السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2457. -- باب: جواز الإجارة
-- باب: اجارہ (مزدوری اور کرائے پر دینے) کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 11635
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: فَقَالَ لَهَا أَبُوهَا: مَا عِلْمُكِ بِقُوَّتِهِ وَأَمَانَتِهِ؟ فَقَالَتْ:" أَمَّا قُوَّتُهُ، فَإِنَّهُ رَفَعَ الْحَجَرَ وَحْدَهُ، وَلَا يَطِيقُ رَفْعَهُ إِلَّا عَشَرَةٌ، وَأَمَّا أَمَانَتُهُ، فَقَوْلُهُ: امْشِي خَلْفِي وَصِفِي لِيَ الطَّرِيقَ؛ لَا تَصِفُ الرِّيحُ لِي جَسَدَكِ".
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس قصہ میں منقول ہے کہ ان (عورتوں) کے باپ (شعیب رحمہ اللہ) نے پوچھا: ”تمہیں کیسے علم ہے اس کی قوت اور امانت داری کا؟“ تو اس نے کہا: ”اس کی قوت یہ ہے کہ اس نے اکیلے ہی وہ پتھر اٹھا لیا جسے دس آدمی ہی اٹھا سکتے تھے اور اس کی امانت اس کا یہ کہنا کہ تو میرے پیچھے چل اور راستہ بتا دینا، یہ اس لیے کہ ہوا تیرا جسم میرے لیے عیاں نہ کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11635]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11636
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، فَذَكَرَهُ وَزَادَ قَالَ:" فَزَادَهُ ذَلِكَ فِيهِ رَغْبَةً، فَقَالَ {إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنْكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتِيَّ هَاتَيْنِ عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصَّالِحِينَ} [القصص: ٢٧] أَيْ فِي حُسْنِ الصُّحْبَةِ وَالْوَفَاءِ بِمَا قُلْتُ، قَالَ مُوسَى {ذَلِكَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَيَّ} [القصص: ٢٨] ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ {وَاللهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ} [القصص: ٢٨] ، فَزَوَّجَهُ، وَأَقَامَ مَعَهُ يَكْفِيهِ وَيَعْمَلُ لَهُ فِي رِعَايَةِ غَنَمِهِ".
ایک روایت میں الفاظ ہیں کہ اس بات نے ان کی رغبت ان میں اور بڑھا دی، چنانچہ شعیب علیہ السلام نے کہا: ﴿میں ارادہ رکھتا ہوں کہ میں تیرا نکاح ان دو بیٹیوں میں سے کسی ایک بیٹی کے ساتھ کر دوں گا، اس شرط پر کہ تو میرے ہاں آٹھ سال نوکری کرے۔ پس اگر تو دس سال پورے کرے گا تو تیری طرف سے ہے اور میں ارادہ نہیں رکھتا کہ تجھ پر سختی کروں۔ اگر اللہ نے چاہا تو تو مجھے صالح لوگوں میں پائے گا﴾ [سورة القصص: 27] یعنی رہنے کے اعتبار سے اچھا اور جو میں نے کہا ہے اس کو پورا کرنے میں۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ﴿یہ میرے اور تیرے درمیان ہے کہ میں دونوں مدتوں میں سے کسی کو پورا کروں، پس میرے اوپر زیادتی نہ ہو﴾ [سورة القصص: 28] اس نے کہا: ہاں، ﴿اللہ تعالیٰ جو ہم نے کہا اس پر وکیل ہے﴾ [سورة القصص: 28] پس اس (شعیب علیہ السلام) نے اس کے ساتھ بیٹی کی شادی کی اور وہ اس کے ساتھ رہے اور ان کی بکریوں کا کام کرتے رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11636]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11637
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَا: ثنا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ، عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ يَهُودِ أَهْلِ الْحِيرَةِ فَسَأَلَنِي: أِيُّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى؟ فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي، سَأَقْدَمُ غَدًا عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَقَدِمْتُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" قَضَى أَكْثَرَهُمَا وَأَطْيَبَهُمَا"، فَلَقِيتُ الْيَهُودِيَّ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: صَاحِبُكُمْ عَالِمٌ ⦗١٩٤⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ مَرْوَانَ، وَزَادَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ فَعَلَ، وَلَمْ يَقُلْ: فَلَقِيتُ الْيَهُودِيَّ إِلَى آخِرِهِ.
سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے اہل حیرہ کے یہودیوں میں سے ایک آدمی ملا، اس نے مجھ سے سوال کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے دونوں مدتوں میں سے کس کو پورا کیا؟ میں نے کہا: میں نہیں جانتا، میں کل سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤں گا، چنانچہ میں ان کے پاس گیا، میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے وہ مدت پوری کی جو زیادہ اور پاکیزہ تھی۔ میں نے یہودی کو خبر دی تو اس نے کہا: تمہارا وہ صاحب عالم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11637]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11638
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أِيُّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى؟ قَالَ:" أَبْعَدَهُمَا وَأَطْيَبَهُمَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے دونوں مدتوں میں سے کون سی پوری کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں میں سے زیادہ لمبی اور پاکیزہ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11638]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11639
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، قَالَ سُفْيَانُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَ مِنْ أَسْنَانِي، وَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سَأَلْتُ جِبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أِيُّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؟ قَالَ: أَتَمَّهُمَا وَأَكْمَلَهُمَا".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل سے سوال کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے دونوں مدتوں میں سے کونسی پوری کی؟ تو جبرائیل نے کہا: ان میں سے جو پوری (۱۰) تھی اور مکمل تھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11639]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ الحميدي 545»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11640
أَخْبَرَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ سَنَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ وِثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ثنا نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَمَا ثَلَاثَةُ رَهْطٍ يَتَمَشَّوْنَ أَخَذَهُمُ الْمَطَرُ فَأَوَوْا إِلَى غَارٍ فِي جَبَلٍ، فَبَيْنَمَا هُمْ فِيهِ حُطَّتْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْظُرُوا أَفْضَلَ أَعْمَالٍ عَمِلْتُمُوهَا لِلَّهِ تَعَالَى فَسَلُوهُ بِهَا؛ لَعَلَّهُ يُفَرِّجُ بِهَا عَنْكُمْ، فَقَالَ أَحَدُهُمُ: اللهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ كَبِيرَانِ، وَكَانَتْ لِيَ امْرَأَةٌ وَوَلَدٌ صِغَارٌ، وَكُنْتُ أَرْعَى عَلَيْهِمْ، فَإِذَا رُحْتُ عَلَيْهِمْ بَدَأْتُ بِأَبَوِيَّ فَسَقَيْتُهُمَا، فَنَأَى بِي يَوْمًا الشَّجَرُ فَلَمْ آتِ حَتَّى نَامَ أَبَوَايَ، فَطَيَّبْتُ الْإِنَاءَ ثُمَّ حَلَبْتُ فِيهِ ثُمَّ قُمْتُ بِحِلَابِي عِنْدَ رَأْسِ أَبَويَ، وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدِ رِجْلِيَّ، أَكْرَهُ أَنْ أَبْدَأَ بِهِمْ قَبْلَ أَبَوِيَّ، وَأَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمَتِهِمَا، فَلَمْ أَزَلْ كَذَلِكَ قَائِمًا حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ، اللهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا فُرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ، فَفَرَجَ لَهُمْ فُرْجَةً رَأَوْا مِنْهَا السَّمَاءَ. وَقَالَ الْآخَرُ: اللهُمَّ إِنَّهَا كَانَتْ لِيَ ابْنَةُ عَمٍّ فَأَحْبَبْتُهَا حَتَّى كَانَتْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلِيَّ، فَسَأَلْتُهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَا، حَتَّى تَأْتِيَنِي بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَسَعَيْتُ حَتَّى جَمَعْتُ مِائَةَ دِينَارٍ، فَأَتَيْتُهَا بِهَا، فَلَمَّا كُنْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا قَالَتِ: اتَّقِ اللهَ، لَا تَفْتَحِ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ، فَقُمْتُ عَنْهَا، اللهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنْي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا مِنْهَا فُرْجَةً، فَفَرَجَ لَهُمْ مِنْهَا فُرْجَةً. وَقَالَ الثَّالِثُ: اللهُمَّ إِنِّي كُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقِ ذُرَةٍ، فَلَمَّا قَضَى عَمَلَهُ عَرَضْتُهُ عَلَيْهِ، فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهُ فَرَغِبَ عَنْهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَعْتَمِلُ بِهِ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرِعَاءَهَا، فَجَاءَنِي فَقَالَ: اتَّقِ ⦗١٩٥⦘ اللهَ وَأَعْطِنِي حَقِّي وَلَا تَظْلِمْنِي، فَقُلْتُ لَهُ: اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْبَقَرِ وَرِعَائِهَا فَخُذْهَا، فَقَالَ: اتَّقِ اللهَ وَلَا تَهْزَأْ بِي، فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أَهْزَأُ بِكَ، اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْبَقَرِ وَرِعَائِهَا فَخُذْهَا، فَذَهَبَ فَاسْتَاقَهَا، اللهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا بَقِيَ مِنْهَا، فَفَرَجَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُمْ، فَخَرَجُوا يَتَمَاشَوْنَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ نَافِعٍ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمی چل رہے تھے، ان کو بارش نے روک دیا۔ انھوں نے ایک پہاڑ کی غار میں پناہ لی۔ اسی دوران ایک پتھر پہاڑ سے گرا اور غار کے منہ پر آگیا۔ وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: اپنے اپنے بہترین اعمال یاد کرو اور ان کے ساتھ اللہ کو پکارو تاکہ وہ اس کی وجہ سے تمہارے اوپر سے پتھر ہٹا دے۔ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے والدین بوڑھے تھے اور میری بیوی اور بچے بھی تھے۔ میں ان کی پرورش کے لیے بکریاں چراتا تھا۔ جب میں شام کو واپس آتا تو سب سے پہلے میں اپنے والدین کو دودھ پلاتا۔ ایک دن درخت کی تلاش میں دور نکل گیا، جب واپس آیا تو وہ دونوں سو چکے تھے۔ میں نے برتن صاف کیا اور دودھ دوہا۔ پھر میں دودھ لے کر اپنے والدین کے سر کے پاس کھڑا ہو گیا اور میرے بچے میرے پاؤں کے پاس بلک رہے تھے۔ میں نے ناپسند کیا کہ اپنے والدین سے پہلے بچوں کو پلاؤں اور یہ بھی ناپسند کیا کہ ان دونوں کو نیند سے بیدار کروں۔ میں کھڑا رہا یہاں تک کہ فجر پھوٹ پڑی۔ اے اللہ! بے شک تو جانتا ہے میں نے یہ صرف تیری رضا کے لیے کیا، تو ہم سے اس پتھر کو ہٹا دے تاکہ ہم آسمان دیکھ لیں۔ وہ پتھر ہٹا اور انھوں نے آسمان دیکھ لیا۔ دوسرے نے کہا: اے اللہ! میری ایک چچا زاد تھی، میں اسے پسند کرتا تھا، وہ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب تھی۔ میں نے اس سے گناہ کرنے کا مطالبہ کیا، اس نے کہا: پہلے تو مجھے سو دینار دے۔ میں نے کوشش کی، سو دینار جمع کیے، پھر اس کے پاس آیا۔ جب میں اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھا تو اس نے کہا: اللہ سے ڈر اور مہر کو نہ توڑ مگر جائز طریقے سے (نکاح سے)۔ میں کھڑا ہو گیا۔ اے اللہ! تو جانتا ہے میں نے یہ کام تیری رضا کے لیے کیا، تو ہم سے اس پتھر کو ہٹا دے۔ وہ تھوڑا سا اور ہٹ گیا۔ تیسرے نے کہا: اے اللہ! میں نے ایک فرق (پیمانہ) جوار کے عوض ایک مزدور لگایا تھا جب اس نے اپنا کام کیا تو میں نے اسے مزدوری دی۔ اس نے لینے سے انکار کر دیا اور اس نے بے رغبتی کی۔ میں ہمیشہ اس کی اس مزدوری سے کام کرتا رہا یہاں تک کہ میں نے اس سے گائیں اور ان کے چرواہے جمع کر لیے۔ وہ آدمی آیا اور اس نے کہا: اللہ سے ڈر اور مجھے میرا حق دے اور میرے اوپر ظلم نہ کر۔ میں نے کہا: جا اور یہ گائیں اور ان کے چرواہے لے جا۔ اس نے کہا: اللہ سے ڈر اور مذاق نہ کر۔ میں نے کہا: میں مذاق نہیں کر رہا، جا اور یہ گائیں اور ان کے چرواہے لے جا۔ وہ لے گیا۔ اے اللہ! تو جانتا ہے میں نے یہ تیری رضا کے لیے کیا تھا، تو باقی ماندہ پتھر بھی ہٹا دے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ پتھر بھی ہٹا دیا پھر وہ نکلے اور چلنے لگے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11640]
تخریج الحدیث: «بخاري 2272، مسلم 2743»
الحكم على الحديث: بخاري 2272، مسلم 2743
حدیث نمبر: 11641
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْمَنِيعِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ بْنِ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ سَنَةَ ثَمَانٍ وَعِشْرِينَ، ثنا السَّعِيدِيُّ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَدِّهِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا بَعَثَ اللهُ نَبِيًّا إِلَّا رَاعِيَ غَنْمٍ"، قَالوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" وَأَنَا كُنْتُ أَرْعَاهَا لِأَهْلِ مَكَّةَ بِالْقَرَارِيطِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”اللہ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔“ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے بھی چرائی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، میں بھی قراریط میں اہل مکہ کی بکریاں چراتا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11641]
تخریج الحدیث: «بخاري 2262»
الحكم على الحديث: بخاري 2262
حدیث نمبر: 11642
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ سَهْلٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ثنا حَمَّادٌ، وَالرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ:" اسْتَأْجَرَتْ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفْرَتَيْنِ إِلَى جُرَشَ، كُلُّ سَفْرَةٍ بِقَلُوصٍ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَجَّرْتُ نَفْسِي مِنْ خَدِيجَةَ سَفْرَتَيْنِ بِقَلُوصٍ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو سفروں کی مزدوری دی۔ جرش کی طرف سفر ہوا۔ ایک سفر کے بدلے ایک اونٹنی دی۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے خدیجہ سے دو سفروں میں اونٹنی اجرت لی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11642]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11643
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ زِيَادٍ، أنبأ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" وَاسْتَأْجَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا مِنْ بَنِي الدِّيلِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبَّادٍ هَادِيًا خِرِّيتًا، وَالْخِرِّيتُ الْمَاهِرُ بِالْهِدَايَةِ، قَدْ غَمَسَ يَدَهُ فِي حِلْفِ آلِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ وَهُوَ عَلَى دِينِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، فَأَمِنَاهُ وَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا وَوَاعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، فَأَتَاهُمَا بِرَاحِلَتَيْهِمَا صَبِيحَةَ اللَّيَالِي الثَّلَاثِ، فَارْتَحَلَا، وَانْطَلَقَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ وَالدَّلِيلُ، فَأَخَذَ بِهِمْ طَرِيقَ أَذَاخِرَ، وَهِيَ فِي طَرِيقِ السَّاحِلِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنی دیل کے ایک آدمی کو، جو پھر بنی عباد میں سے تھا، ماہر رہبر کے طور پر مزدوری پر رکھا، «الخِرِّيْتُ» کا معنی ماہر رہبر ہے، اس نے اپنا ہاتھ خاندانِ عاص بن وائل کے حلف (معاہدے) میں ڈبویا ہوا تھا اور وہ کفارِ قریش کے دین پر تھا، لیکن ان دونوں کو اس پر اطمینان تھا، انہوں نے اسے اپنی سواریاں دی تھیں اور وعدہ کیا تھا کہ تین راتوں بعد غارِ ثور آئے گا، چنانچہ وہ ان دونوں کے پاس تیسری رات کی صبح کو آیا، وہ دونوں سوار ہوئے اور عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ اور دیلی آدمی بھی ساتھ تھے، یہ رہبر ساحل کے کنارے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لے کر چلا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11643]
تخریج الحدیث: «بخاري 2263»
الحكم على الحديث: بخاري 2263
حدیث نمبر: 11644
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ قَبْلَكُمْ مَثْلُ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ مَا بَيْنَ غُدْوَةٍ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ النَّصَارَى، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مَا بَيْنَ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ؟ فَعَمِلْتُمْ أَنْتُمْ، فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى وَقَالُوا: مَا لَنَا أَكْثَرَ عَمَلًا وَأَقَلَّ عَطَاءً؟ قَالَ: هَلْ نَقَصْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا؟ قَالُوا: لَا، فَقَالَ: إِنَّمَا هُوَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ. وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَرَوَاهُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِيهِ كَمَا:.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری مثال اور تم سے پہلے یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص نے کئی مزدور کام پر لگائے اور اس نے کہا: کون ہے جو ایک قیراط کے بدلے صبح سے دوپہر تک کام کرے؟ پس نصاریٰ نے کام کیا، پھر اس نے کہا: کون ہے جو دوپہر سے عصر تک ایک قیراط کے بدلے یہ کام کرے؟ یہودیوں نے یہ کام کیا۔ پھر اس نے کہا: کون ہے جو دو قیراط کے بدلے عصر سے مغرب تک کام کرے گا؟ تو تم نے کام کیا۔ یہود و نصاریٰ غضب میں آگئے اور کہنے لگے: کیا بات ہے کہ ہم کام زیادہ کریں اور مزدوری کم ملے؟ وہ آدمی کہنے لگا: کیا میں نے تم کو کم اجرت دی ہے؟ وہ کہیں گے: نہیں، پھر وہ کہے گا: وہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہتا ہوں دے دیتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11644]
تخریج الحدیث: «بخاري 2268»
الحكم على الحديث: بخاري 2268