى مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَلَمَّا قُبِضَ خَرَجْنَا بِهِ فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي فَسَلَّمَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَقَالَ: يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَتْ أَدْخِلُوهُ فَأُدْخِلَ فَوُضِعَ هُنَاكَ مَعَ صَاحِبَيْهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں شہید ہونے سے پہلے دیکھا اور انہوں نے ان کی شہادت کا تذکرہ کیا اور اس میں یہ بات بھی ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہا: ”تم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سلام پیش کرتے ہیں اور امیر المؤمنین نہ کہنا؛ کیونکہ اب میں امیر المؤمنین نہیں ہوں اور ان سے کہنا کہ عمر بن خطاب اپنے ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت طلب کرتے ہیں۔“ فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے سلام کہا اور اجازت طلب کی، پھر وہ ان کے پاس گئے تو وہ بیٹھی رو رہی تھیں تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: ”عمر بن خطاب آپ کو سلام کہتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ دفن کی اجازت طلب کرتے ہیں۔“ تو انہوں نے کہا: ”وہ تو میرا اپنا ارادہ تھا مگر آج میں اپنے اوپر عمر رضی اللہ عنہ کو ترجیح دیتی ہوں۔“ پس وہ آئے تو کہا گیا: یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آئے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے اٹھاؤ۔“ تو ایک آدمی نے اپنے ساتھ ٹیک لگائی تو کہنے لگے: ”تیرے پاس کیا خبر ہے؟“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! وہی جسے آپ پسند کرتے ہیں کہ انہوں نے اجازت دے دی ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اللہ کا شکر، اس جگہ سے بہتر میرے لیے اور کوئی چیز نہیں۔ جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے اٹھا کے لے جانا، پھر سلام کہنا اور کہنا کہ عمر بن خطاب اجازت طلب کرتا ہے، اگر وہ تجھے اجازت دے دیں تو مجھے داخل کرنا اور اگر وہ رد کردیں تو مجھے واپس لے آنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں لے آنا۔“ اور پوری حدیث بیان کی۔ وہ کہتے ہیں: جب وہ فوت ہوگئے تو ہم انہیں لے کر نکلے، جب ہم وہاں پہنچے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سلام کیا اور کہا: ”عمر بن خطاب اجازت طلب کرتے ہیں۔“ تو انہوں نے کہا: ”انہیں داخل کرو۔“ تو انہوں نے داخل کردیا اور وہاں ان کے ساتھیوں کے ساتھ رکھا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7082]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
1481. -- باب: النصرانية تموت وفي بطنها ولد مسلم
-- باب: اس عیسائی عورت کا بیان جو اس حال میں فوت ہو جائے کہ اس کے پیٹ میں مسلمان بچہ ہو
حدیث نمبر: 7083
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ شَيْخًا، مِنْ أَهْلِ الشَّامِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: دَفَنَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فِي بَطْنِهَا وَلَدٌ مُسْلِمٌ فِي مَقْبَرَةِ الْمُسْلِمِينَ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اہل کتاب کی ایک عورت کو دفن کیا، جس کے پیٹ میں مسلمان بچہ تھا اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7083]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه عبد الرزاق»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7084
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ: أَنَّهُ دَفَنَ امْرَأَةً نَصْرَانِيَّةً فِي بَطْنِهَا وَلَدٌ مُسْلِمٌ فِي مَقْبَرَةٍ لَيْسَتْ بِمَقْبَرَةِ النَّصَارَى وَلَا الْمُسْلِمِينَ.
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نے ایک نصرانیہ عورت کو دفن کیا، جس کے پیٹ میں مسلمان بچہ تھا اور اسے ایسے قبرستان میں دفن کیا جو نہ نصاریٰ کا تھا اور نہ ہی مسلمانوں کا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7084]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه عبد الرزاق»
الحكم على الحديث: ضعيف
1482. جماع أبواب التعزية -- باب: الجلوس عند المصيبة
تعزیت کے ابواب کا مجموعہ -- باب: مصیبت کے وقت بیٹھنے کا بیان
حدیث نمبر: 7085
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَثْنَى، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ أَخْبَرتَنِي عَمْرَةُ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ، وَجَعْفَرٍ وَابْنِ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ جَلَسَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ وَأَنَا أَنْظُرُ مِنْ صَائِرِ الْبَابِ وَهُوَ شَقُّ الْبَابِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ وَقَالَ: إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ قَدْ كَثُرَ بُكَاؤُهُنَّ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْهَاهُنَّ، فَذَهَبَ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ وَقَالَ: إِنَّهُنَّ لَمْ يُطِعْنَهُ فَقَالَ:" انْهَهُنَّ"، فَأَتَاهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: وَاللهِ غَلَبْنَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَزَعَمَتْ أَنَّهُ قَالَ:" فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ"، فَقُلْتُ: أَرْغَمَ اللهُ أَنْفَكَ لَمْ تَفْعَلْ مَا أَمَرَكَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تَتْرُكْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَنَاءِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ابن حارثہ، جعفر اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہم کے قتل کی خبر آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں بیٹھے کہ آپ سے غم واضح ہو رہا تھا، اور میں دروازے کی دراڑ سے دیکھ رہی تھی، ایک آدمی آیا اور عرض کیا: جعفر رضی اللہ عنہ کی عورتیں زیادہ رو رہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں منع کرنے کا حکم دیا تو وہ گیا، پھر دوسری مرتبہ آیا اور کہا کہ وہ کہنا نہیں مان رہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انھیں منع کر“، پھر وہ تیسری مرتبہ آیا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! وہ ہم پر غالب آگئی ہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے منہ میں مٹی ڈال“، میں نے کہا: اللہ تیری ناک خاک آلود کرے! تو نے وہ نہ کیا جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے حکم دیا تھا اور تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنگ کرنا نہ چھوڑا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7085]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7086
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" لَمَّا قُتِلَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، وَجَعْفَرٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْحُزْنُ" قَالَ: وَذَكَرَتْ قِصَّةً.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ، جعفر رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما ہوئے اور غم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے عیاں ہو رہا تھا اور اس واقعہ کا تذکرہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7086]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
1483. -- باب: ما يستحب من تعزية أهل الميت رجاء الأجر في تعزيتهم
-- باب: میت کے اہل خانہ سے اجر کی امید میں تعزیت کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7087
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتُوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ أَبُو عُمَارَةَ، مَوْلَى سَوْدَةَ بِنْتِ سَعْدٍ مَوْلَاةِ بَنِي سَاعِدَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ:" مَنْ عَادَ مَرِيضًا فَلَا يَزَالُ فِي الرَّحْمَةِ حَتَّى إِذَا قَعَدَ عِنْدَهُ اسْتَنْقَعَ فِيهَا، ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنْ عِنْدِهِ فَلَا يَزَالُ يَخُوضُ فِيهَا حَتَّى يَرْجِعَ مِنْ حَيْثُ خَرَجَ، وَمَنْ عَزَّى أَخَاهُ الْمُؤْمِنَ مِنْ مُصِيبَةٍ كَسَاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ حُلَلَ الْكَرَامَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن ابی بکر بن محمد اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جس نے بیمار کی تیمار داری کی وہ جب تک اس کے پاس بیٹھتا ہے اللہ کی رحمت میں ہوتا ہے اور اس میں مستغرق ہوتا ہے اور جب اس کے پاس سے اٹھتا ہے تو وہ اس میں ڈبکیاں لے رہا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ وہیں پلٹ آتا ہے جہاں سے گیا ہوتا ہے اور جس نے مصیبت میں اپنے مسلمان بھائی کی ہمدردی (تعزیت) کی، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن عزت و تکریم کا لباس پہنائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7087]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطبراني»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7088
حَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الظُّفُرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْآدَمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نَاصِحٍ النَّحْوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ عَزَّى مُصَابًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ" تَفَرَّدَ بِهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، وَهُوَ أَحَدُ مَا أُنْكِرَ عَلَيْهِ، وَقَدْ رُوِيَ أَيْضًا عَنْ غَيْرِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مصیبت زدہ کی تعزیت و ہمدردی کی، اس کے لیے بھی اس کے برابر اجر ہوگا۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں علی بن عاصم منفرد ہیں اور یہ ان روایات میں سے ہے جن کی وجہ سے ان پر نکیر کی گئی ہے، اور یہ ان کے علاوہ دوسروں سے بھی مروی ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7088]
اس روایت کو بیان کرنے میں علی بن عاصم منفرد ہیں اور یہ ان روایات میں سے ہے جن کی وجہ سے ان پر نکیر کی گئی ہے، اور یہ ان کے علاوہ دوسروں سے بھی مروی ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7088]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الترمذي»
الحكم على الحديث: ضعيف