السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2482. -- باب: إقطاع الموات
-- باب: بنجر زمینیں جاگیر کے طور پر دینے (اقطاع) کا بیان۔
حدیث نمبر: 11791
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَبُو خَالِدٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا مُحْرِزُ بْنُ وِزْرٍ، عَنْ أَبِيهِ وِزْرٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ عِمْرَانَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ شُعَيْثٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ عَاصِمٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ حُصَيْنِ بْنِ مُشَمِّتٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعَهُ بَيْعَةَ الْإِسْلَامِ وَصَدَّقَ إِلَيْهِ مَالَهُ،" وَأَقْطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيَاهًا عِدَّةً، فَسَمَّاهُنَّ، إِلَّا أَنَّ شَيْخَنَا لَمْ يَضْبِطْ أَسَامِيَ تِلْكَ الْمَوَاضِعِ" قَالَ:" وَشَرَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ مُشَمِّتٍ فِيمَا أَقْطَعَهُ إِيَّاهُ أَنْ لَا يُبَاعُ مَاؤُهُ، وَلَا يُعْقَدُ مَرْعَاهُ، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهُ".
سیدنا حصین بن مشمت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ وفد کی صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کرنے کی بیعت کی اور اپنا مال صدقہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانی کے کنویں بطور جاگیر دیے۔ ان کا نام لیا، لیکن ہمارے شیخ ان ناموں کو یاد نہ رکھ سکے۔ راوی کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر شرط لگائی جو ابن مشمت کو دیا کہ ”اس کا پانی فروخت نہ کیا جائے گا اور اس کی چراگاہ کو نہ کاٹے گا اور نہ اس کے درختوں کو کاٹے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11791]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔1»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11792
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ مَا بَيْنَ الْجُرُفِ إِلَى قَنَاةَ".
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو جرف سے قناۃ تک جاگیر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11792]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11793
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ قَالَ: كَانَ بِالْبَصْرَةِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ نَافِعٌ أَبُو عَبْدِ اللهِ، فَأَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنَّ بِالْبَصْرَةِ أَرْضًا لَيْسَتْ مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ، وَلَا تَضُرُّ بِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَكَتَبَ إِلَيْهِ أَبُو مُوسَى يُعْلِمُهُ بِذَلِكَ، فَكَتَبَ عُمَرُ إِلَى أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" إِنْ كَانَ لَيْسَتْ تَضُرُّ بِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَلَيْسَتْ مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ، فَأَقْطِعْهَا إِيَّاهُ".
محمد بن عبید اللہ ثقفی بیان کرتے ہیں کہ بصرہ میں ایک آدمی جس کا نام نافع ابو عبد اللہ تھا، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بصرہ میں ایسی زمین ہے جو نہ خراج والی ہے اور نہ ہی اس سے مسلمانوں کا نقصان ہے اور سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ (گورنر) نے آپ کو لکھا ہے تاکہ آپ کو علم ہو جائے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ اگر وہ ایسی زمین ہے جس سے نہ تو مسلمانوں کا نقصان ہو اور نہ خراجی ہے تو اسے بطور جاگیر اس کو دے دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11793]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11794
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ عَوْفٍ الْأَعْرَابِيِّ قَالَ: قَرَأْتُ كِتَابَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي مُوسَى:" أَنَّ أَبَا عَبْدِ اللهِ سَأَلَنِي أَرْضًا عَلَى شَاطِئِ دِجْلَةَ تَخْتَلِي فِيهَا خَيْلُهُ، فَإِنْ كَانَتْ لَيْسَتْ مِنْ أَرْضِ الْجِزْيَةِ، وَلَا يَجْرِي إِلَيْهَا مَاءُ الْجِزْيَةِ فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ".
عوف اعرابی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط پڑھا جو انہوں نے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھا تھا کہ ابو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دجلہ کے کنارے والی زمین مانگی ہے، جہاں اس کے گھوڑے چرتے ہیں۔ ”اگر وہ جزیہ والی زمین نہیں اور نہ ہی اس سے جزیہ کا پانی جاری ہوتا ہے تو وہ زمین بطور جاگیر اس کو دے دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11794]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 11795
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَقْطَعَ خَمْسَةً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الزُّبَيْرَ، وَسَعْدَ بْنَ ⦗٢٤٠⦘ مَالِكٍ، وَابْنَ مَسْعُودٍ، وَخَبَّابًا، وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَرَأَيْتُ جَارِي سَعْدًا وَابْنَ مَسْعُودٍ يُعْطِيَانِ أَرْضَيْهِمَا بِالثُّلُثِ".
موسیٰ بن طلحہ سے منقول ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے پانچ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جاگیر عطا کی۔ زبیر، سعد بن مالک، ابن مسعود، خباب اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم۔ پس میں نے دیکھا کہ سعد اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے اپنی زمینیں ایک تہائی پر جاری کر دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11795]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2483. -- باب: كتابة القطائع
-- باب: جاگیروں (اقطاع) کی تحریر لکھ کر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11796
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّهِيدُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ لِيَكْتُبَ لَهُمْ إِلَى الْبَحْرَيْنِ، فَقَالُوا: لَا وَاللهِ حَتَّى تَكْتُبَ لِإِخْوَانِنَا مِنْ قُرَيْشٍ بِمِثْلِهَا، فَقَالَ لَهُمْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللهُ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُونَ ذَلِكَ، قَالَ:" فَإِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً؛ فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ يَحْيَى فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: أَقْطَعَ الْأَنْصَارَ الْبَحْرَيْنَ، وَأَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ بِهَا كِتَابًا.
یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ ان کو بحرین کی زمین کی سند جاری کر دیں، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! جب تک آپ ہمارے قریشی بھائیوں کے لیے بھی ایسا نہ کریں گے، ہم بھی نہ لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تک اللہ نے چاہا ان سے یہی کہتے رہے اور وہ ہر بار یہی جواب دیتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تم دیکھو گے کہ میرے بعد تمہارے اوپر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی، پس تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھے مل لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11796]
تخریج الحدیث: «بخاري 2377»
الحكم على الحديث: بخاري 2377
حدیث نمبر: 11797
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ، وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ، وَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا مَا أَعْطَى مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ أَعْطَاهُ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا حَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ، وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ".
کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پرانی کانوں میں سے حصہ اور نشیبی حصہ اور حبان سے کھیتی صحیح سالم بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو دی اور کسی مسلمان کا حق نہیں دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے تحریر لکھی: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے“، ”یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بلال بن حارث کے لیے عطا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی پرانی کانوں سے کچھ زمین اور نشیبی زمین اور قابلِ زراعت زمین دی، لیکن کسی مسلمان کا حق نہیں دیا“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11797]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11798
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدٌ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو أُوَيْسٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ مَوْلَى بَنِي الدِّيلِ بْنِ بَكْرِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پچھلی روایت کی طرح منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11798]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11799
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ لِي:" مَا فَعَلَ الْمَسْلُولُ؟ قَالَ: قُلْتُ: هُوَ عِنْدِي، فَقَالَ: أَنَا وَاللهِ خَطَطْتُهُ بِيَدِي، أَقْطَعَ أَبُو بَكْرٍ الزُّبَيْرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَرْضًا، فَكُنْتُ أَكْتُبُهَا، قَالَ: فَجَاءَ عُمَرُ، فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْكِتَابَ، فَأَدْخَلَهُ فِي ثِنْيِ الْفِرَاشِ، فَدَخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: كَأَنَّكُمْ عَلَى حَاجَةٍ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: نَعَمْ، فَخَرَجَ، فَأَخْرَجَ أَبُو بَكْرٍ الْكِتَابَ فَأَتْمَمْتُهُ".
ہشام بن عروہ کے والد فرماتے ہیں: میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہوں نے مجھ سے کہا: ”تلوار کا کیا بنا؟“ میں نے کہا: ”وہ میرے پاس ہے۔“ انہوں نے کہا: ”میں نے اسے اپنے ہاتھ سے بنایا تھا۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو زمین دی، میں اس کو لکھنے والا تھا، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خط پکڑا اور بستر کی تہہ میں رکھ دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: ”تم کو کوئی کام تھے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہاں۔“ وہ چلے گئے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خط نکالا اور اسے پورا کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11799]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2484. -- باب:: سواء كل موات لا مالك له أين كان
-- باب: ہر وہ بنجر زمین جس کا کوئی مالک نہ ہو وہ برابر ہے، چاہے وہ کہیں بھی ہو۔
حدیث نمبر: 11800
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الظَّفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَلَوِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ ⦗٢٤١⦘ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، أنبأ فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ قَالَ: انْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ، فَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ وَمَسَحَ رَأْسِي، وَخَطَّ لِي دَارًا بِالْمَدِينَةِ بِقَوْسٍ، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أَزِيدُكَ؟".
عمرو بن حارث رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے میرے باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور میں اس وقت جوان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے برکت کی دعا کی اور میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور کمان کے ساتھ میرے لیے مدینہ میں گھر کا خط کھینچا، پھر فرمایا: ”کیا زیادہ کر دوں؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11800]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن ابي خيشمه في التاسخ 3624»
الحكم على الحديث: ضعيف