السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2462. -- باب: ما جاء في تضمين الأجراء
-- باب: مزدوروں (اجیروں) پر تاوان عائد کرنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11664
فِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الْأَصَمِّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الشَّافِعِيِّ قَالَ: قَدْ ذَهَبَ إِلَى تَضْمِينِ الْقَصَّارِ شُرَيْحٌ، فَضَمَّنَ قَصَّارًا احْتَرَقَ بَيْتُهُ فَقَالَ: تُضَمِّنُنِي وَقَدِ احْتَرَقَ بَيْتِي، فَقَالَ شُرَيْحٌ:" أَرَأَيْتَ لَوِ احْتَرَقَ بَيْتُهُ كُنْتَ تَتْرُكُ لَهُ أَجْرَكَ؟" أَخْبَرَنَا بِهَذَا عَنْهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ لَا يُثْبِتُ أَهْلُ الْحَدِيثِ مِثْلَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ضَمَّنَ الْغَسَّالَ وَالصَّبَّاغَ وَقَالَ: لَا يُصْلِحُ النَّاسَ إِلَّا ذَلِكَ..
امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ قاضی شریح رحمہ اللہ دھوبی کو ضامن ٹھہرانے کے قائل تھے، چنانچہ انہوں نے ایک دھوبی کو ضامن ٹھہرایا جس کا گھر جل گیا تھا، اس نے کہا: آپ مجھے ضامن بناتے ہیں جبکہ میرا گھر جل گیا ہے؟ تو قاضی شریح نے کہا: تیری کیا رائے ہے، اگر اس کا گھر جل جاتا تو کیا تو اس کے لیے اپنی اجرت چھوڑ دیتا؟ یہ خبر ابن عیینہ نے بیان کی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک ایسی سند سے، جس جیسی کو محدثین ثابت نہیں مانتے، روایت کیا گیا ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے دھوبی اور رنگریز کو ضامن ٹھہرایا اور فرمایا: لوگوں کی اصلاح اسی سے ہو سکتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11664]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک ایسی سند سے، جس جیسی کو محدثین ثابت نہیں مانتے، روایت کیا گیا ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے دھوبی اور رنگریز کو ضامن ٹھہرایا اور فرمایا: لوگوں کی اصلاح اسی سے ہو سکتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11664]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الام 4/41»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11665
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا قَالَ ذَلِكَ. قَالَ: وَيُرْوَى عَنْ عُمَرَ تَضْمِينُ بَعْضِ الصُّنَّاعِ مِنْ وَجْهٍ أَضْعَفَ مِنْ هَذَا، وَلَمْ نَعْلَمْ وَاحِدًا مِنْهُمَا يَثْبُتُ قَالَ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَنَّهُ كَانَ لَا يُضَمِّنُ أَحَدًا مِنِ الْأُجَرَاءِ مِنْ وَجْهٍ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهُ. وَثَابِتٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ قَالَ: لَا ضَمَانَ عَلَى صَانِعٍ، وَلَا عَلَى أَجِيرٍ.
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہی بات فرمائی۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بعض کاریگروں کو ضامن ٹھہرانا اس سے بھی کمزور سند سے مروی ہے، اور ہم ان دونوں میں سے کسی کو ثابت نہیں جانتے۔
انہوں نے فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند سے منقول ہے کہ وہ مزدوروں میں سے کسی کو ضامن نہیں ٹھہراتے تھے، اور یہ ایسی سند سے ہے جس جیسی ثابت نہیں ہوتی۔
اور عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا: کاریگر اور مزدور پر کوئی ضمانت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11665]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بعض کاریگروں کو ضامن ٹھہرانا اس سے بھی کمزور سند سے مروی ہے، اور ہم ان دونوں میں سے کسی کو ثابت نہیں جانتے۔
انہوں نے فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند سے منقول ہے کہ وہ مزدوروں میں سے کسی کو ضامن نہیں ٹھہراتے تھے، اور یہ ایسی سند سے ہے جس جیسی ثابت نہیں ہوتی۔
اور عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا: کاریگر اور مزدور پر کوئی ضمانت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11665]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ الام 4/41»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11666
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ شُبَّانَ الْعَطَّارُ، بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ يُضَمِّنُ الصَّبَّاغَ وَالصَّائِغَ وَقَالَ:" لَا يَصْلُحُ لِلنَّاسِ إِلَّا ذَاكَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ رنگریز اور سنار کو ضامن ٹھہراتے تھے اور فرمایا: لوگوں کے لیے اس کے سوا کچھ درست نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11666]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11667
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ شُبَّانَ، ثنا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، أَنَّ عَلِيًّا" كَانَ يَضْمَنُ الْأَجِيرَ" حَدِيثُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ مُرْسَلٌ، وَأَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ يُضَعِّفُونَ أَحَادِيثَ خِلَاسٍ عَنْ عَلِيٍّ، وَقَدْ رَوَى جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ يَضْمَنُ الْأَجِيرَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
قتادہ، خلاس سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مزدور کو ضامن ٹھہرایا کرتے تھے۔
جابر جعفی نے، جو ضعیف ہے، شعبی سے نقل کیا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مزدور کو ضامن ٹھہرایا کرتے تھے۔
جعفر کی اپنے والد کے واسطے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل ہے، اور محدثین خلاس کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایات کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11667]
جابر جعفی نے، جو ضعیف ہے، شعبی سے نقل کیا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مزدور کو ضامن ٹھہرایا کرتے تھے۔
جعفر کی اپنے والد کے واسطے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل ہے، اور محدثین خلاس کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایات کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11667]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11668
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ ⦗٢٠٣⦘ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَشْعَثِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ: شَهِدْتُ شُرَيْحًا" ضَمَّنَ قَصَّارًا أَوْ صَبَّاغًا".
ابن ابی الشعثاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں شریح رحمہ اللہ کے پاس موجود تھا، انہوں نے ایک دھوبی یا رنگریز کو ضامن ٹھہرایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11668]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11669
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ أَنَّهُ قُدِّمَ دُهْنٌ لَهُ مِنَ الْبَصْرَةِ، وَأَنَّهُ اسْتَأْجَرَ حَمَّالًا يَحْمِلُهُ، وَالْقَارُورَةُ ثَمَنُهَا ثَلَاثُمِائَةٍ أَوْ أَرْبَعُمِائَةٍ، فَوَقَعَتِ الْقَارُورَةُ وَانْكَسَرَتْ، فَأَرَدْتُ أَنْ يُصَالِحَنِي، فَأَبَى، فَخَاصَمْتُهُ إِلَى شُرَيْحٍ، فَقَالَ لَهُ شُرَيْحٌ:" إِنَّمَا أَعْطَى الْأَجْرَ لِتُضَمِّنَ" فَضَمَّنَهُ شُرَيْحٌ، ثُمَّ لَمْ يَزَلِ النَّاسُ حَتَّى صَالَحْتُهُ.
شعبہ رحمہ اللہ، ابو الہیثم سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا تیل بصرہ سے لایا گیا، انہوں نے اسے اٹھانے کے لیے ایک مزدور اجرت پر رکھا اور تیل والا برتن تین یا چار سو کا تھا، وہ گر کر ٹوٹ گیا، میں نے ارادہ کیا کہ ان سے صلح ہو جائے لیکن انہوں نے انکار کر دیا، میں شریح رحمہ اللہ کے پاس یہ معاملہ لے کر گیا، شریح رحمہ اللہ نے ان سے کہا کہ اس نے اجرت اس لیے دی تھی کہ آپ ذمہ دار ہیں، قاضی شریح رحمہ اللہ نے اسے ضامن ٹھہرایا، پھر لوگ ہمیشہ کوشش کرتے رہے یہاں تک کہ میری ان سے صلح ہو گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11669]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11670
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْقَصَّارِ، فَقَالَ:" يُضَمَّنُ" فَبَلَغَنِي عَنْ حَمَّادٍ أَنَّهُ يَرْوِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَا يُضَمَّنُ"، قَالَ: فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ: وَاللهِ مَا أَدْرِي رَأَيْتُكَ عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ قَطُّ أَمْ لَا؟ فَقَالَ:" لَا تَفْعَلْ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ؛ فَإِنَّ هَذَا يَشُقُّ عَلَيَّ" وَاللهُ أَعْلَمُ.
اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے دھوبی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: وہ ضامن ہے۔
پھر مجھے حماد سے یہ بات پہنچی کہ وہ ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: وہ ضامن نہیں ہے۔ میں ان سے ملا اور کہا: اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کہ میں نے تمہیں کبھی ابراہیم کے پاس دیکھا بھی ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہا: اے ابو محمد! ایسا نہ کرو، یہ بات مجھ پر گراں گزرتی ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11670]
پھر مجھے حماد سے یہ بات پہنچی کہ وہ ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: وہ ضامن نہیں ہے۔ میں ان سے ملا اور کہا: اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کہ میں نے تمہیں کبھی ابراہیم کے پاس دیکھا بھی ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہا: اے ابو محمد! ایسا نہ کرو، یہ بات مجھ پر گراں گزرتی ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11670]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2463. -- باب: لا ضمان على المكتري فيما اكترى إلا أن يتعدى
-- باب: کرائے پر چیز لینے والے پر کرائے کی چیز کا کوئی تاوان نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ وہ زیادتی (غفلت یا جان بوجھ کر نقصان) کرے۔
حدیث نمبر: Q11671
رُوِّينَا عَنْ شُرَيْحٍ أَنَّهُ قَالَ: لَيْسَ عَلَى مُسْتَكْرٍ ضَمَانٌ، فَإِنْ تَعَدَّى فَجَاوَزَ عَلَيْهَا الْوَقْتَ فَعَطِبَتْ، قَالَ شُرَيْحٌ: يَجْتَمِعُ عَلَيْهِ الْكِرَاءُ وَالضَّمَانُ.
ہمیں قاضی شریح رحمہ اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”کرایہ پر (جانور) لینے والے پر کوئی ضمان (تاوان) نہیں ہے۔“
پھر اگر وہ زیادتی کرے اور مقررہ وقت سے تجاوز کر جائے اور وہ (جانور) ہلاک ہو جائے تو شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس پر کرایہ اور ضمان (تاوان) دونوں جمع ہوں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: Q11671]
پھر اگر وہ زیادتی کرے اور مقررہ وقت سے تجاوز کر جائے اور وہ (جانور) ہلاک ہو جائے تو شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس پر کرایہ اور ضمان (تاوان) دونوں جمع ہوں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: Q11671]
حدیث نمبر: 11671
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ أَكْرَى كِرَاءً فَجَاوَزَ صَاحِبَهُ ذَا الْحُلَيْفَةِ فَقَدْ وَجَبَ كِرَاؤُهُ، وَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ" يُرِيدُ وَاللهُ أَعْلَمُ إِذَا قَبَضَ الْمُكْتَرِي مَا اكْتَرَى وَجَاوَزَ ذَا الْحُلَيْفَةِ فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ جَمِيعُ الْكِرَاءِ إِذَا لَمْ يَكُنْ شَرَطَ فِي الْأُجْرَةِ أَجَلًا، وَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ إِذَا لَمْ يَتَعَدَّ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جو آدمی کرایے پر کوئی چیز دے، پھر اس کا ساتھی ذوالحلیفہ سے آگے نکل جائے تو کرایہ واجب ہو گیا اور اس پر ضمان نہیں ہے۔
مراد یہ ہے، واللہ اعلم، کہ جب کرایے پر لینے والا کرایے کی چیز پر قبضہ کر لے اور ذوالحلیفہ سے آگے نکل جائے تو اس پر مکمل کرایہ واجب ہو جاتا ہے، جبکہ اجرت میں کوئی مدت شرط نہ کی گئی ہو، اور جب تک وہ زیادتی نہ کرے اس پر ضمان نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11671]
مراد یہ ہے، واللہ اعلم، کہ جب کرایے پر لینے والا کرایے کی چیز پر قبضہ کر لے اور ذوالحلیفہ سے آگے نکل جائے تو اس پر مکمل کرایہ واجب ہو جاتا ہے، جبکہ اجرت میں کوئی مدت شرط نہ کی گئی ہو، اور جب تک وہ زیادتی نہ کرے اس پر ضمان نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11671]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2464. -- باب: الإمام يضمن والمعلم يغرم من صار مقتولا بتعزير الإمام وتأديب المعلم
-- باب: جو شخص امام (حکمران) کی تعزیر یا استاد کی تادیب (سزا) سے مارا جائے تو امام ضامن ہوگا اور استاد تاوان ادا کرے گا۔
حدیث نمبر: 11672
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ قَالَ:" التَّعْزِيرُ أَدَبٌ لَا حَدٌّ مِنْ حُدُودِ اللهِ، وَقَدْ كَانَ يَجُوزُ تَرْكُهُ إِلَّا أَنْ يَرَى أُمُورًا قَدْ فُعِلَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ غَيْرَ حُدُودٍ فَلَمْ يَضْرِبْ فِيهَا، مِنْهَا الْغُلُولُ فِي سَبِيلِ اللهِ وَغَيْرُ ذَلِكَ، وَلَمْ يُؤْتَ بِحَدٍّ قَطُّ فَعَفَا" قَالَ: وَقِيلَ: بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ⦗٢٠٤⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى امْرَأَةٍ فِي شَيْءٍ بَلَغَهُ عَنْهَا، فَأُسْقِطَتْ، فَاسْتَشَارَ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: أَنْتَ مُؤَدِّبٌ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: إِنْ كَانَ اجْتَهَدَ فَقَدْ أَخْطَأَ، وَإِنْ لَمْ يَجْتَهِدْ فَقَدْ غَشَّ، عَلَيْكَ الدِّيَةُ، قَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكَ أَنْ لَا تَجْلِسَ حَتَّى تَضْرِبَهَا عَلَى قَوْمِكَ قَالَ: وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا أَحَدٌ يَمُوتُ فِي حَدٍّ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْئًا، الْحَقُّ قَتْلُهُ إِلَّا مَنْ مَاتَ فِي حَدِّ خَمْرٍ؛ فَإِنَّهُ شَيْءٌ رَأَيْنَاهُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ مَاتَ فِيهِ فَدِيَتُهُ إِمَّا قَالَ: عَلَى بَيْتِ الْمَالِ، وَإِمَّا قَالَ: عَلَى عَاقِلَةِ الْإِمَامِ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تعزیر ادب (تادیب) ہے، اللہ کی حدود میں سے کوئی حد نہیں ہے اور اس کا ترک کرنا بھی جائز ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ کچھ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوئے جو حدود میں سے نہ تھے، مثلاً اللہ کے راستے میں خیانت کرنا اور اس کے علاوہ دیگر کام، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں مار نہیں لگائی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کبھی کوئی حد (کا مقدمہ) نہیں لایا گیا کہ آپ نے اسے معاف کر دیا ہو۔ اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو کسی بات کی وجہ سے جو انہیں اس کے بارے میں پہنچی تھی، بلا بھیجا تو اس کا حمل ساقط ہو گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں مشورہ کیا، ایک آدمی نے کہا: آپ «مُؤَدِّبٌ» ”تادیب کرنے والے“ ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اگر اس نے اجتہاد سے یہ بات کہی تو اس نے غلطی کی، اور اگر اجتہاد نہیں کیا تو اس نے آپ سے خیانت کی، آپ پر دیت لازم ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ آپ اس وقت تک نہ بیٹھیں جب تک اسے اپنی قوم پر تقسیم نہ کر دیں۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جو کوئی حد میں مر جائے، میں اپنے دل میں اس کے بارے میں کچھ محسوس نہیں کرتا، حق نے اسے قتل کیا ہے، مگر شراب کی حد میں مرنے والا، بیشک وہ ایسی چیز ہے جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اختیار کی ہے۔ جو اس میں فوت ہو اس کی دیت یا تو، انہوں نے فرمایا: بیت المال پر ہو گی، یا فرمایا: امام (خلیفہ) کے عاقلہ پر ہو گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11672]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح