السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2464. -- باب: الإمام يضمن والمعلم يغرم من صار مقتولا بتعزير الإمام وتأديب المعلم
-- باب: جو شخص امام (حکمران) کی تعزیر یا استاد کی تادیب (سزا) سے مارا جائے تو امام ضامن ہوگا اور استاد تاوان ادا کرے گا۔
حدیث نمبر: 11673
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، أَنَّ أَبَا الْوَلِيدِ الْفَقِيهَ أَخْبَرَهُمْ قَالَ: ثنا الْمَاسَرْجِسِيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا سَلَّامٌ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَلَغَهُ أَنَّ امْرَأَةً بَغِيَّةً يَدْخُلُ عَلَيْهَا الرِّجَالُ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولًا، فَأَتَاهَا الرَّسُولُ فَقَالَ: أَجِيبِي أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَفَزِعَتْ فَزْعَةً وَقَعَتِ الْفَزْعَةُ فِي رَحِمِهَا؛ فَتَحَرَّكَ وَلَدُهَا، فَخَرَجَتْ فَأَخَذَهَا الْمَخَاضُ فَأَلْقَتْ غُلَامًا جَنِينًا، فَأَتَى عُمَرَ بِذَلِكَ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْمُهَاجِرِينَ فَقَصَّ عَلَيْهِمْ أَمْرَهَا، فَقَالَ: مَا تَرَوْنَ؟ فَقَالُوا: مَا نَرَى عَلَيْكَ شَيْئًا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّمَا أَنْتَ مُعَلِّمٌ وَمُؤَدِّبٌ، وَفِي الْقَوْمِ عَلِيٌّ، وَعَلِيٌّ سَاكِتٌ، قَالَ: فَمَا تَقُولُ أَنْتَ يَا أَبَا الْحَسَنِ؟ قَالَ: أَقُولُ:" إِنْ كَانُوا قَارَبُوكَ فِي الْهَوَى فَقَدْ أَثِمُوا، وَإِنْ كَانَ هَذَا جَهْدُ رَأْيِهِمْ فَقَدْ أَخْطَأُوا، وَأَرَى عَلَيْكَ الدِّيَةَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ" قَالَ: صَدَقْتَ، اذْهَبْ فَاقْسِمْهَا عَلَى قَوْمِكَ.
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پتا چلا کہ ایک بدکار عورت کے پاس مرد آتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے پاس ایک آدمی بھیجا، اس آدمی نے کہا: امیر المومنین کا بلاوا قبول کرو۔ وہ سخت گھبرا گئی اور یہ گھبراہٹ اس کے رحم تک پہنچی تو اس کا بچہ حرکت کرنے لگا، وہ باہر نکلی تو اسے دردِ زہ شروع ہو گیا اور اس نے ایک لڑکے کا جنین گرا دیا۔ یہ معاملہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا، آپ نے مہاجرین کی طرف پیغام بھیجا، انہیں اس کا قصہ سنایا اور ان سے رائے مانگی تو انہوں نے کہا: اے امیر المومنین! ہم آپ پر کچھ نہیں سمجھتے، آپ تو معلم اور مؤدب ہیں۔ قوم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ خاموش تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوالحسن! آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ آپ کہنے لگے: اگر انہوں نے آپ کی خواہش کی طرف جھکاؤ میں یہ بات کہی ہے تو وہ گناہ گار ہیں، اور اگر یہ ان کی رائے کی پوری کوشش (اجتہاد) تھی تو انہوں نے غلطی کی، اور اے امیر المومنین! میں آپ کو دیت کا ذمہ دار سمجھتا ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے سچ کہا ہے، جاؤ اور اسے اپنی قوم پر تقسیم کر دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11673]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11674
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِيُّ بِهَا، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ الْقَصَّارُ، وَقَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" مَا مِنْ صَاحِبِ حَدٍّ أُقِيمَ عَلَيْهِ حَدٌّ فِي نَفْسِي عَلَيْهِ شَيْءٌ إِلَّا صَاحِبَ الْخَمْرِ، لَوْ مَاتَ لَوَدَيْتُهُ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّهُ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَإِنَّمَا أَرَادَ لَمْ يَسُنَّ مَا وَرَاءَ الْأَرْبَعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ، وَهُوَ مَا زَادُوا عَلَى حَدِّهِ عَلَى وَجْهِ التَّعْزِيرِ، وَأَمَّا الْأَرْبَعُونَ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ وَأَطْرَافِ الثِّيَابِ فَهُوَ حَدٌّ ثَابِتٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس آدمی پر بھی حد لگے، میں اپنے دل میں اس کے بارے میں کوئی چیز نہیں پاتا مگر صاحبِ خمر، اگر وہ فوت ہو جائے تو میں اس کی دیت دوں گا۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جاری نہیں کیا۔
«لَمْ يَسُنَّهُ» سے مراد یہ ہے کہ چالیس سے اسی کے علاوہ نہیں جاری کیا اور حد میں جو انہوں نے زیادہ کیا وہ تعزیر کے طور پر ہے۔ چالیس کھجور کی ٹہنی سے اور جوتوں سے اور کپڑے کے کنارے سے یہ حد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11674]
«لَمْ يَسُنَّهُ» سے مراد یہ ہے کہ چالیس سے اسی کے علاوہ نہیں جاری کیا اور حد میں جو انہوں نے زیادہ کیا وہ تعزیر کے طور پر ہے۔ چالیس کھجور کی ٹہنی سے اور جوتوں سے اور کپڑے کے کنارے سے یہ حد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11674]
تخریج الحدیث: «بخاري 6778، مسلم 1707»
الحكم على الحديث: بخاري 6778، مسلم 1707
حدیث نمبر: 11675
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، ثنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْمُعَلِّمِ يَضْرِبُ الْغُلَامَ عَلَى التَّأْدِيبِ فَيَعْطَبُ قَالَ:" يَغْرَمُهُ".
عطاء رحمہ اللہ سے ایسے معلم کے بارے میں پوچھا گیا جو ادب کے لیے بچے کو مار لے اور اسے نقصان پہنچائے تو انہوں نے فرمایا: وہ ذمہ دار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11675]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
2465. -- باب: أخذ الأجرة على تعليم القرآن والرقية به
-- باب: قرآن مجید کی تعلیم دینے اور اس کے ذریعے دم کرنے پر اجرت لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11676
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو يَحْيَى أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ السَّمَرْقَنْدِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي أَبَا مَعْشَرٍ الْبَرَاءَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِمَاءٍ وَفِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ، فَعَرَضَ لَهُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَاءِ فَقَالَ لَهُمْ: هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ، إِنَّ فِي الْمَاءِ رَجُلًا لَدِيغًا أَوْ سَلِيمًا، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَرَأَ أُمَّ الْكِتَابِ عَلَى شَاءٍ، فَبَرَأَ، فَجَاءَ بِالشَّاءِ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَكَرِهُوا ذَلِكَ وَقَالُوا: أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللهِ أَجْرًا، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سِيدَانَ بْنِ مُضَارِبٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ پانی کے ایک مقام کے پاس سے گزرے، وہاں ایک آدمی تھا جسے بچھو نے کاٹا ہوا تھا۔ اس قبیلے کا ایک آدمی صحابہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: کیا تم میں سے کوئی دم کرنے والا ہے؟ ہمارے ایک آدمی کو بچھو نے ڈس لیا ہے۔ ان صحابہ میں سے ایک آدمی گیا، اس نے چند بکریوں کے عوض سورہ فاتحہ کے ساتھ دم کیا۔ اس آدمی کو شفا مل گئی۔ یہ صحابی بکریاں لے کر صحابہ کے پاس آئے، انہوں نے اس فعل کو ناپسند کیا اور کہا: تو نے اللہ کی کتاب پر اجرت لی ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جس چیز پر اجرت لیتے ہو ان میں اللہ کی کتاب سب سے زیادہ حق دار ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11676]
تخریج الحدیث: «بخاري 5737»
الحكم على الحديث: بخاري 5737
حدیث نمبر: 11677
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، وَمُسَدَّدٌ، وَالْحَجَبِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَهْطًا مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلَقُوا فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا حَتَّى نَزَلُوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ، فَلُدِغَ سَيِّدُ الْحِيِّ، فَسَعَوْا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ، لَا يَنْفَعُهُ شَيْءٌ، حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ: لَوْ أَتَيْتُمْ هَؤُلَاءِ الرَّهْطَ الَّذِينَ نَزَلُوا بِكُمْ لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَ بَعْضِهِمْ شَيْءٌ يَنْفَعُ صَاحِبَكُمْ، فَأَتَوْهُمْ فَقَالُوا: أَيُّهَا الرَّهْطُ، إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ، فَسَعَيْنَا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ، لَا يَنْفَعُهُ شَيْءٌ، فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ شَيْءٌ يَنْفَعُ صَاحِبَنَا؟ قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: نَعَمْ، وَاللهِ إِنِّي لَأَرْقِي، وَلَكِنْ وَاللهِ لَقَدِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَأَبَيْتُمْ أَنْ تُضَيِّفُونَا، فَمَا أَنَا بِرَاقٍ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا، فَصَالَحُوهُمْ عَلَى قَطِيعٍ مِنَ الْغَنَمِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ فَجَعَلَ يَتْفُلُ عَلَيْهِ وَيَقُولُ: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: ٢] حَتَّى بَرَأَ فَكَأَنَّمَا نَشَطَ مِنْ عِقَالٍ حَتَّى انْطَلَقَ يَمْشِي مَا بِهِ قَلَبَةٌ، فَأَوْفَوْهُمْ جُعْلَهُمُ الَّذِي صَالَحُوهُمْ عَلَيْهِ، فَقَالَ: اقْسِمُوا، فَقَالَ الَّذِي رَقَى: لَا تَفْعَلُوا حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَذْكُرَ لَهُ الَّذِي كَانَ فَنَنْظُرَ مَا يَأْمُرُنَا بِهِ، قَالَ فَغَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" مَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟" قَالَ: وَقَالَ:" أَصَبْتُمُ اقْتَسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ" قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: حُدِّثْنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ عَلَى الِانْفِرَادِ، وَزَادَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْحَدِيثِ، وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ ⦗٢٠٦⦘ وَحَدِيثُ الْمُزَوَّجَةِ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ دَلِيلٌ فِيهِ، وَمَوْضِعُهُ كِتَابُ الصَّدَاقِ.
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار صحابہ کرام کی ایک جماعت کسی سفر میں گئی، انہوں نے راستے میں کسی عرب قبیلے کے قریب پڑاؤ ڈالا اور ان سے کھانا طلب کیا تو انہوں نے مہمان نوازی سے انکار کر دیا، قبیلے کے سردار کو سانپ نے کاٹ لیا، انہوں نے ہر طرح کوشش کی لیکن کچھ افاقہ نہ ہوا، ایک شخص کہنے لگا: اس جماعت کے پاس جاؤ جو تمہارے ہاں ٹھہری ہوئی ہے، شاید ان کے پاس اس کا کوئی علاج ہو، چنانچہ انہوں نے کہا: اے جماعت! ہمارے سردار کو سانپ نے کاٹ لیا ہے اور ہم ہر طرح کوشش کر چکے ہیں لیکن افاقہ نہیں ہو رہا، تمہارے پاس اس کا کوئی علاج اور حل ہے؟ تو ایک صحابی کہنے لگے: ہاں، میں دم کرنا جانتا ہوں، لیکن ہم نے تم سے کھانا مانگا تو تم نے مہمان نوازی سے انکار کر دیا، اب میں اس وقت تک دم نہیں کروں گا جب تک تم مجھے اس کا کچھ عوض نہ دو، چنانچہ انہوں نے صحابہ سے بکریوں کے ایک ریوڑ پر صلح کر لی، وہ صحابی گئے اور اسے دم کرنے لگے اور وہ سورہ فاتحہ پڑھتے رہے، تھوڑی دیر بعد وہ بالکل تندرست ہو گیا گویا اسے رسیوں سے کھول دیا گیا ہو اور وہ چلنے لگا گویا اسے کوئی تکلیف نہ ہو، چنانچہ انہوں نے وعدے کے مطابق وہ عوض ادا کر دیا، لوگوں نے کہا: اسے تقسیم کر لو، وہ دم والے صحابی کہنے لگے: ٹھہرو! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر مسئلہ معلوم کریں پھر وہ جو حکم فرمائیں، چنانچہ وہ صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ قصہ بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ دم ہے؟“ پھر فرمایا: ”تم نے ٹھیک کیا، اسے تقسیم کر لو اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی رکھنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11677]
حدیث نمبر: 11678
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حِبَّانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْحَمَّالُ، ثنا إِدْرِيسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى الدَّقِيقِيُّ، عَنِ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ قَالَ:" ثَلَاثَةٌ مُعَلِّمُونَ كَانُوا بِالْمَدِينَةِ يُعَلِّمُونَ الصِّبْيَانَ، وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَرْزُقُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ خَمْسَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا كُلَّ شَهْرٍ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ وَكِيعٍ.
وضین بن عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مدینہ میں تین معلم بچوں کو پڑھاتے تھے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان میں سے ہر ایک کو ماہانہ پندرہ درہم معاوضہ عطا فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11678]
حدیث نمبر: 11679
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ: سَأَلْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ عَنْ أَجْرِ الْمُعَلِّمِ، قَالَ:" أَرَى لَهُ أَجْرًا" قَالَ شُعْبَةُ: وَسَأَلْتُ الْحَكَمَ، فَقَالَ:" لَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا يَكْرَهُهُ" قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي التَّرْجَمَةِ: وَقَالَ الْحَكَمُ: لَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا كَرِهَ أَجْرَ الْمُعَلِّمِ قَالَ: وَلَمْ يَرَ ابْنُ سِيرِينَ بِأَجْرِ الْمُعَلِّمِ بَأْسًا قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءٍ وَأَبِي قِلَابَةَ أَنَّهُمَا كَانَا لَا يَرَيَانِ بِتَعْلِيمِ الْغِلْمَانِ بِالْأَجْرِ بَأْسًا وَعَنِ الْحَسَنِ رَحِمَهُ اللهُ قَالَ: إِذَا قَاطَعَ الْمُعَلِّمُ وَلَمْ يَعْدِلْ كُتِبَ مِنَ الظَّلَمَةِ.
(الف) شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن قرہ سے معلم کی اجرت کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا: میں اس کے لیے اجرت کی رائے رکھتا ہوں۔
(ب) حکم کہتے ہیں: میں نے کسی سے اس کی کراہت نہیں سنی۔ امام بخاری رحمہ اللہ ترجمہ میں ذکر کرتے ہیں کہ حکم نے فرمایا: میں نے معلم کی اجرت کے بارے میں کسی کی کراہت نہیں سنی اور فرمایا: ابن سیرین بھی معلم کی اجرت کے بارے میں حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(ج) عطاء اور ابو قلابہ بچوں کو تعلیم دینے پر اجرت لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(د) حسن رحمہ اللہ سے منقول ہے: جب معلم اجرت طے کر لے اور عدل نہ کرے تو وہ ظالموں میں لکھا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11679]
(ب) حکم کہتے ہیں: میں نے کسی سے اس کی کراہت نہیں سنی۔ امام بخاری رحمہ اللہ ترجمہ میں ذکر کرتے ہیں کہ حکم نے فرمایا: میں نے معلم کی اجرت کے بارے میں کسی کی کراہت نہیں سنی اور فرمایا: ابن سیرین بھی معلم کی اجرت کے بارے میں حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(ج) عطاء اور ابو قلابہ بچوں کو تعلیم دینے پر اجرت لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(د) حسن رحمہ اللہ سے منقول ہے: جب معلم اجرت طے کر لے اور عدل نہ کرے تو وہ ظالموں میں لکھا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11679]
تخریج الحدیث: «صحيح۔أخرجه ابن الجعد 1103»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11680
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ رَجَاءٍ الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحُلْوَانِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ، ثنا مُوسَى بْنُ خَاقَانَ، وَفَضَلُ بْنُ عِمْرَانَ الْأَعْرَجُ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" لَمْ يَكُنْ لِأُنَاسٍ مِنْ أُسَارَى بَدْرٍ فِدَاءٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ، قَالَ: فَجَاءَ غُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَبْكِي يَوْمًا إِلَى أَبِيهِ، فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: ضَرَبَنِي مُعَلِّمِي، قَالَ: الْخَبِيثُ يَطْلُبُ بِذَحْلِ بَدْرٍ، وَاللهِ لَا تَأْتِيهِ أَبَدًا".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بدر کے قیدیوں میں سے کچھ لوگوں کے پاس فدیہ نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فدیہ پر مقرر کیا تھا کہ وہ انصار کے بچوں کو لکھنا سکھا دیں۔ ایک دن انصار کا ایک بچہ روتا ہوا اپنے باپ کے پاس آیا۔ باپ نے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا: مجھے میرے استاد نے مارا ہے۔ اس نے کہا: خبیث آدمی بدر کا کینہ طلب کرتا ہے۔ اللہ کی قسم! آئندہ تو اس کے پاس نہ جانا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11680]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2466. -- باب: من كره أخذ الأجرة عليه
-- باب: اس شخص کا قول جس نے اس (قرآن) پر اجرت لینے کو مکروہ سمجھا۔
حدیث نمبر: 11681
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّوَاسِيُّ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ، فَأَهْدَى إِلِيَّ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَوْسًا، فَقُلْتُ: لَيْسَتْ بِمَالٍ، وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَسْأَلَنَّهُ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَهْدَى رَجُلٌ إِلِيَّ قَوْسًا مِمَّنْ كُنْتُ ⦗٢٠٧⦘ أُعَلِّمُ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ، وَلَيْسَتْ بِمَالٍ، وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، قَالَ:" إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ بِطَوْقٍ مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا".
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اہل صفہ کو لکھنا اور قرآن مجید پڑھنا سکھایا۔ ان میں سے ایک آدمی نے مجھے ایک کمان ہدیے کے طور پر دی۔ میں نے کہا: کوئی مال نہیں، میں اسے اللہ کے راستے میں پھینک دوں گا۔ میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کروں گا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے ایک آدمی نے لکھنے اور قرآن مجید کے بدلے کمان دی ہے، وہ مال تو نہیں، میں اسے اللہ کے راستے میں پھینکوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو پسند کرتا ہے کہ آگ کا طوق ڈالے تو اسے قبول کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11681]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11682
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ فِي حَدِيثِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ سَرَّكَ أَنْ تُطَوَّقَ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا" فِي الَّذِي عَلَّمَ الْكِتَابَةَ رَوَاهُ مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ الْمَوْصِلِيُّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَإِسْنَادُهُ كُلُّهُ مَعْرُوفٌ إِلَّا الْأَسْوَدَ بْنَ ثَعْلَبَةَ فَإِنَّا لَا نَحْفَظُ عَنْهُ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ قِيلَ: عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عُبَادَةَ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تجھے اچھا لگے کہ تو آگ کا طوق پہنے تو کتابت سکھانے پر اجرت لے لے۔“
علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی ساری سند معروف ہے سوائے اسود بن ثعلبہ کے، کیونکہ ہمیں ان سے اس حدیث کے علاوہ کوئی روایت محفوظ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11682]
علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی ساری سند معروف ہے سوائے اسود بن ثعلبہ کے، کیونکہ ہمیں ان سے اس حدیث کے علاوہ کوئی روایت محفوظ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11682]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح